Rana Zeshan Sarwar Sarwar Khan
عنوانات
ذکر
خاندان بھاٹی/بھٹی راجپوت بالمطابق مستند پیڑھی نامہ و ونشاولی:
ذکر
خاندان بریاہ راجپوت رگھو بنسی
ہریانہ
کے پنوار راجپوتوں کی مستند تواریخ و پیڑھی نامہ:
یہ پوسٹ
ہریانہ کے راجپوتوں کے متعلق ہے۔
چھتیس
شاہی کھشتریہ راجپوت خاندان کی فہرست بالمطابق موجودہ دور بالحساب پراچین تواریخ:
اب یہاں
پر چھتیس مین شاہی خاندانوں کی فہرست درج کی جاتی ہے:
●راجہ
لو بن رامچندر والئی اجودھیا●
ذکر
خاندان بڈگوجر۔ سیکروال۔ پنہار۔ کہرار (رگھو بنسی)
میواتی
کھشتری خاندانوں کی ترتیب بنس وار پال اور گوت سے ہیں۔
راندو
پنوار راجپوت قبائل کی آبادی و دیہات کی تفصیل:۔
پنوار
راجپوت قبائل کی تفصیل بالمطابق مستند پیڑھی نامہ اور ذیلی شاخیں:
تومر/تنور/تنوار/تور
راجپوت قبائل بالمطابق مستند پیڑھی نامہ اور ذیلی خاندان
کھشتریہ
راجپوت گریٹ اسمبلی پاکستان پلیٹ فارم کی بنیاد و اغراض و مقاصد:
اکھنوریہ
و انبہ رائی اکھنوروالہ:۔
بحوالہ کتاب: نور
التواریخ بھٹی راجپوت
دیوراج بھٹی صدر مقام دیراول گڑھ
ذکر خاندان بھاٹی/بھٹی
راجپوت بالمطابق مستند پیڑھی نامہ و ونشاولی:
تحریر و تحقیق: رانا ذیشان
سرور خاں راندو پنوار راجپوت
بھاٹی/بھٹی داراصل
یادوبنسی/جادوبنسی کھشتریہ راجپوت ہیں۔ جو کہ سوم بنس/چندربنس خاندان سے ہیں۔
راجھستان و راجپوتانہ میں بھاٹی جبکہ پنجاب ہریانہ کی طرف بھٹی کہلاتے ہیں۔
شری برہما جی مہاراج کے پتر
اترے/اتری ہوئے۔ جس کے پتر ہوئے چندر عرف سوم۔ سوم سنسکرت کا شبدھ/اکھر ہے۔ جس کا
مطلب چاند کے ہے۔ سوم سے سوم بنس یا سوما ونش مشہور ہوئے۔ یہ خاندان سوم/چندر/اندو
بنس مشہور ہوا۔
سوم/چندر کا پتر بدھ ہوا جس
کی شادی سورج بنسی راجہ اکشواکو کی بہن ایلا سے ہوئی۔ بدھ کا پتر پروروا ہوا۔ اس
کا پتر آیو ہوا۔ آیو کا نہس۔ اور نہس کا ججات/ججاتی/ییاتی ہوا۔ اس کے تین پتر
ہوئے۔ اورداس۔ جادو/یادو/جدو/یدو
ہوا۔ جدو/یادو کے جدوبنسی/یادوبنسی
کہلائے۔ اس کی انتالیسویں پیڑھی میں ستوتی ہوئے۔
ستوتی کے تین پتر ہوئے۔ بینسی۔
دیوبرت۔ تک عرف اندک۔
تک عرف اندک کے دو پتر
ہوئے۔ بہجمن اور ککر۔
ککر سے کھوکر ونش چلا۔
تک عرف اندک کی گیارہویں پیڑھی
میں شری کرشن جی مہاراج عرف کنہیا اوتار ہوئے۔
سری کرشن جی مہاراج کا اک
پتر پردیومن ہوا۔ جس کے دوپتر انرودہ۔ بجرناتھ۔ بجرناتھ کے دو پتر ہوئے۔
بجر کے دو پتر نابھ/نابہہ
اور کہر/کھر ہوئے۔
کہر/کھر کے جادوبھان اور جاڑیجہ ہوئے۔
نابھ/نابہہ کی کافی پشتوں
بعد راجہ گج ہوئے۔ راجہ گج کے نام پر ہی گجنی/غزنی ہے۔ راجہ گجپت کا پتر سالباہن ہوا۔ جس کے نام پر
سالباہن پورہ ہے۔ اس کے پندرہ پتر ہوئے۔
سالباہن کا پتر بلند یا
بلونت ہوا۔ جس کے سات پتر ہوئے۔ رکش۔ سرمور۔ بھوپتی۔ بھاٹی راؤ۔ جنج۔ کولر۔ سگریو۔
بھاٹی راؤ کی پانچویں پشت میں
راجہ نرپت یا نرپتی ہوئے۔
نرپتی کی پانچویں پیڑھی میں
بھوج سی ہوئے۔ بھوج سی کے دو پتر ہوئے۔ مسور راؤ اور منگل راؤ۔ مسور راؤ سے مسور
راؤ کے بھٹی مشہور ہوئے۔
منگل راؤ کے سات فرزند
ہوئے۔ منگل راؤ کے فرزند منڈم راؤ کی پانچویں پشت میں منجہم راؤ ہوئے۔
منجہم راؤ کے تین پتر ہوئے۔
مولراج۔ گوکل۔ راؤ کہیر۔
راؤ کہیر کی نسل سے تاؤنی۔
چنڑ۔ تہیم خاندان ہوئے۔
مولراج کا راجپال۔ راجپال
کے دو پتر گیگو۔ ریتو ہوئے۔
راجہ نرپتی بھٹ نیر:
راجہ بھاٹی راؤ عرف بھٹی کے
بعد مشہور فرمانروا راجہ نرپتی بھٹنیر کا حکمران ہوا۔ 492بکرم بالمطابق 1435ء میں
تخت پر جلوہ فرما کر راج کیا۔ اس کے دو پتر تھے. ان دونوں بیٹوں میں باہم لڑائی ہو
گئی۔ بھائیوں میں وسیع سلطنت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ راجہ نرپتی نے جیتے جی
اپنے فرزند بجو جی عرف بجھتی خو تخت پر بھٹایا۔ پھر اپنے بڑے فرزند گجپتی کو گڑھ
گجنی پور کے علاقہ جات حصہ میں آئے۔ اور بجپتی کو حصار بھٹنیر حصہ میں ملے۔ راجہ
گجپتی جسے لاہور۔ گڑھ گجنی۔ رہتاس۔ کے علاقہ جات آئے۔ 521بکرم بالمطابق 464ء کو تخت پر بیٹھا۔ راجہ گجپتی نے دس سال راج کیا۔
اس کا اک پتر لوبھن رائے تھا۔ لوبھن رائے 531بکرمی بالمطابق 474ء میں تخت پر جلوہ
افروز ہوا۔ 530بکرمی بالمطابق 473ء میں
نوشہزاد ایران اپنے باپ نوشیروان سے ناراض ہو کر عیسائیت قبول کر کے اک جرار لشکر
لے کر گجنی پور پر حملہ کیا۔ اسے پامال کر کے وسط ایشیا کے بودھ راجاؤں کی مدد لے
کر پنجاب میں آیا۔ اور سات سال جنگ متواتر کر کے غزنی۔ لاہور۔ رہتاس۔ بھٹنیر۔ حصار
وغیرہ کل علاقہ جات بھٹیوں سے چھین کر واپس چلا گیا۔ جسکے ہاتھ سے گجپتی مارا گیا۔
اور پھر بجپتی اور چار سال متواتر لوہن رائے لڑتا ہوا مارا گیا۔ 455ء میں وسط ایشیا
کی سفید ہن قوم کے حملہ آوروں نے ٹیکسلا میں قتل و غارت کا بازار گرم کیا۔ اس شہر
کو منہدم کم کر کے ہمیشہ کے لیے خاک میں پیوست کر دیا۔ گپت خاندان کے زوال کے بعد منگولیا کی ہن قوم
نے ہندوستان پر حملہ کیا۔ اور 500ء کے قریب اس قوم کا سردار تورمان مالوہ کا راجہ
بن گیا۔ تورمان کے بعد مہرگل تخت پر بیٹھا۔ یہ بڑا ظالم اور بے رحم تھا۔ جب اس کا
ظلم حد سے بڑھ گیا تو 528ء میں ہندو راجاؤں نے اکھٹے ہو کر اسے ملتان کے قریب
کروڑپکہ پر شکست دی۔ مہرگل کشمیر کی طرف بھاگ گیا۔ اور ادھر ہی مر گیا۔ تینوں واقعات حقیقت میں اک ہیں۔ نوشیروان ایران کا بادشاہ 531ء میں تخت پر بیٹھا۔
579ء میں راہی عدم ہوا۔ جسکے بعد ہرمز تخت پر بیٹھا۔ حقیقت میں نوشہزاد نوشیروان کا بھائی تھا۔ اس نے وسط ایشیا کی سفید
ہن منگولیا قوم کے جرار لشکر سے گجنی پور (غزنی) 455ء پر حملہ کر دیا۔ اور تمام
علاقوں کو تاخت و تاراج کرتا ہوا ٹیکسلا آیا۔ ان کو منہدم اور مسمار کرتا ہوا راجہ
گجپتی بھٹی پر حملہ آور ہوا۔ جو 473ء میں ان کے ہاتھوں مارا گیا۔ اور پھر چچا بتیجھا
بجپتی اور لوہن رائے چار سال متواتر لڑتے رہے۔ لیکن عہدہ براء نا ہو سکے۔ ان معرکہ
آرائیوں میں پنجاب کے پڑہار۔ پونڈیر۔ بریاہ وغیرہ راجپوت زبردست اقوام جو بھٹیوں کی
باجگزار تھیں مگر ان کے دست ظلم سے تنگ تھیں۔ اس لیئے نوشہزاد سے مل گئیں۔ بھٹیوں
کی شکست کا باعث یہ قبائل تھے۔ نوشہزاد نے مفتوحہ علاقہ ان راجپوت قبائل میں تقسیم
کر دیا۔ اور غزنی کے تخت پر چگتو کی اولاد سے بھٹا دیا۔ مدت بعد نوشہزاد نے جرار
لشکر جمع کر کے ایران پر فوجکشی کی۔ نوشیروان کے ہاتھوں نوشہزاد مارا گیا۔ منگولیا
قوم کا لشکر واپس پنجاب آ کر آباد ہوا۔ جن کا سردار تورمان 500ء میں تخت پنجاب پر
جلوہ افروز ہوا۔ اور تمام اقوام کو باقاعدہ خراجگزار کیا۔ جب مہرگل تخت پر بیٹھا۔
اس کے ظلم و ستم سے لوگ تنگ آئے۔ تو پھر اپنے بادشاہوں کو یاد کیا۔ اس وقت گجپتی کی
اولاد سے بھوج سی موجود تھا۔ پنوار راجپوت کی مدد سے پھر کامیاب ہوا۔ اور مہرگل
کروڑپکہ میں شکست کھا کر کشمیر کو بھاگ گیا۔
راجہ بھوج سی بھٹی ثانی
سالباہن پور:
راجہ بھوج سی بھٹی نے بریاہ
قوم پر حملہ کیا۔ اور سالباہن پورہ پر قبضہ کر لیا۔ اور پونڈیر لاہور پر قابض تھے۔
راجہ بھوج سی بھٹی نے ماسوائے گجنی پور (غزنی) تمام علاقہ جات فتح کر لئے اور خوشی
کے شا
جاری شدیانے بجا کر لاہور
کے تخت پر قدم رکھا۔ اور اپنی قوم کا نام بھاٹی سے بدل کر بھٹی مشہور کیا۔ اور خود
بھٹی دوئم مشہور ہوا۔ اپنی زندگی میں ہی اپنے دونوں بیٹوں کو باہم ملک تقسیم کر دیا۔
تاکہ یہ آپس میں لڑ کر کمزور نا ہو اور ان کی لڑائی باعث ذلت نا ہو کہ دشمن حملہ
کر کے دونوں کو نکال کر قابض ہو جائیں۔ منگل راؤ کو بھٹنیر۔ حصار دیا۔ اور مسور
راؤ کو لاہور اور سالباہن پور دیا۔ منگل راؤ کے عہد میں بھوٹا یعنی گڑھ بھٹا کے
راجہ بھٹہ پنوار راجپوت تھے۔ اور پوگل کے فرمانروا پرمار اور دھات (امرکوٹ) کے
راجہ سوڈا پرمار راجپوت تھے۔ اور لودروا میں سوڈا اور لودرا راجپوت تھے۔ یہ سب
پرمار/پنوار راجپوت تھے۔
چونکہ بھٹیوں کی بریاہ اور
پونڈیر اور پڑھاڑ راجپوتوں سے دشمنی ہو چکی تھی۔ اس لیئے انہوں نے گجنی پور(غزنی)
کے بادشاہ پھر اس کے باپ مہرگل کے بدلہ کے لیئے اکسایا۔ تو انکی مدد سے دوندی شاہ نے لاہور پر فوجکشی کی۔
اور لشکر نے شہر کو گھیر لیا۔ مسور راؤ نے نے لاہور چھوڑ کر سالباہن پور میں
انتظام کیا۔ مگر جب رعایا بدل رہی تھی۔ تو مسور راؤ کے سالباہن پور میں چھکے چھوٹ
گئے۔ مسور راؤ نے لکہی جنگل کی راہ لی۔ اور وہاں کے کاشتکاروں کو زیر کر کے اس
علاقہ پر قابض ہو گیا۔ آخر کار دوندی شاہ نے بھٹنیر پر بھی شبخون مارا۔ تو منگل
راؤ اپنے فرزند منڈم راؤ کو لے کر امرکوٹ چلا گیا۔ منگل راؤ کی اولاد بھٹنیر میں
گھر گئی اور پیشہ وروں کے گھر چھپ گئی۔ تو ستی داس نامی بھومیہ جوہیا نے شکایت کی۔
اور بریاہوں نے سب کو گرفتار کر کے دریافت کیا۔ مگر سب نے اپنا علیحدہ علیحدہ پیشہ
ظاہر کیا۔ آخر کار بریاہوں نے انکو قتل کر کے انکی اولاد اسی طرح کمیان کو دی۔
جنکے جسکے گھر چھپے ہوئے تھے۔ انکی اولاد آجتک اسی پیشہ پر قائم ہے۔ اور وہ مارواڑ
سے پنجاب پھیل گئے۔ وقائعہ راجھستان صفحہ
376
مسور راؤ بھٹی لاہور:
راجہ بھوج سی بھاٹی کے بعد
منگل راؤ بھٹنیر کے تخت پر اور مسور راؤ لاہور پر قابض تھا۔ کہ یکایک دوندی شاہ
غزنی نے لاہور پر بریاہوں ساتھ گھیرا ڈالا۔ مسور راؤ سالباہن پور کا انتظام نا کر
سکا۔ اس نے لاکھی جنگل کی راہ لی۔ وہاں کے
کاشتکاروں کو زیر کر کے اس علاقہ پر قابض ہو گیا۔ لاکھی جنگل بھٹنڈہ سے جانب جنوب
اور اسی طرح ابھور اور بہاولپور کی جگہ تمام جنگل تھا۔ مسور راؤ کا سکہ تانبے کا
ہر ایک کھنڈر ویرانے سے دستیاب ہوتا ہے۔ مسور راؤ تقریبا چھٹی صدی کے اختتام پر
ہوا ہے۔
جاری ہے
تحریر و تحقیق: رانا ذیشان
سرور خاں پنوار
بانی: کھشتریہ راجپوت مہا
سبھا پاکستان
راجپوت ہسٹری ریسرچ انٹرنیشنل
راولپنڈی
کچھواہا راجپوت خاندان:۔
روپ سنگھ وت ۔
روپ سنگھ جی کی اولاد ہیں
جو راجہ پرتھوی راج کا بیٹا تھا۔
پورن مل وت۔
امبر کے راجہ پورن مل کی
اولاد ہیں۔ بارہ کوٹھڑی میں سے ایک
بانکاوت۔
بھگوان داس کی اولاد ہیں۔
جو راجہ بھارمل کا بیٹا تھا۔ اور بھگونت داس کا چھوٹا بھائی تھا ۔ان کو بانکے راجہ
کا لقب دیا گیا۔
راجاوت۔
بھگونت داس کی اولاد ہیں ۔
ان کی دوسری شاخیں راجاوت ہی کہلاتی ہیں کیرتی
سنگھ وت۔ درجن سنگھ وت ۔جھجر سنگھ وت ۔ وغیرہ ان کی کھانپیں ہیں۔
جگناتھ وت ۔
جگناتھ کی اولاد ہیں جو
راجہ بھارمل کا بیٹا تھا۔
سالھیدپوتا ۔
سالھیدی کی اولاد ہیں جو
راجہ بھارمل کا بیٹا تھا۔
سادوپوتا۔
ساردول کی اولاد ہیں جو
راجہ بھارمل کا بیٹا تھا
سندراسوت۔
سندر داس کی اولاد ہیں جو
راجہ بھارمل کا بیٹا تھا
رتناوت۔
الور پانچ ٹھکانوں سے نکاس
ہے ان کا۔ پانچ ٹھکانہ مہرو۔ نمیرہ ۔ کھیرا
یا کھیڑا ۔ تیلنجو ۔ کیروالیہ
رامچندروت۔
رامچندر کی اولاد ہیں جو
راجہ جگمل کا بیٹا تھا۔ رامچندر بھگونت
داس کے ہمرہ کشمیر چلا گیا اور وہیں سکونت اختیار کی۔ وہاں وہ ڈوگرا کہلاتے ہیں۔
سرتانوت۔
سرتان کی اولاد ہیں جو راجہ
پرتھوی راج کا بیٹا تھا ۔
بارہ کوٹھڑی میں سے ایک ۔
چتربھجوت۔
چتربھوج کی اولاد ہیں جو
راجہ پرتھوی راج کا بیٹا تھا ۔بارہ کوٹھڑی میں سے ایک ۔
بالبھدروت۔
بالبھدرا کی اولاد ہیں جو
راجہ پرتھوی راج کا بیٹا تھا ۔بارہ کوٹھڑی میں سے ایک ۔
پرتاپ پوتا۔
پرتاپ کی اولاد ہیں جو راجہ
پرتھوی راج کا بیٹا تھا ۔
رام سنگھ وت۔
رام سنگھ کی اولاد ہیں جو
راجہ پرتھوی راج کا بیٹا تھا
بھیکاوت۔
بھیکا کی اولاد ہیں جو راجہ
پرتھوی راج کا بیٹا تھا ۔
ناتھوت۔
ناتھا کی اولاد ہیں جو کہ
راجہ پرتھوی راج کا کے بڑے بیٹے گوپال کی اولاد سٹے تھے۔ بارہ کوٹھڑی میں سے ایک ۔
بھاگوت۔
بھاگا کی اولاد ہیں۔ جو کہ
راراجہ پرتھوی راج کے بڑے بیٹے گوپال کی اولاد سے تھے۔
دیوکرنوت۔
دیوکرن کی اولاد ہیں جو
راجہ پرتھوی کے بڑے بیٹے گوپال کی اولاد سے تھے ۔
کلیانوت۔
کلیان کی اولاد ہیں جو راجہ
پرتھوی راج کا بیٹا تھا ۔بارہ کوٹھڑی میں سے ایک
سینداسوت ۔
سین داس کی اولاد ہیں جو
راجہ پرتھوی راج کا بیٹا تھا
باسنی وال ۔
بہادر بھیشمال کی اولاد ہیں
جو جنگجو تھے
بھیلاوت۔
بھیلا کی اولاد ہیں ۔ جوکہ
بالا جی کا بیٹا تھا
بنجھانی ۔
بالا جی کے بیٹے بنجا کی
اولاد ہیں
سنگانی ۔
بالا جی کے بیٹے سانگا جی کی
اولاد ہیں ۔
جیتاوت۔
بالا جی کے بیٹے ڈنگرسنگھ
اور پوتے جیتا کی اولاد ہیں
شیبھرام پوتا۔
راجہ اودے کرن ک چھوٹے بیٹے
شیو بھرام کی اولاد ہیں ۔ بارہ کوٹھڑی میں
سے ایک
پاتل پوتا۔
راجہ اودے کرن کے پانچویں بیٹے
پاتل کی اولاد
پیتھل پوتا۔
راجہ اودے کرن کے چھٹے بیٹے
پیتھل کی اولاد ہیں
سامود کا کاچھوا ۔
راجہ اودے کرن کے ساتویں بیٹے
ناپا کی اولاد ہیں
بنویر پوتا۔
امبر کے راجہ بنویر کے
چھوٹے بیٹے کی اولاد ہیں۔ بارہ کوٹھڑی میں سے ایک ۔ بیرم پوتا ۔مینگل پوتا ۔ ہارجیکا
ان کی کانپھیں ہیں۔
کونبھاوت۔
امبر کے راجہ چندر سین کے
پتر کونبھا کی اولاد ہیں
بھیم پوتا(ناروارناروار
کاچھواہ) ۔
راجہ بھیم کی اولاد ہیں ۔
اس کے بیٹے آسکرن کو بادشاہ جہانگیر کی طرف سے ناروار کی جاگیر عطا ہوی تھی
پیچنوت۔
راجہ پرتھوی راج کے بیٹے
پہنچ کی اولاد ہیں۔بارہ کوٹھڑی میں سے ایک
کھانگروت ۔
جگمل کے بیٹے راو کھانگر کی
اولاد ہیں ۔بارہ کوٹھڑی میں سے ایک
دیلن وت ۔
راجہ دولا کے بیٹے دیلن کی
اولاد ہیں ۔ان کا مرکز ٹھکانہ لاہر ہے
بیکل پوتا۔
راجہ دولا کے تیسرے بیٹے بیکل
کی اولاد ہیں ۔
مدھیہ پردیش اور اتر پردیش
جالون چلے گئے
جھماوت۔
راجہ کنکل ک بڑے بیٹے جھاما
کی اولاد ہیں ۔ ان کے مرکزی ٹکھانہ مید
اور کنڈل ہیں
گہلوٹ۔
راجہ کنکل دیو کے بیٹے گھیلن
کی اولاد ہیں ۔ یہ گوالیار ۔اڑیسہ ۔رامپورہ چلے گئے۔
رالنوت۔
راجہ کنکل دیو کے بیٹے رالن
کی اولاد ہیں ۔ نینسی کی دور میں منوہرپور چلے گئے ۔
دیلنپوتا ۔
راجہ کنکل کے چھوتے بیٹے دیلن کی اولاد ہیں ۔ گوالیار چلے
گئے
جیتل پوتا ۔
راجہ مالیسی دیو کے بیٹے جیتل
کی اولاد ہیں
تلچیر کا کچھواہا۔
راجہ بیجل دیو کے بیٹے
بگا بھولا اور نارو کی اولاد ہیں ۔کٹک اور
اڑیسہ میں نئی راجدھانی بنائی۔
النوت (جوگیجوگی کچھواہا )
۔
راجہ کنتل دیو الن کی اولاد ہیں
پردھان کچھواہا ۔
راجہ پنجون دیو جو پردھان
کے نام سے مشہور تھا اس ک بیٹوں بھینو سی اور لکھن سی کی اولاد ہیں
ساون پوتا۔
راجہ راج دیو کے بیٹے ساونت
کی اولاد ہیں
کھینوت۔
کھن رائے کی اولاد ہیں
سیا پوتا۔
راجہ راج دیو کے بیٹے سیا کی اولاد ہیں
بیکاسی پوتا ۔
راجہ راج دیو کے بیٹے بیکاسی
کی اولاد ۔
پیلاوت۔
راجہ راج دیو کے بیٹے پیلا
کی اولاد ہیں
بھوجراج پوتا ۔ (ردھراکا) ۔
راجہ راج دیو کے بیٹے بھوجراج کی اولاد
ہیں ۔ بھوجراجپوتا۔ ردھراکا۔ ان کیکی کھانپیں ہیں۔ بیکاپوتا ۔ گاڈ کا۔
ساونت سی پوتا۔ انکیانکی دیگردیگر کھانپیں ہیں۔
بیکم پوتا ۔
راجہ راج دیو کے بیٹے وکرم
سی کی اولاد ہیں
کھینوراج پوتا ۔
راجہ کلہن دیو کے بیٹے کھینوراج
کی اولاد ہیں
دشرت پوتا ۔
راجہ راج دیو کے بڑے بیٹےبیٹے
دشرتدشرت کی اولاد ہیں
باڈھواڈا۔
راجہ کنتل دیو کے بڑے بیٹے
باڈھوا کی اولاد
جسراپوتا ۔
راجہ کلہن دیو کے بیٹے
جسراج کی اولاد ہیں
ہمیردے کا۔
راجہ کنتل دیو کے بیٹے ہمیر دیو کی اولاد ہیں
مہپانی ۔
راجہ کنتل دیو کے بیٹے ناپا
یا مہاپا کی اولاد ہیں
بھکروت۔
راجہ کنتل دیو کے بڑے بیٹے
بڈاسی کے پتر بھاکرکی اولادہیں
ساروان پوتا ۔
راجہ کنتل دیو کے بیٹے
ساروان کی اولاد ہیں
ناپاوت۔
راجہ کنتل دیو کے بیٹے جیت مل کی اولاد ہیں
تونگیا کچھواہا ۔
راجہ کنتل دیو کے بیٹے تونگیا
کی اولاد ہیں
سوجاوت۔
راجہ کنتل دیو کے بیٹے سوجا
کی اولاد ہیں
دھیراوت ۔
راجہ کنتل دیو کے بڑے بیٹے
کھینوراج کے بیٹے دھیرو کی اولاد ہیں
اگراوت ۔
راجہ جوناسی کے بیٹے جسکرن
کے بیٹے اگرا کی اولاد ہیں
سمیشور پوتا ۔
راجہ کلہن دیو کے بیٹے سمیشور
کی اولاد ہیں ۔ راناوت ۔ بھاگوت ۔چتوریکا ۔ وغیرہ کھانپیں ہیں۔
سنگھاڈے ۔
راجہ جوناسی کے چھوتے بیٹے
سنگھا کی اولاد ہیں
کنبھانی۔
راجہ جوناسی کے تیسرے بیٹے
کونبھا کی اولاد ہیں ۔بارہ کوٹھڑی میں سے ایک جے پور
ناروکا۔
راو برسنگھ کے بڑے بیٹے کے
اولاد میں سے راو نارو اور راو میراج کی اولاد ہیں ۔برسنگھ اودے کرن کا سب سے بڑا
بیٹا تھا ۔ دسوت۔ للاوت ۔رتناوت ۔ ان کی کھانپیں ہیں ۔
میلکا۔
ساونت سنگھ کے بیٹے مالک کی اولاد ہیں ۔جو برسنگھ کا بیٹا تھا
سیکھاوت/شیخاوت ۔
راو سیکھا جی کی اولاد ہیں
۔ راو سیکھا جی راو موکل جی کے بیٹے تھے۔ جوکہ راو بالو جی کے بڑے بیٹے تھے۔ اور
وہ راجہ اودے کرن کے تیسرے بیٹے تھے۔ جو امبر کے راجہ تھے۔ تکنت ۔لاڈخانی ۔راوجیکا
۔ بھوجراجیکا ۔ گردارجیکا ۔ وغیرہ کھانپیں ہیں ۔ یہ کچھواہا راج ونش کا بڑا خاندان
ہے۔ Rana Ashir Shekhawat
بالا پوتا ۔
بالا جی کے بیٹوں کھینوراج ۔ گوبنداس ۔ اور ناتھا کی اولاد ہیں ۔
انہوں نے چندرسین کی حمایت کی تھی جب چندرسین کی لڑائی سیکھا جی سے ہوئی۔
موکاوت۔
بالا جی کے بیٹے موکا جی کی
اولاد ہیں ۔
تحریر و تحقیق:۔
رانا ذیشان سرور خاں
پنوار
بانی: کھشتریہ راجپوت مہا
سبھا پاکستان
راجپوت ہسٹری ریسرچ انٹرنیشنل
3/فروری/2024
ہفتہ
ذکر خاندان بریاہ
راجپوت رگھو بنسی
بحوالہ کتاب: گلشن راجپوت
جلد دوئم
مصنف/مؤلف/مورخ/محقق:
مولانا نور محمد خاں پنوار راندو راجپوت
تحریر و تحقیق: رانا ذیشان
سرور خاں پنوار راندو راجپوت
فاؤنڈر: پاکستان کھشتریہ
راجپوت گریٹ اسمبلی
راجپوت ہسٹری ریسرچ انٹرنیشنل
یہ خاندان سورج بنسی/رگھوبنسی
راجپوتوں کے ابتدائی خاندانوں میں سے ہے۔
دیو ستھ منو کے پتر اکشواکو کی ستاون پیڑھی میں راجہ رام چندر ہوئے۔
رام چندر جی کے دو پتر لو اور کش ہوئے۔
لو کی تیسری پیڑھی میں راجہ
نل ہوئے۔
راجہ نل کے پتر نابھ ہوئے۔
نابھ کا پتر پنڈیرک ہوا۔ پونڈیرک سے
خاندان پنڈیر نامزد ہوا۔
پونڈیرک کی چالیسویں پیڑھی
میں راجہ برھی المعروف بارہ ہوا۔
راجہ برھی المعروف باراہ کی
پینتیسویں پیڑھی میں راجہ جیت براہ ہوا۔
راجہ جیت براہ کی نسل سے ہیڑی۔
راٹھی۔ کوکارا۔ سناوا۔ جھورڑ۔ جھنگڑ۔ واہر ہوئے۔
واہر کے دو بیٹے گل اور
مہانچل ہوئے۔
راجہ برہد راج کے پتر راجہ
برھی المعروف باراہ سے براہ خاندان مشہور ہوا۔ راجہ رنجہ کے دو فرزند ہوئے سنجیہ-سانجیہ سنجیہ جموال و چمیال وغیرہ خاندان کا مورث اعلی
ہوا۔ اور سانجیہ کی اولاد براہ مشہور ہوئی۔
کیونکہ راجہ باراہ نے دریائے گارا پر اپنے نام کا شہر بسایا۔ جس کا نام براہ نگری
تھا۔ جس کے کھنڈر آج تک موجود ہیں۔ اسی کی نام سے دریائے بیاہ ہوگیا جس کو دریائے
بیاس کہتے ہیں۔ جو اس جگہ قابض رہے وہ
براہ کہلائے۔
جس وقت راجہ منگل راؤ بھٹی
دریائے گارا کے جنگلوں میں پناہگزین ہوا تھا۔ پھر دریا عبور کر کے ایک اور علاقہ
پر قابض ہوا۔ اسی زمانہ میں دریائے مذکور
کے ساحل پر قوم براہ کا مسکن تھا۔ براہنگر کے نذدیک راجہ سوڈھا پنوار کی رضا مندی
سے اسجگہ قیام کیا۔ یہ زمانہ سنہ 700 بکرمی کا تھا۔
راجہ جیت براہ بڑا مشہور
گزرا ہے۔ راجہ جرت کیہر بھاٹی کا ہمعصر گزرا ہے۔ جو کہ سنہ 787
بکرمی بالمطابق 731 عیسوی جبکہ لڑائی ہوئی۔ اس فتح کی یادگار میں تنو دیوی کے نام
پر قلعہ تنوٹ تعمیر کرایا۔ یہ قلعہ براہ نگر کی حدود میں تھا۔ اس پر راجہ جرت براہ
نے راجہ کیہر بھٹی پر چڑھائی کر دی۔ آخر راجہ جرت براہ کمزور ہوا۔ اس نے صلح کی پیشکش
کی دونوں میں صلح ہوئی۔ راجہ جرت براہ نے اپنی لڑکی کا ناطہ کیہر کے بھائی مولراج
کو دیا۔
راجہ بنے پال جرت براہ کا
فرزند تھا۔ بعض کے خیال میں جرت براہ کا پتر جودھ ہوا اور جودھ کا پتر بنے پال
ہوا۔ کہتے ہیں کہ آخر راجہ بنے پال شکست کھا کر براہ نگری کو چھوڑ کر جنگل پنجاب
لکہی چلا آیا۔ بحوالہ ٹاڈ راجھستان۔
ہاکڑہ ندی کے کنارے پر اچھی
جگہ دیکھ کر راجہ بنے پال براہ نے سنہ 874 بکرمی میں اپنے نام پر شہر بھٹنڈہ آباد
کیا۔ جو آجتک بڑا مضبوط قلعہ موجود ہے۔ بڑا بلند اور مستحکم ہے۔ اس کے بے شمار برج
ہیں۔ دروازہ قلعہ بھٹنڈہ کا شرق طرف ہے۔ جس میں بے شمار اسلحہ دبا پڑا ہے۔ راجہ بنے پال کی تصویر ابتک قائم ہے۔
@highlight
جاری ہے۔
ہریانہ کے پنوار راجپوتوں کی
مستند تواریخ و پیڑھی نامہ:
تحریر و تحقیق: رانا ذیشان
سرور خاں پنوار راندو راجپوت
بانی: پنوار راجپوت ہسٹری ریسرچ
انٹرنیشنل
بانی:پنوار راجپوت اتحاد
انٹرنیشنل
بانی: آل پاکستان کھشتریہ
راجپوت گریٹ اسمبلی
کلیان سنگھ و بھوان سنگھ
دونوں 972 میں پیدا ہوئے۔ دونوں خوبصورت جوان تھے۔ انکے والد/پتا/باپ مانکدے نے ان
دونوں راجکماروں کو اٹھارہ سال تک تعلیم و تربیت میں رکھا۔ اس وقت راجہ اننگ پال
جو کہ راجہ کنہہ کا بیٹا تھا۔ جو کہ خاندان تومر/تنور/تور سے تھا۔ اس کا دہلی میں
راج تھا۔ اور جبکہ مانکدے دھارانگری کے کسی علاقہ میں راج کر رہا تھا اور حکمران
تھا۔ اس وقت راجہ اننگپال تومر کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ اس کی دو راجکماریاں تھیں۔ ایک راجکماری کا نام بساردے تھا۔ جس کی شادی کلیان
سنگھ سے ہوئی۔ دوسری بڑی بھوان سنگھ سے بیاہی
گئی۔
ان کی شادی کا مفصل ذکر یوں
ہے کہ راجہ اننگپال تومر کو مدت سے دونوں راجکماریوں کے رشتے کی تجویز تھی۔ ان کو
خاندان پنوار میں رشتہ داری کرنے کی بہت
خواہش تھی۔ ادھر ادھر پیغام شادی کے جاری تھے۔ مگر کوئی رشتہ موافق طبیعت کا نہیں ملتا تھا۔
جب کلیان سنگھ و بھوان سنگھ
دونوں جوان ہوئے اور تحصیل علوم سے فراغت پائی تو راجہ مانکدیو نے ان کے رشتہ کی
تجویز ٹھہرائی۔ چندر بھاٹ اور کاگون ڈوم کو بلا کر ایک مراسلہ کلیان سنگھ و بھوان
سنگھ کی نسبت کے مضمون لکھا۔ اور راجہ اننگپال کے یہاں بیجھا۔ جب یہ دونوں مراسلہ لے کر دہلی پہنچے ۔ راجہ
اننگپال تومر نے ان دونوں کے رشتوں کو منظور کیا۔ کیونکہ پہلی بات تو یہ دونوں
پنوار راجپوت گھرانہ کے چشم و چراغ و راجکوار تھے۔ دوسری بات ان کی لیاقت و خوبصورتی کی شہرت
زمانہ میں عام تھی۔ تیسری بات یہ راج گدی
کے حق دار تھے۔ ان تمام اوصاف کی بنیاد پر
ان کو اننگپال تومر نے منظور کیا۔ اور
بجواب مراسلہ مرسلہ مانک دیو شادی کی تاریخ
اور منظوری کے فقرات بشوق زیب و رقم فرما کر ہر دو قاصدان کو با رسم رسوم
رخصت کیا۔ اور دونوں لڑکیوں کا ناریل بیجھا۔ مانک دیو دونوں کے انتظار میں تھا۔ جب
یہ دونوں دربار خاص میں حاضر ہوئے۔ تو راجہ مانکدیو ان دونوں کو دیکھ کر بہت خوش
ہوا۔ ان دونوں نے بعد تعظیم مودبانہ مراسلہ پیش کیا۔ مانکدے جواب سن کر محظوظ خاطر
ہوا۔ اور دونوں راجکماروں کی شادی میں مصروف ہوگیا۔
ادھر راجہ اننگپال تومر نے
شادی کے سامان مہیا کیے۔ مقررہ تاریخ پر دونوں
راجکماروں کی شادی بڑے جلوس کے ساتھ منعقد ہوئی۔ وداع کے موقع پر اننگپال تومر نے ماسوائے دیگر
سامان و لوازمات دیگر کے بہتر گاؤں بھوان سنگھ کو اور ستر گاؤں کلیان سنگھ کو یعنی
142 مواضعات دان میں دیئے۔ یہ جملہ مواضعات کرنال سے لے کر علاقہ شہر دادری تک
آباد ہیں۔ کلیان سنگھ کی حد گوہانہ سے دادری تک
اور بھوان سنگھ کی گوہانہ سے کرنال تک بستہ ہوئی۔ کلیان سنگھ کے ستر
مواضعات حسب ذیل ہیں۔
چڑی۔ چاندی۔ گرناوٹھی۔
بجوانہ۔ قرمانہ۔ ندانہ۔ دھنانہ۔کہیرڑی۔کہرک۔ کیلنگا۔ بہلبہہ۔ بملہ۔ سانکاہڑہ۔
رلاٹا۔ کنیٹی۔ پوٹھی۔ بھاگی۔ ماتور۔ لڈائن۔ بہروڑ۔ سانکودڑ۔ رکہی۔ کانہی۔ پوٹہی۔
کایلہ۔جسیہ۔موئی۔دکھی۔ ریڑے۔ رٹھال۔ نڑانہ۔ جائب۔ گوراوڑ۔ سامڑ۔ سانوڑ۔ بوند۔
بڈالہ۔ مانیڈھو۔ دھاریڑو۔ گہوگڑھ۔ سرسہ۔ چانگ۔ رانیلہ۔ پلانہ۔ سالجروانس۔
کولہاداس۔ چول۔ پھوگواٹ۔ لانبے۔ فرضل الہ پور۔
راولدہی۔ کھڑکھڑہ۔ بسانہ۔ موکہرہ۔ کھرنیٹی۔ سیسر۔ مدینہ۔ ڈولیہ۔ کہریلہ۔
بہالی۔ کھیڑی۔ ریواڑی۔ تیتری کھیڑہ۔ کروتھ۔ مانیہ۔ بینسی۔ لاہلی۔ سے۔ گوگا ہیڑی۔
کٹیرہ۔ جلوانہ۔
جاری ہے
#Arya #Aryan #آرین #راجپوت_محکمہ #پنجابی #rajput #panwar #tanwar #toor
[1:02 pm, 11/03/2025] Rana Zeshan
Sarwar Khan, Rawalpindi: ہریانہ کے پنوار راجپوتوں کی
مستند تواریخ و پیڑھی نامہ:
تحریر و تحقیق: رانا ذیشان
سرور خاں پنوار راندو راجپوت
بانی: پنوار راجپوت ہسٹری ریسرچ
انٹرنیشنل
بانی:پنوار راجپوت اتحاد
انٹرنیشنل
بانی: آل پاکستان کھشتریہ
راجپوت گریٹ اسمبلی
کلیان سنگھ و بھوان سنگھ
دونوں 972 میں پیدا ہوئے۔ دونوں خوبصورت جوان تھے۔ انکے والد/پتا/باپ مانکدے نے ان
دونوں راجکماروں کو اٹھارہ سال تک تعلیم و تربیت میں رکھا۔ اس وقت راجہ اننگ پال
جو کہ راجہ کنہہ کا بیٹا تھا۔ جو کہ خاندان تومر/تنور/تور سے تھا۔ اس کا دہلی میں
راج تھا۔ اور جبکہ مانکدے دھارانگری کے کسی علاقہ میں راج کر رہا تھا اور حکمران
تھا۔ اس وقت راجہ اننگپال تومر کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ اس کی دو راجکماریاں تھیں۔ ایک راجکماری کا نام بساردے تھا۔ جس کی شادی کلیان
سنگھ سے ہوئی۔ دوسری بڑی بھوان سنگھ سے بیاہی
گئی۔
ان کی شادی کا مفصل ذکر یوں
ہے کہ راجہ اننگپال تومر کو مدت سے دونوں راجکماریوں کے رشتے کی تجویز تھی۔ ان کو
خاندان پنوار میں رشتہ داری کرنے کی بہت
خواہش تھی۔ ادھر ادھر پیغام شادی کے جاری تھے۔ مگر کوئی رشتہ موافق طبیعت کا نہیں ملتا تھا۔
جب کلیان سنگھ و بھوان سنگھ
دونوں جوان ہوئے اور تحصیل علوم سے فراغت پائی تو راجہ مانکدیو نے ان کے رشتہ کی
تجویز ٹھہرائی۔ چندر بھاٹ اور کاگون ڈوم کو بلا کر ایک مراسلہ کلیان سنگھ و بھوان
سنگھ کی نسبت کے مضمون لکھا۔ اور راجہ اننگپال کے یہاں بیجھا۔ جب یہ دونوں مراسلہ لے کر دہلی پہنچے ۔ راجہ
اننگپال تومر نے ان دونوں کے رشتوں کو منظور کیا۔ کیونکہ پہلی بات تو یہ دونوں
پنوار راجپوت گھرانہ کے چشم و چراغ و راجکوار تھے۔ دوسری بات ان کی لیاقت و خوبصورتی کی شہرت
زمانہ میں عام تھی۔ تیسری بات یہ راج گدی
کے حق دار تھے۔ ان تمام اوصاف کی بنیاد پر
ان کو اننگپال تومر نے منظور کیا۔ اور
بجواب مراسلہ مرسلہ مانک دیو شادی کی تاریخ
اور منظوری کے فقرات بشوق زیب و رقم فرما کر ہر دو قاصدان کو با رسم رسوم
رخصت کیا۔ اور دونوں لڑکیوں کا ناریل بیجھا۔ مانک دیو دونوں کے انتظار میں تھا۔ جب
یہ دونوں دربار خاص میں حاضر ہوئے۔ تو راجہ مانکدیو ان دونوں کو دیکھ کر بہت خوش
ہوا۔ ان دونوں نے بعد تعظیم مودبانہ مراسلہ پیش کیا۔ مانکدے جواب سن کر محظوظ خاطر
ہوا۔ اور دونوں راجکماروں کی شادی میں مصروف ہوگیا۔
ادھر راجہ اننگپال تومر نے
شادی کے سامان مہیا کیے۔ مقررہ تاریخ پر دونوں
راجکماروں کی شادی بڑے جلوس کے ساتھ منعقد ہوئی۔ وداع کے موقع پر اننگپال تومر نے ماسوائے دیگر
سامان و لوازمات دیگر کے بہتر گاؤں بھوان سنگھ کو اور ستر گاؤں کلیان سنگھ کو یعنی
142 مواضعات دان میں دیئے۔ یہ جملہ مواضعات کرنال سے لے کر علاقہ شہر دادری تک
آباد ہیں۔ کلیان سنگھ کی حد گوہانہ سے دادری تک
اور بھوان سنگھ کی گوہانہ سے کرنال تک بستہ ہوئی۔ کلیان سنگھ کے ستر
مواضعات حسب ذیل ہیں۔
چڑی۔ چاندی۔ گرناوٹھی۔
بجوانہ۔ قرمانہ۔ ندانہ۔ دھنانہ۔کہیرڑی۔کہرک۔ کیلنگا۔ بہلبہہ۔ بملہ۔ سانکاہڑہ۔
رلاٹا۔ کنیٹی۔ پوٹھی۔ بھاگی۔ ماتور۔ لڈائن۔ بہروڑ۔ سانکودڑ۔ رکہی۔ کانہی۔ پوٹہی۔
کایلہ۔جسیہ۔موئی۔دکھی۔ ریڑے۔ رٹھال۔ نڑانہ۔ جائب۔ گوراوڑ۔ سامڑ۔ سانوڑ۔ بوند۔
بڈالہ۔ مانیڈھو۔ دھاریڑو۔ گہوگڑھ۔ سرسہ۔ چانگ۔ رانیلہ۔ پلانہ۔ سالجروانس۔ کولہاداس۔
چول۔ پھوگواٹ۔ لانبے۔ فرضل الہ پور۔
راولدہی۔ کھڑکھڑہ۔ بسانہ۔ موکہرہ۔ کھرنیٹی۔ سیسر۔ مدینہ۔ ڈولیہ۔ کہریلہ۔
بہالی۔ کھیڑی۔ ریواڑی۔ تیتری کھیڑہ۔ کروتھ۔ مانیہ۔ بینسی۔ لاہلی۔ سے۔ گوگا ہیڑی۔
کٹیرہ۔ جلوانہ۔
جاری ہے
#Arya #Aryan #آرین #راجپوت_محکمہ #پنجابی #rajput #panwar #tanwar #toor
[1:03 pm, 11/03/2025] Rana Zeshan
Sarwar Khan, Rawalpindi: ہریانوی راجپوت:
یہ پوسٹ ہریانہ کے راجپوتوں
کے متعلق ہے۔
ہریانہ کے راجپوت رانگھڑ
کہلواتے اور مشہور ہیں۔
رانگھڑ داراصل رن۔
گڑھ۔ رن کا مطلب میدان جنگ اور گھڑ کا
مطلب تراشنا یا بنانا یا تیار کرنا۔ یعنی
ایسا یودھا جو میدان جنگ کے لیے گھڑا جائے وہ رنگھڑ کہلاتا ہے۔ اور پراچین سمے سے
ہی یہ اصطلاح کشتریوں/راجپوتوں کے لیے برتی جاتی تھی۔ اور جس طرح کشتری کا دوسرا نام راجپوت ہے۔ اسی
طرح راجپوت کا دوسرا نام رنگھڑ ہے۔ جو کہ
آجکل رانگھڑ مستعمل ہے۔
پاکستان اور انڈیا میں
رانگھڑ اک کمیونٹی/سماج کے طور پر موجود ہیں۔
اور ہریانہ۔ میوات۔ اترپردیش پنجاب میں موجود ہیں۔ اور مغربی پنجاب میں بھی کچھ پنجابی راجپوت بھٹی
و پھلروان رانگھڑ کہلاتے ہیں۔ سیالکوٹ۔ لاہور۔ ساہیوال کی طرف۔
اکثر لوگ ہریانوی کو رانگھڑی
زبان کہتے ہیں یا سمجھتے ہیں۔ لیکن رانگھڑی کوئی زبان یا کسی بنیادی زبان کا لہجہ
نہیں بلکہ اک صفاتی اصطلاح یا لقب ہے۔ جو
راجپوتوں کے لیے خاص ہے۔ ہر اک
راجپوت رانگھڑ بھی ہے۔
ہریانہ کے راجپوت ہریانوی
زبان بولتے ہیں۔ اور اس زبان کو عرف عام میں کھڑی بولی بھی کہتے ہیں۔ اور اس زبان کے بھی مختلف لہجہ ہیں جو دلی میوات
گڑگاوں دلی ہاپڑ اترپردیش کے وہ علاقہ جو دلی اور ہریانہ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
اور دوسری طرف سے مدھیہ پردیش۔ اور راجھستان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ تو اس بولی کے لہجے مختلف بولیوں کے ساتھ مکس
ہوئے ہوئے ہیں۔ جیسے ہریانوی+پنجابی۔ ہریانوی+باگڑی۔ ہریانوی+مارواڑی۔ ہریانوی+بھوجپوری وغیرہ۔
اک کبت بہت مشہور و عام ہے:
جنگل جاٹ نا چھیڑیئے
ہٹاں بیچ کراڑ
رنگھڑ کدی نا چھیڑیے
جد جد کرے بگاڑ
ہریانوی راجپوتوں میں
مندرجہ ذیل خاندان نمایاں ہیں۔
پرمار/پنوار۔ چوہان۔ مڈاڈھ۔ سیکروار۔
تنوار۔ بھٹی۔ جوئیہ۔ بریاہ۔ نارو۔ سولنکھی۔ وغیرہ
جاری ہے۔
تحریر و تحقیق: رانا ذیشان
سرور خاں پنوار
راجپوت ہسٹری ریسرچ انٹرنیشنل
05/12/2024
چھتیس شاہی کھشتریہ راجپوت
خاندان کی فہرست بالمطابق موجودہ دور بالحساب پراچین تواریخ:
List of the thirty-six royal
Kshatriya Rajput dynasties according to the present era by reckoning with
ancient dates:
چھتیس شاہی خاندانوں کی ترتیب
کے حوالہ سے اک مشہور کبت ہے کہ
دس سورج بنس
دس روی بنس
بارہ رشی بنس
چار اگنی کل
کل چھتیس بکھان
There is a famous quote about the
order of the thirty-six royal families:
Ten Sun Bans,
Ten Ravi Bans,
Twelve Rishi Bans,
Four Agnikul
Total, Thirty-Chatees Bukhans.
ضروری نوٹ:
اگر کوئی قبیلہ یا شخص یعنی
فرد واحد خود کو کھشتریہ راجپوت سے ماخذ
بتاتا ہے یا سمجھتا ہے یا تعلق رکھتا ہے
تو یہ ضروری ہے کہ وہ خود کو چھتیس شاہی خاندانوں میں سے کسی اک خاندان سے
ثابت کرے۔
Important Note:
If any clan or person i.e.
individual claims or considers himself to be of Kshatriya Rajput origin or
belonging, he must prove himself from one of the thirty-six royal families.
اب یہاں پر چھتیس مین شاہی
خاندانوں کی فہرست درج کی جاتی ہے:
Now here is the list of the
thirty-six royal families:
●پرمار/پنوار
•مہپاوت۔
کاباوت۔ رانوت/راندو۔ بھائلہ۔ ڈوڈ۔ سوڈھا۔ اومٹ۔ بجولیا۔ کھرل۔ ڈھڈی۔ سولہن۔
بھوہڑ۔ پترا۔ جھیڈو۔ ہنجرا۔ ڈاہا۔ متڑ۔ چھینی۔ روپال۔ انبہ رائی۔ پھلروان۔ راں۔
دھول۔ وراہ۔ سنسرال۔ بنگیال۔ ٹوانہ۔ گھیبہ۔ سیال۔ جپال۔ کرارو۔ کیران۔ وارن۔ بیٹو۔
داندھو۔ میکن۔ جگرا۔ ہون۔ بھٹا۔ سومرا۔ اومرا۔ سانکھلا۔ اروڑہ۔ موری۔ چنا۔
● Parmar/Panwar
•Mahpawat. Kabawat. Ranaut/Rando.
Bhaila. Dod. Sodha. Omat. Bajolia. Kharl. Dhudi. Solhan. Bhohar. Patra. Jhedu. Hunjra.
Mattar. Cheeni. Rupal. Anba Rai.
Phularwan. Varah. Sansaral. Bangial.
Tiwana. Gheba. Sial. Japal. Kiraru. Kieran. Warren. Baitu. Jugra. Hon.
Butta. Sumra. Omra Sankhla Aurora.
Mori. Chana.
●چوہان
•سونی
گرا۔ دیوڑا۔ موہل۔ کیچی/کھچی۔ سرویا۔ رانیت۔ سہو۔ باگھوڑ۔ چیکھا۔ باگوئیچا۔ دھودیا۔
تشٹ وال۔ سوڑت۔ برہ بل۔ چھوپا۔ پابیجا۔ مالیچا۔ چتراور۔ سلاوت۔ پوربیا۔ بالیا۔
سوالکھیا۔ ٹاک پنڈیا۔ چاہود۔ کیسروا۔ جھمبریا۔ چنڈالہ۔ چیرنگا۔ جانگڑا۔ بوڑا۔ کھڑیا۔
میکلا۔ گیلا۔ چاندا۔ بہدوریا۔
●Chauhan
•Songra. Deora. Mohel. Kechi/Khichi. Seroya. Sahu۔ Bhagoor۔
Cheeka. Bagoicha. Dhodia. TashatWal. Sorat. BarahBal. Chopard. Pabija. Malicha.
Chatarawar. Salawat. Portia. Balia. Sawalakhia.Takpandia. chaood. kesarwa.
Jhambria.Chandala. Chenango. Jangra. Bora. Kharia. Mekla. Gela. Chanda.
Bhadoria.
●سوم/چندر بنسی
•جادیجہ۔ یادو۔
بھاٹی۔ جنجوعہ۔ تومرا۔ کھوکر۔ جوئیہ۔ جدون۔شور۔ سینی۔ بودلہ
●Som/Chandra Bansi
•Jadeja. Yadav. Bhati Janjua.
Tomar. Khokar. Joiya. Jadon۔
Shor.Seni. Bodla
●یادو
•بھاٹی۔
منج۔ تاونی۔ وٹو۔ سمہ۔ راجگان قرولی بھرت پور۔
●yadav
•Bhati. Manj. Taoni. Watto. Sama.
Rajgan Qaroli Bharatpur.
●تومرا/تنوار/تنور/تور
•جاٹو۔
سترالو۔ راگھو۔ کلیاہ۔ پھٹانیہ۔ جرال۔ سکھیرا۔ کوکریہ۔ بھکیرہ۔ چدھڑ۔ چت۔ سنگھا۔
کاہنا۔ موہن۔ کلانہ۔ کلمو۔ بہادی۔ کالو۔ کچھو۔ پونرا۔ سانجھرا۔ ساجھرا۔ ہارنی۔
پلاجیا۔
●Tomar/Tanwar/Tunwar/Toor
•Jatu. Satralu. Raghoo.
Kalhia.Pathania. Jaral. Sukhera. Kokria. Bhukera. Chadar. Chit. Sangha. Kahna.
Mohan. Kalana. Almost. Bhati. Kalu. Kachu. Ponra.Sanjhra. Sajhra. Harni.
Palajia.
●اکشواکو
●Ikshwaku
●سورج بنسی/رگھو کل
•کشواہا/کچھواہا۔
جموال/منہاس۔ بڈگورجر۔ سیکروال۔ پونڈیرک۔ گہلوٹ کی 14 شاخیں۔ رگھو۔ اکشواکو۔
راٹھور۔ تکشک۔ بریاہ اور اس کی شاخیں جھورڑ۔ گل۔ جھنگڑ۔ وغیرہ۔ جسوال۔ کٹوچ۔ مہتم۔ کاٹی/کاٹھی/کاٹھیہ۔ منڈاھر۔ چندیل۔ نارو
●Surajbansi/Raghu kul
•Kachwah. Jamwal/Minhas.
Badgurjar. Sikarwar. Pundir. Grhlot. Raghu. Ikshwaku. Rathore. Takshak. Varhya
and his branches Jhorar. Gill. Jhingar. ETC
Jaswal. Katoch. Mehtam. Kati/khati/Khatia. Mandahar. Chandel.
●کچھواہا/کشواہا
•سیسوڈیہ۔
میواڑ۔
•شیکھاوت/شیخاوت۔
روپ سنگھ وت۔ پورن مل وت۔ بانکاوت۔ راجاوت۔ جگناتھ وت۔ سالھیدپوتا۔ سادوپوتا۔
سندراسوت۔ رتناوت۔ رامچندروت۔ سرتانوت۔ چتربھجوت۔ بالبھدروت۔ پرتاپ پوتا۔ رام سنگھ
وت۔ بھیکاوت۔ ناتھوت۔ بھاگوت۔ دیوکرنوت۔ کلیانوت۔ سینداسوت۔ باسنی وال۔ بھیلاوت۔
بنجھانی۔ سنگانی۔ جیتاوت۔ شیبھرام پوتا۔ پاتل پوتا۔ پیتھل پوتا۔ سامود کا کاچھوا۔
بنویر پوتا۔ کونبھاوت۔ پیچنوت۔ کھانگروت۔ دیلن پوتا۔ بیکل پوتا۔ جھماوت۔ گہلوٹ۔
رالنوت۔ دیلنوت۔ جیتل پوتا۔ تلیچر کا کاچھوا۔ النوت(جوگی کاچھوا )۔ پردھان
کچھواہا۔ ساون پوتا۔ کھینوت۔ سیاپوتا۔ بیکاسی
پوتا۔ پیلاوت۔ بھوجراج پوتا(ردھراکا)۔ بیکم پوتا۔ کھینوراج پوتا۔ دشرت پوتا۔
باڈھواڈا۔ جسراپوتا۔ ہمیردے کا۔ مہپانی۔ بھکروت۔ ساروان پوتا۔ ناپاوت۔ تونگیا کچھواہا۔ سوجاوت۔ دھیراوت۔ اگراوت۔ سمیشور
پوتا۔ سنگھاڈے۔ کنبھانی۔ ناروکا۔ میلکا۔
بالاپوتا۔ موکاوت۔
●Mewar. Sisodia
●Kachwah
Shekawat•
Rop singh wat. Puran mal wat.
Bankwat. Rajawat. Jagnath wat. Saledh Pota. Sadho Pota. Sandraswat. Ratnawat.
Ramchanderwat. Sartanwat. Chatar Bhajwat. Balbhdarwat. Partap Pota. Ram
Singhwat. Bhikawat. Nathwat. Bhagat. Devkarnwat. Kalyanwat. Sendaswat.
Basniwal.Bhelawat. Banjhani. Sangani. Jetawat. Sehbram Pota. Patal Pota. Pethal
Pota. Samod ka Kachwah. Banveer Pota. Konbhawat. Pechanwat. Khangarwat. Delan
Pota. Bekal Pota. Jhamawat. Gehlot. Ralnwat. Delanwat. Jetal Pota. Talechar ka
Kachwah. Alnwat(Jogi Kachwah). Pardhan
Kachwah. Sawan Pota. Khenwat. Siya Pota. Bikasi Pota. Pelawat. Bhojraj Pota(Radharka).
Bekam Pota. Khenwraj Pota. Dashrat Pota. Bhadwada. Jasra Pota. Hamirde ka.
Mahpani. Bhakrwat. Sarwan Pota. Napawat. Tongia Kachwah. Sojawat. Dherawat.
Agrawat. Sameswar Pota. Sanghady. Kanbhani. Naroka. Melka. Balapota. Mokawat.
●پریہار/پڑہار
●Parihar/Parhar
●چالک/چالوکیہ/سولنکھی/سولنگی
•لنگاہ۔
ٹوگرہ۔ ۔ رانیکا۔ المیچہ۔ راوک۔ سروریہ۔ سورکی۔ برکو۔ کلامور۔ کالاچ۔ بھوت۔بھیلا۔
بھگیل/بھگیلا۔ بیرپوری۔
●Chalokya/Solanhki/Solangi.
•Langha.Togra. Ranika. Almecha.
Rawak. Sarorya. Sorki. Barko. Kalamor. Kalach. Bhot. Bhela. Bhagel/Bhagela.
Berpori.
●کٹوچ
•چب ۔
ڈومال۔ لڈو۔ جسوال۔ ڈڈوال
●Katoch
•Chib. Domal. Lado۔
Jaswal. Domal. Dadwal
●راٹھور
•دھندل۔
بھدیل۔ چکت۔ دوہریا۔ کھوکرا۔ بدرا۔ رام دیو۔ کریا۔ ہتوندیا۔ سلاوت۔ سوندو۔ کیتچہ۔ مہول۔ گوگا دیو۔ مہیچہ۔
جے سنگھ۔ نارو وت۔ مورسیا۔ جولیسیا۔ جورا۔ اور بھی بھی بے شمار حال کی شاخیں ہیں۔
●Rathore
•Dhandl. Bhadel. Chakat. Dohria.
Khokra. Badra. RamDev. Karia. Hatondia. Salawat. Sondo. Ketcha. Mahon. GogaDev.
Mahicha. JaySingh. Morsia. Jolisia. Jora. Its numerous branches۔
Naru. There are numerous settlements in Hoshiarpur district
●کاٹھی
●Khati
●مکواہن
●Makwana
●جھالا
●Jhala
تحریر و تحقیق: رانا ذیشان
سرور پنوار راندو راجپوت
فاونڈر: کھشتریہ راجپوت مہا
سبھا پاکستان
راجپوت ہسٹری ریسرچ انٹرنیشنل
Written and Researched by: Zeeshan
Sarwar Panwar Randu Rajput
Founder: Rajput History Research
International
25/April/2024 Vaisakh
جاری ہے
to be continued
●راجہ لو بن رامچندر والئی
اجودھیا●
بحوالہ کتاب:تاریخ گلشن
راجپوت جلد دوئم
مصنف/مؤرخ/محقق/مولف:
مولانا نور محمد خاں پنوار راندو راجپوت
تحریر و تحقیق: رانا ذیشان
سرور خاں پنوار راندو راجپوت
فاؤنڈر: پاکستان کھشتریہ
راجپوت گریٹ اسمبلی
راجپوت ہسٹری ریسرچ انٹرنیشنل
●راجہ لو بن رامچندر والئی
اجودھیا●
رامچندر کے بعد راجہ لو تخت
نشین ہوا۔ اور کش نے بھارت ورش میں دو شہر آباد کیے۔ پہلے کا نام کشور جو کہ اب
قصور ہے۔ اور دوسرا کش استھلی جو کہ دواپریگ میں تباہ ہو گیا تھا۔
بعد کرشن نے اس پر دوارکاپوری شہر آباد کیا۔
راجہ لو بن رامچندر تھوڑی
مدت راج کرنے پایا تھا۔ کہ راہی عدم ہوا۔ راجہ لو کے دو فرزند انسداد اور لوادیت
تھے۔ یہ دونوں نابالغ تھے۔ اسلئے راج نا سنبھال سکے۔ اسلئے کش کو کشور سے بلایا۔
اور تخت پر بھٹایا۔ راجہ کش نے تخت اجودھیا پر بھیٹتے ہی نیا قلعہ بڑا مضبوط تیار
کیا۔ اس کے آخری ایام میں راجہ اندر پر
دشمنوں نے حملہ کیا۔ جسکی امداد کے لیے راجہ کش سپہ سالار تھا۔ جو وہیں زخمی ہو کر انتقال فرما گیا۔
31/Jan/2025 Friday
............................................................
جٹ:
جٹ اک سماجی و پروفیشنل
شناخت ہے۔ سب کونٹینٹ کی بہت بڑی آبادی جاٹ کہلاتی ہے۔ ان کی تواریخ کے حوالہ سے
مختلف پہلوں ہیں۔ اور اس حوالہ سے مختلف نظریات موجود ہیں۔ پراچین سمے سے ہی کھیتی
باڑی کرنے والے کو جاٹ/جٹ کہا جاتا ہے۔
منو سمرتی کے مطابق جٹ کا ورن شودر ہے۔ شری منو جی مہاراج نے سماج
کو چار حصوں میں بانٹا تاکہ دنیا کے معاملات بہتر طور پر منظم انداز میں ادا ہوتے
رہیں۔ ابتدا میں جب سماج کو کھشتری۔ براہمن۔ ویش۔ شودر کیٹگری میں منقسم کیا گیا
تھا تو تب کوئی بھید بھاو نہیں تھا بلکہ یہ صرف نظام زندگی کو اچھے طریقہ سے چلانے
کے لیے ورن ترتیب دیئے گئے تھے تاکہ جس کے ذمہ جو کام ہے وہ اس کو بہتر طور پر ادا
کر سکے۔ براہمن کھشتری اور ویش وہ ہی لوگ ہیں جن کو آریہ کہا جاتا ہے۔ براہمن وہ جو کہ مذہب/دھرم کے ذمہ دار تھے اور
تمام مذہبی/دھارمک امور اس کے ذمہ ہوتے تھے۔ اور کھشتری وہ جو تخت تاج کے مالک
ہوتے تھے اور مملکت کے امور چلاتے تھے اور اپنی رعایا کی خاطر دشمن سے لڑتے تھے
اور جان تک دے دیتے تھے۔ اور ویش وہ جو سوداگر تھے یعنی تجارت کرتے تھے۔ شودر وہ مقامی لوگ تھے جن کی رنگت کالی تھی۔ آریاؤں کو بہت عرصہ تک ان
مقامی لوگوں سے برسرپیکار رہنا پڑا تھا یہ
جنگلی لوگ تھے اور جنگلوں میں رہتے تھے اور بہت وحڈی تھے۔ لیکن آریاؤں نے جب ان کو
زیر کر لیا اور نظام مملکت سنبھال لیا تو یہ لوگ بھی نظام کا حصہ ہو گئے۔ آریا کا
مطلب ہوتا ہے نوبل پرسن یعنی نیک شخص جو لوگوں کو بھلائی کا راستہ دکھائے اور ان
کو سیدھے راستے پر لانے کی کوشش کرے۔ یعنی وہ دھرم کا پابند ہوتا ہے عبادتگار و
زاہد ہوتا ہے۔ رعایا سے بہت اچھے سے پیش آتا ہے۔
اس کی اک مثال اس طرح کہ آریاء کھشتریہ زمانہ امن میں گائے کی طرح حلیم طبیعت
کا ہوتا ہے اور جنگ کے دوران شیر کی طرح دھاڑتا ہے۔
اب ہم اپنے اصل مدعا کی طرف
آتے ہیں۔ جاٹ/جٹ اک بہت بڑا سماج ہے اس کی
تاریخ کو سمجھنے کے لیئے ہمیں زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر مختلف پہلوؤں کو سمجھنا
ہو گا ۔
سب سے پہلے ہم ان جٹوں کی
بات کرتے ہیں جن کا ورن شودر تھا اور وہ سکھ دھرم میں داخل ہوئے۔ بندہ بہادر سنگھ
منہاس جموال راجپوت نے پہلی بار ان کو زمین کا حقدار بنایا۔ اس سے پہلے ان کے پاس
زمین کا حق نہیں تھا۔ یعنی یہ زمین کے مالک نہیں بن سکتے تھے۔ اور آج یہ لوگ اوقات
بھول گئے ہیں اور آج ان کے پاس بہت پیسہ ہے اور اکثریت ولائت میں مقیم ہیں۔ یعنی کینیڈا۔ امریکہ و یورپ
کے مختلف ممالک میں مقیم ہیں اور ان کی آمدنی ڈالروں ، یوروں ، اور پونڈوں میں ہے۔
اور یہ لوگ آج کل اتہاس کو خراب کر رہے ہیں اور تاریخ کو بدل رہے ہیں۔ اپنے محسنوں
یعنی راجپوتوں کے بہت خلاف ہیں جنہوں نے ان کو سماج میں اک بہتر مقام دلوایا۔ یہ
لوگ آج پوری دنیاں کو جٹ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ اور یہ ہی لوگ خالصتان کی راہ
ہموار کرنے کے لیئے پنجاب اور پنجابیت کے نام پر ہمارے سادہ لوح لوگوں کو ساتھ
ملائے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ لوگ کبھی بھی کامیاب نہیں ہونگے کیونکہ دھرتی کے بیٹے اور
اتہاس/تاریخ کے رکھوالے جاگ رہے ہیں۔ اور ان کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔
دوسرے وہ جاٹ جو کہ کھشتریہ
راجپوت ہی تھے لیکن کسی سماجی غلطی کے کارن
درجہ سے گرے یا انہوں نے کسی جاٹ عورت سے شادی کر لی تو برہمنوں اور پنڈتوں
نے ان کا ورن بدل دیا اور ان کی جاتی بدل دی اور ان راجپوتوں کی اولاد جاٹ ہوگئی۔
اور اس طرح کے مختلف مستند حوالہ موجود ہیں۔ مورخیں لکھتے ہیں کہ اک ہی گوت کے لوگ
راجپوت بھی ہوتے ہیں اور کچھ جٹ بھی اور کچھ کمی بھی جنہوں نے مختلف پیشہ اختیار
کر لیئے۔
اب ہم پاکستان بالخصوص مغربی
پنجاب کے جٹوں کی بات کرتے ہیں۔ مغربی پنجاب میں کچھ گوتوں کو نکال کر زیادہ تر
جٹوں کی وہ ہی گوتیں ہیں جو کہ راجپوتوں کی ہیں۔ بلکہ یہاں تک کہ اک ہی باپ دادا کی
اولاد کسی جگہ پر راجپوت اور کسی جگہ پر جٹ کہلا رہی ہوتی ہے۔ تو بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان پنجاب کی
طرف جٹ کوئی نسبی شناخت نہیں ہے بلکہ یہ اک
پروفیشنل شناخت ہے۔
مثال کے طور پنجاب میں کسی
بھی علاقہ کہ راجپوت گجر آرائیں اعوان سید قریشی ہاشمی بخاری وغیرہ سے جو کہ وائی
بیجائی اور زمینداری سے منسلک ہو تو جب آپ ان سے پوچھیں گے کہ آپ کیا کام کرتے ہیں
تو وہ فورا یہ ہی کہیں گے کہ ہم جٹ زمیندارہ کرتے ہیں۔ یا ہم جٹ لوگ ہیں اور وائی
بیجائی کرتے ہیں۔ یعنی اگر کسی مکینک سے پوچھا جائے کہ تم کیا کرتے ہو تو وہ یہ ہی
کہہ گا کہ جی میں انجن مرمت کرتا ہو یا کسی ڈرائیور سے پوچھو کہ کیا کرتے ہو بھائی
تو کہہ گا کہ گاڑی چلاتا ہو بھائی چاہے وہ کسی بھی سماج قبیلہ اور گوت سے تعلق
رکھتا ہو۔ مکینکی اور ڈارائیوری یا اور دیگر پیشہ یا کام اس کی نسبی شناخت نہیں بن
جائے گی۔
جٹ لفظ دراصل
کھیت کو جوتنے سے بنا۔ یعنی کھیت کی جوتائی کرنے والا جات ہے۔ اور یہ لفظ
بعد میں جاٹ/ جٹ ہو گیا۔
جٹ شودر والی ٹرم
پاکستان بالخصوص مغربی پنجاب کے جٹوں پر
اپلائی نہیں ہو سکتی یا کی جا سکتی سوائے ان چند سپیسفک خاندانوں کے جن کا تعلق واقعی شودر ورن کی گوتوں سے ہو۔
ہمارے ہاں جتنی بھی گوتیں ہیں جٹوں میں وہ سب کھشتریہ راجپوتوں کی گوتیں ہیں۔ اور
کھشتریہ راجپوتوں کی گوتیں شودر ورن میں داخل نہیں ہیں۔ البتہ اب وہ جٹ سماج کا
حصہ ہو چکے ہیں۔
میری اس پوسٹ کا مطلب کسی
کا بھی دل دھکانا یا نیچا دکھانا نہیں بلکہ زمینی حقائق اور مستند دلائل کو مدنظر
رکھ کر اصلاح کرنا مقصود ہے۔
جاری ہے
تحریر و تحقیق:
رانا ذیشان سرور خاں پنوار
راندو راجپوت
فاؤنڈر: کھشتریہ راجپوت مہا
سبھا پاکستان
راجپوت ہسٹری ریسرچ انٹرنیشنل
07/مئی/منگل
2024
ذکر خاندان بڈگوجر۔ سیکروال۔
پنہار۔ کہرار (رگھو بنسی)
بحوالہ کتاب: گلشن راجپوت
مصنف/مؤرخ/مؤلف/محقق:مولانا
نور محمد پنوار راندو راجپوت
تحریر: رانا ذیشان سرور خاں
پنوار راندو راجپوت
فاؤنڈر: کھشتریہ راجپوت مہا
سبھا پاکستان
راجپوت ہسٹری ریسرچ انٹرنیشنل
چھتیس شاہی خاندانوں میں سے
اک ہیں۔ اور گہلوٹ کے سوائے یہی ہیں جو رامچندر کے فرزند لو کی اولاد سے ہونے کا
دعوٰی کرتے ہیں۔ یہ سورج بنسی خاندان سے ہیں۔
ان کی قدیم راجدھانی راجور تھی۔ جس کے کھنڈرات ابتک الور کے جنوب میں دکھائی دیتے
ہیں۔ وہ الور کے بہت سے حصے اور جے پور کے آس پاس کے علاقوں پر قابض رہے۔ یہاں تک
کہ کشواہوں نے ان کو بے دخل کر دیا۔ آجکل ان کا صدر مقام انوپ شہر دریائے گنگا کے
کنارے پر ہے۔ کہ گوڑ گاؤں کے بڈگوجر کہتے ہیں کہ وہ پندرہویں صدی کے وسط کے قریب
جالندھر سے آئے ہیں۔ اور تحقیق یہ ہے کہ وہ سوہنا کے جدید دارالریاست پر بہت پرانے
زمانے سے قابض ہیں۔ لال خانیاں کا مشہور خاندان بڈگوجر سے ہے۔ جو خاص ریاستوں کے
مالک ہیں۔ نواب فیاض علی خاں صاحب مرحوم رئیس پھاسو وزیراعظم ریاست جیپور اور نواب
سعید احمد خاں صاحب رئیس حیاری و وزیر تعلیم صوبہ جات متحدہ آگرہ و اوودھ و صدر
انجمن اتحاد مسلم راجپوتاں ہند اور کنور عبدالوہاب صاحب رئیس ڈارک سب خاندان لال
خانیاں بڈگوجر سے تھے۔
بڈگوجر خاندان منڈاہر
خاندان و سیکروار وغیرہ سب قدیم ہیں۔ بڈگوجر۔ منڈاہر۔ سیکروار۔ چندیل۔ بریاہ۔ یہ
سب اکھٹے اجودھیا سے دریائے گنگ پر آباد ہوئے۔ سیکر نے سیکری شہر آباد کیا۔ جسکو
اب فتح پور سیکری کہتے ہیں۔ اور بڈگوجر کا دارالخلافہ راجور تھا۔ منڈاہر کرنال کے ضلع
میں آباد ہوئے۔ فیروز شاہ تغلق سے پہلے یہ کافی علاقہ پر قابض تھے۔
2_FEB_2025
Sunday...........................................................
میواتی کھشتری خاندانوں کی
ترتیب بنس وار پال اور گوت سے ہیں۔
میری اب تک کی تحقیق کے
مطابق میواتی کھشری خاندانوں کی مجموعی 14 پالیں ہیں۔ جو مندرجہ ذیل ہیں۔
جادو بنس:
چھرکلوت۔ ڈیمروت۔
دولوت۔ پونگلوت۔ نبائی
توار/تومر؛
بالوت
لنڈاوت (باگھوڑیا)
ڈیڈوال
رٹاوت
کشواہہ:
دھینگل
بڈگورجر:
سینگل
راٹھور؛
کلیسا
چوہان (اگنی کل):
پاہٹ
___________________
پالیں: بالوت۔ لنڈاوت (باگھوڑیا) ڈیڑوال۔ رٹاوت۔ چھرکلوت۔ ڈیمروت۔ دولوت۔ پونگلوت۔ نیائی۔
دہینگل۔ سینگل۔ کلیسا۔ پاہٹ (پلاکڑہ)
گوت: ہلیانہ۔ کٹاریہ۔ سوکیڑہ۔ گوچھیا۔ چمنیا۔ بلاوت۔
دگڑاوت۔ بگڑاوت۔ کانگر۔ گوروال۔ میوال۔ نانگلوت۔ ستگالیہ۔ مچھالیا۔ ترکٹیا۔ بوڈیان۔
بھابلا۔ بہماوت۔ بیگھوت۔ جونوال۔ سوگن۔ گومل۔ مجلاوت۔ خیلدار۔ کمالیہ۔ بڈگوجر۔
چھونگر۔ مورجھنگال۔ پنوار۔ ناہرواز۔ لم کھیرا۔ سیلانیہ۔ کاہوت۔ بٹلاوت۔ گوڑ۔
مانڈر۔ چالوکیہ۔ مارگ۔ جوارسیا۔ مہک۔ کوکھر۔ کڑھ تائی۔ ہڈنائی بگلا بھوسلیا۔ سروہیا۔
منگریا۔ چوہان۔ تنوار۔ بھان۔ جٹلاوت۔ خان جادو/خانزادہ۔
جادو بنس پالیں:
ان پالوں کا تعلق سری کرشن
جی مہاراج سے ہے۔ ان کی نسل میں سے کافی پشتوں بعد راجہ تہن پال والئی تہن گڑھ
ہوئے۔ ان کی اولاد میں سے ہی جادو بنس پالیں ہیں۔ اور میواتی کھشتریوں کی زیادہ
تر گوتوں کے مورث اعلی بھی اسی خاندان سے
ہیں۔
چھتکلوت پال:
راجہ تہن پال ولئی تہن گڑھ
کی تیسری پشت میں راجہ چھرکن ہوئے۔ اس پال کی وجہ تسمیہ بھی ان کے نام سے ہی ہے۔
راجہ باہڑ اس پال کے بھمیا راجہ تھے۔ چھرکلوت پال کے زیادہ تر تھانبے اسی راجہ
باہڑ کی اولاد ہیں۔ پال کا پابھہ دھولیٹ ہے۔
چودھر کے گاؤں ، کوٹ بچھور ، بالوکا،
سرولی، لوہینگا کلاں، اٹاوڑ ، روپڑا کا شمار کیے جاتے ہیں۔ اور تھانبے کوٹیا،
پالن، ڈاگ، بجا،اٹاوڑیا،روپڑیا ہیں۔
ڈیمروت پال:
اس پال کے مورث اعلی کا نام
ڈیمر ہے۔ جس کا کرسی نامہ راجہ تہن پال والئی تہن گڑھ سے ملتا ہے۔ اس پال کی وجہ تسمیہ اس پال کے مورث کے نام سے
ہے۔ یہ جادوبنسی پال ہے۔ اور میواتی چھتریوں کی سب سے بڑی پال ہے۔ جس کے 767 کھیڑے
یا گاؤں مشہور ہیں۔ ڈیمر کی نسل سے راؤ آڈھا
اس پال کا سب سے بڑا آدمی گزرا ہے۔ جو بھمیا
راجہ تھے۔ کہا جاتا ہے کہ راؤ آڈھا نے راؤ
نالھا کے ساتھ منڈاور کی لڑائی میں شراکت کی تھی۔ راؤ آڈھا کے بیس بیٹے تھے۔ یہ اپنے عہد میں میووں کے سردار مانے جاتے تھے۔
ڈیمروت میو جو لچھن گڑھ و کٹھومر کے علاقہ میں آباد تھے۔ ان کے برادرانہ تعلقات ان
سے ملحقہ علاقہ میں آباد مینوں سے تھے۔
جبکہ بیسرو کے ملحقہ بارہ گاؤں کا برادرانہ تعلق راوت جاٹوں سنگار کی بائیسی
اور نوگیاں (بلیانہ) کے ساتھ رہا ہے۔ اک زمانہ میں ڈیمروت اور چھرکلوت پالوں کا
بھائی چارہ بھی بہت مشہور رہا ہے۔ مگر یہ بھائی چارہ بیواں کے واقعہ کے بعد خراب
ہو گیا تھا۔ موضع بیسواں پر چھونکر نسل راجپوت راجہ حکمران تھا۔ ڈیمروت اور
چھرکلوت پالوں کی مشترکہ کاوش سے بیواں فتح ہو گیا۔ لیکن جب بیواں کی تقسیم کا
معاملہ سامنے آیا تو دونوں پالوں میں اختلاف ہو گیا۔ ڈیمروت سالم بیواں پر قابض ہو
گئے۔ جبکہ چھرکلوت بھی اس پر اپنا حق جتاتے تھے۔ اس وجہ سے اختلاف بڑھتا گیا۔ ڈیمروت
پال میں راؤ آڈھا کے علاوہ رائے خاں ستانہ(الور) بھی مشہور ہستی گزری ہے۔ جس کے
بارے کہا جاتا ہے کہ جس دن دریا خان پاہٹ سس بدنی کو لینے بارہ باون کو لے کر گیا
تھا تو رائے خاں نے ساری برادری کو روٹی (کھانا) دیا تھا۔ یہ فخر بہت کم لوگوں کو
حاصل ہے۔ ڈیمروت پال کی آبادی اگرچہ بیرون
میوات بھی پائی جاتی ہے مگر زیادہ آبادی ضلع گورگانوہ الور
و بھرت پور کے اضلاع میں پائی جاتی
ہے۔
پونگلوت پال:
راجہ تہن پال کی تیسری پشت
میں راجہ پونا ہوا۔ یہ جادوبنسی پال ہے۔
راجہ پونا کے نام سے اس پال کا نام پونگلوت ہے۔
چھرکلوت پال کے مورث چھرکن کا بھائی تھا۔ اس نسبت سے ان کا چھرکلوت پال کے
ساتھ نذدیکی تعلق ہے۔ یہ پال ساری کی ساری
ریاست الور میں آباد تھی۔ اس پال کے 84 گاؤں مشہور ہیں۔
دولوت پال:
جادوبنسی پال ہے۔ اس پال کے
مورث کا نام دوہل ہے۔ راجہ تہن کی دوسری پشت میں تھا۔ اس پال کی زیادہ تر آبادی بھرت پور میں ہے۔
نیائی پال:
جادوبنسی پال ہے۔ وجہ تسمیہ
نیاک ہے جو اک مشہور راجہ تھا۔ راجہ تہن پال کی اولاد سے تھا۔ ابتداء میں یہ نیاک کہلائے۔ نیاک سے نیاکی
ہوا۔ اور پھر رفتہ رفتہ نیائی کہلانے لگے۔
میواتی چھتریوں کے دو گوت کڑنیائی ار بڑنیائی بھی اسی نیاک کی اولاد ہیں۔ اسی طرح بہمانوت گوت بھی اسی جد
میں سے ہیں۔ اس پال کے بارے مشہور ہے کہ کلیسا پال سے اس کی بہت لڑائیاں ہوئیں۔ جن
میں دونوں پالوں کا کافی نقصان ہوا۔
بالوت پال:
تومر نسل پال ہے۔ تومر نسل
کی چار پالیں بالوت، لنڈاوت (باگھوڑیا) ڈیڑوال اور رٹاوت ہیں۔ بالوت پال کی وجہ تسمیہ اس کا مورث اعلی ہے۔ جس
کا نام سوارانا عرف بالا تھا۔ اسی بالا سے بالاوت بنا۔ بالا مہاراجہ اڑنگ پال(اننگ
پال) تاجدار دلی کی پانچویں پشت میں تھا۔ ہندوستان کی دوسری قوموں میں بھی بالوت
گوت ہے۔ مگر ان کا شجرہ نسب بالوت میواتی چھتریوں سے نہیں ملتا۔ بالوت پال کی آبادی
کافی تھی۔ جو 210 گاؤں پر مشتمل تھی۔ بالوت پال کی دو نسلیں ہیں۔ اک کاکورانا کی
اولاد اور دوسری مالا بنسی کہلاتے ہیں۔ بالوت پال میں کاکورانا میوات کا بہت مشہور
و معروف راجہ گزرا ہے۔ جس کی راجدھانی گڑھ دھلمتیہ (مہرولی) دلی کی تلہیٹی میں تھی۔
اس نے دلی کی حفاظت اور تومر نسل کی لاج کے لیے "جب تب دلی دلی تومر کی"
کا نعرہ بلند کیا تھا۔ اور اس نعرہ کے گرد
تمام میواتیوں کو جمع کیا تھا۔ اور ایک عظیم
الشان جنگ غیاث الدین بلبن کے استبداد کے خلاف قطب مہرولی (گڑھ دھلمتیہ) کے مقام
پر لڑی تھی۔ میں میواتیوں کو شکست ہوئی۔ اور قریب اک لاکھ میواتی اس لڑائی میں
مارے گئے۔
لنڈاوت (باگھوڑیا) پال:
تومر نسل پال ہے۔ اس کا
دوسرا نام باگھوڑیا ہے۔ اس پال کی وجہ تسمیہ اس پال کا مورث اعلی لاڈا ہے۔ جو اڑنگ
پال (انگ پال) کی چھوتی پشت میں تھا۔ باگھوڑیا کی وجہ تسمیہ اس پال کا باگھوڑا نامی
گاؤں بھی ہے۔ لنڈاوت پال کا مورث اعلی نیانہ(نین سکھ) عرف لاڈا ایک بھمیا راجہ
تھا۔ جس کی آٹھ رانیاں تھیں۔ مگر بدقسمتی سے ان میں سے کسی کی بھی اولاد نرینہ نا
تھی۔ لاڈا نے اپنے پانڈے نامی برہمن کو
بلایا اور اس سے کہا کہ کوئی راہ تلاش کرو۔ تاکہ اس سے اولاد نرینہ ہو اور راج پاٹ
کی وارث بنے۔
رٹاوت پال:
یہ تومر نسل پال ہے۔ جس کی وجہ تسمیہ اس کے مورث ستامہ عرف رٹو کے
نام ہے رٹو کے نام سے رٹاوت مشہور ہوا۔ یہ
پال کرسی نامہ کے اعتبار سے باگھوڑیا پال کے بہت قریب ہے۔
دیڑوال پال:
یہ تومر نسل پال ہے۔ اس کا
کرسی نامہ دیگر تومر پالوں کی طرح اڑنگ پال (انگ پال) سے ملتا ہے۔ یہ راؤ پتھا کی
اولاد ہے۔ جو اڑنگ پال کی چھٹی پشت میں تھا۔
دھینگل پال:
کشواہا نسل پال ہے۔ میواتی
چھتریوں میں واحد پال ہے جس کا تعلق کشواہا نسل سے ہے۔ مہاراجگان الور و بھرت پور اسی نسل سے تعلق
رکھتے ہیں۔ راجہ نل کی اولاد ہیں۔ اس پال کا کرسی نامہ راجہ رام چندر جی سے ملتا
ہے۔ دھینگل پال کی وجہ تسمیہ میں اختلاف ہے۔ بعض کے خیال میں دھینگل کو دھینگرا سے
بتاتے ہیں۔ جس کے معانی طاقتور کے ہیں۔ جبکہ دوسرا خیال دانگل بیان کیا جاتا ہے۔
جو ان کے مورث کا عرفی نام تھا۔ اور اس سے بگڑ کر دھینگل ہو گیا۔
کلیسا پال:
یہ راٹھور بنس پال ہے۔ جب قنوج کا راج ختم ہوا۔ وہاں کے فرمانروا بھاگ
کر مارواڑ چلے گئے۔ جے چند کا بیٹا سینوں جس نے شہاب الدین غوری سے شکست کھائی تھی میوات کی طرف چلا آیا۔ راجہ کرجی عرف کلیسا اسی
نسل سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے نام سے کلیسا پال موسوم ہوئی۔
سینگل پال:
سینگل پال بڈگوجر نسل ہے۔
اس کے مورث کا نام سینگر ہے جو پہلے پہل مسلمان ہوا۔ سینگر بڈگوجر نسل کی بہت بڑی
شاخ ہے۔ جو کافی پرانی ہے۔ یہ گوت بہت سی چھتری نسلوں سے ملتا ہے۔
بیسر گوت:
جادوبنسی گوت ہے۔ بیسر گوت
کی وجہ تسمیہ بیس ہے۔ جس سے بیسر بنایا گیا۔ راجہ شالباہن کی اولاد ہونے کے دعویدار
ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور راجہ تلوک چند ہوا ہے۔
بہمناوت گوت:
جادوبنسی گوت ہے۔
ناہر واڑ گوت:
مشہور گوت ہے۔ خاص معلومات
نہیں مل سکی۔
تومر نسل گوت:
تومر نسل گوتوں کی تعداد
اٹھارہ ہے۔ جس کے نام حسب ذیل ہی۔
منگریا۔ سروہیا۔ بلیانہ۔
تانگلوت۔ کٹاریا۔ سوکیڑیا۔ گونچھا۔ بوڈیان۔
جمیا۔ بلاوت۔ مجھلاوت۔ باکڑاوت۔ کانگر۔ بیگھوت۔ مارگ۔ ماندر۔ سوگن۔ مذکورہ بالا گوتوں میں سے ماندر۔ گونچھا۔ جمیا۔ باکڑاوت۔ مارگ۔ ماندر۔ توار۔ گوتوں کی
آبادی میوات میں نا تھی۔
منگریا گوت:
تومر نسل گوت ہے۔ اس کی وجہ
تسمیہ مورث منگ کے نام پر ہے۔ جس نے اپنے نام پر مانگر گاؤں چوراسی میں آباد کیا
تھا۔ جہاں اب صرف گجر آباد ہیں۔ اور وہ گجر اسی وجہ سے مانگر کہلاتے ہیں۔
سروہیا گوت:
تومر نسل گوت ہے۔
بلیانہ گوت:
تومر نسل گوت ہے۔
کٹاریہ گوت:
تومر نسل گوت ہے۔
سوکیڑیا گوت:
تومر نسل گوت ہے۔
بوٹیاں گوت:
تومر نسل گوت ہے۔
جمنیا گوت:
تومر نسل گوت ہے۔
بلاوت گوت:
تومر نسل گوت ہے۔
مجھلاوت گوت:
تومر نسل گوت ہے۔
کانگر گوت:
تومر نسل گوت ہے۔
سوگن گوت:
تومر نسل گوت ہے۔
چوہان گوت:
چوہان نسل گوتوں میں مور جھنگال۔ گومل۔ کھیل دار۔ کوالیہ۔ چھونکر۔
چوراسیہ۔ چوہاں اور بھان گوت شامل ہے۔ مگر
گومل اور کٹوالیہ گوتوں کے علاوہ باقی ماندہ کی آبادی میوات میں نہ تھی۔
گومل گوت:
یہ گوت چوہان نسل نکمپ سے
تعلق رکھتے ہیں۔ جو نربان کا بھائی تھا۔ اور مانک راؤ کا بڑا بیٹا تھا۔ کبیشر لوگ
اس گوت کو پاہٹ پال سے قریب بتلاتے ہیں۔ میوات کے مختلف قلعوں الور ، اندور، میں
نکمپ چوہان کی حکومت رہ چکی ہے۔
کنوالیہ گوت:
چوہان نسل گوت ہے۔ پاہٹ پال
کے نزدیکی ہیں۔
بڈ گوجر گوت:
یہ نام بیر گوجر کے نام پر
رکھا گیا ہے۔ جو چھتریوں کا اک کل ہے۔ اس کی اک شاخ لوکا کہلاتی ہے۔
پنوار گوت:
اس گوت کا نام چھتری کل
پنوار کے نام پر ہے۔ دھارانگری کا راجہ بھوج اسی نسل سے تھا۔ راجہ بکرماجیت بھی اسی
نسل سے تھا۔ میوات میں اس گوت کو پنوار کے نام سے جانتے ہیں۔ میوات میں اس گوت کی
جزوی آبادی مواضعات راجہ کا، اور پلا میں تھی۔
گوڑ گوت (گوری):
تحریر و تحقیق: رانا ذیشان
سرور خاں پنوار راندو راجپوت
بانی: کھشتریہ راجپوت مہا
سبھا پاکستان/کھشتریہ راجپوت گریٹ اسمبلی پاکستان
راجپوت ہسٹری ریسرچ انٹرنیشنل
حوالہ جات: میوات اور میواتی
قوم پو لکھی گئی چند کتابیں
انٹرنیٹ۔ ویب سائٹ۔ وکیپیڈیا۔
14/12/24
راندو پنوار راجپوت قبائل کی
آبادی و دیہات کی تفصیل:۔
تقسیم ہند و پنجاب سے قبل
مشرقی پنجاب میں راندو راجپوت دو اضلاع میں آباد تھے۔ ضلع حصار تحصیل سرسہ و فتح
آباد اور ضلع فیروزپور تحصیل مکتسر ریاست جلال آباد و تحصیل بنگلہ فاضلکہ اور کچھ خاندان راجھستان مارواڑ بیکانیر کے نذدیک
گنگانگر میں آباد تے۔
ایک گاؤں ضلع حصار تحصیل
سرسہ میں لمی محمد پور گاوں نزد منڈی ڈب والی ملوٹ روڈ پر واقع تھا۔ اس گاؤں کا ٹوٹل
رقبہ چار ہزار بیگھہ اراضی تھا۔تین حصہ کے مالک راندو تھے اور چھوتے حصہ کے مالک
جھیڈو تھے۔ گاؤں کا نمبردار لال خاں راندو تھا۔
دوسرا گاؤں لوہگڑھ ضلع حصار
تحصیل سرسہ میں تھا۔ اس گاؤں میں راندو راجپوت ایک ہزار بیگھہ اراضی کے مالک تھے۔ یہ
بھوڑ راجپوتوں کا گاؤں تھا۔ اس گاؤں میں کورڑ اور ڈھڈی بھی تھے۔ یہ سب پنوار
راجپوت گوتیں ہیں۔
ضلع حصار تحصیل فتح آباد میں
موضع کھائی کے میں بھی راندو راجپوت آباد تھے۔
اور موضع علیکے میں بھی
راندو راجپوت آباد تھے۔
اک گھر وناوالی میں اور کچھ
گھر الباندی میں تے۔
ضلع فیروزپور تحصیل بنگلہ
فاضلکہ میں اک گاؤں جھوٹیاوالی تھا جس میں راندو راجپوت آباد تھے۔ ان راندو
راجپوتوں کا رقبہ سب سے زیادہ تھا۔ اس گاؤں کے نمبردار رانوت بھٹی تھا۔
ضلع فیروزپور تحصیل مکتسر ریاست
جلال آباد کے قریب موضع تلیوالی آباد تھا۔ اس گاؤں کا نمبردار وہاب خاں راندو تھا اور اس کے بعد
اس کا بیٹا عیسی خاں نمبردار تھا۔
ضلع فیروزپور تحصیل مکتسر ریاست
جلال آباد میں موضع شرینوالہ گاؤں آباد تھا۔ اس گاؤں کا نمبردار ولی محمد راندو
تھا ۔
ضلع فیروزپور میں اک شہر فریدکوٹ
میں بھی کافی راندو راجپوت آباد تھے۔
تحریر و تحقیق: رانا ذیشان
سرور خاں پنوار راندو راجپوت
بانی: کھشتریہ راجپوت مہا
سبھا پاکستان
راجپوت ہسٹری ریسرچ انٹرنیشنل
جاری ہے۔
■راجپوت کھشتریہ خاندان■
___________________
●اگنی بنس= اس دے ذیلی
خاندان
●سورج بنس= اس دے ذیلی
خاندان
●چندر بنس= اس دے ذیلی
خاندان
●پرمار/پنوار/پوار: اگ/اگنی
بنس= اس دے ذیلی خاندان
●چوہان: آگ/اگنی بنس= اس دے
ذیلی خاندان
●تومر/تنور/تور: چندر/سوم
بنس= اس دے ذیلی خاندان
●پریہار/پرھار/پڑھیار:
آگ/اگنی بنس= اس دے ذیلی خاندان
●چالوکیہ/سولنکھی: آگ/اگنی
بنس= اس دے ذیلی خاندان
●رگھو بنس: اکشواکو/سورج/سوریا
بنس= اس دے ذیلی خاندان
●پونڈیرک/بریاہ: سوریا/اکشواکو/رگھو
بنس= اس دے ذیلی خاندان
●بڈگورجر/سیکروار:
سوریا/اکشواکو/رگھو بنس= اس دے ذیلی خاندان
●تکشک/ناگ بنس: سوریا/سورج/اکشواکو/رگھو
بنس= اس دے ذیلی خاندان
●یادو/پورو بنس:
چندر/سوم/اندو بنس= اس دے ذیلی خاندان
●کچھواہا: سوریا/اکشواکو/رگھو
بنس= اس دے ذیلی خاندان
●جموال/ڈوگرہ/منہاس: سوریا/اکشواکو/رگھو
بنس= اس دے ذیلی خاندان
●راٹھور: سوریا/اکشواکو/رگھو
بنس= اس دے ذیلی خاندان
●سیسوڈیہ/میواڑ: سوریا/اکشواکو/رگھو/گہلوٹ=
اس دے ذیلی خاندان
تحریر و تحقیق و تخریج:
رانا ذیشان سرور خاں پنوار راجپوت
بانی: کھشتریہ راجپوت گریٹ
اسمبلی پاکستان/کھشتریہ راجپوت مہا سبھا پاکستان
راجپوت ہسٹری ریسرچ انٹرنیشنل
#راجپوت_محکمہ
#پنجابیت #rajputanaculture #rajputana_attitude #rajputs #پنجابی #پنجاب
چھتیس شاہی خاندان:
اکثر سوشل میڈیا پلیٹ فارم
فیسبک/واٹساپ پیجز پروفائل یا گروپس میں چھتیس شاہی خاندانوں کے فریمز گاہے بگاہے
نظر آتے ہیں۔ اور لوگ دھڑا دھڑ بنا سوچے سمجھے اور بنا تحقیق کیے ان کو آگے زیادہ
سے زیادہ شیئر کر رہے ہوتے ہیں۔ جبکہ وہ
غلط معلومات پر مبنی ہوتے ہیں۔ اک ہی بنیادی
خاندان کی شاخوں کو بھی چھتیس کی لسٹ میں شمار کیا ہوتا ہے۔ جس سے لوگ اسی مواد کو ہی حتمی سمجھ کر لکیر کے
فقیر بن کر اسی کو ہی اول آخر سمجھتے ہیں۔
پہلے یہ بات سمجھنی چاہیے
کہ چھتیس خاندان ہیں کون سے۔ اور یہ خاندان کس ورن کے ہیں۔ ورن کا مطلب سماجی کیٹگری کا معیار و پیمانہ۔
منوسمرتی کے انوسار آریہ
سماج کو چار حصوں میں بانٹا گیا تھا۔ یعنی چار ورن ترتیب یا وضع کیا گئے تھے۔ ان کی
ترتیب اس طرح ہے۔
برہمن۔ کشتری۔ ویش۔ شودر
چھتیس شاہی خاندانوں کی ترتیب
کچھ یوں ہے:
چار اگنی بنس
دس سورج بنس
دس چندر بنس
بارہ رشی بنس
اگنی بنس:
پرمار/پنوار/پوار
چہومان/چوہان
پریہار
چالوکیہ/سولنکھی
سورج بنس:
رگھو۔ راٹھور۔ نیگ۔ گپت۔
مکواہن۔ نکمبہ۔ اگواہن۔ روس یت۔ تگ۔ روی۔
چندر بنس:
چندر۔ جادو۔ تنور۔ ہری۔
سیتھ۔ مید۔ اسور۔ سین۔ پال۔ اندھرا۔
رشی بنس:
ہن۔ ہل۔ جالوت کٹ۔ سورت
پال۔ کوٹپال۔ گورو۔ دھانکپال۔ راجپال۔ گور۔ سدابیر۔ پونک۔ سکا
راجپوت کا ورن کشتری ہے۔ یعنی
کشتری کا ہی دوسرا نام راجپوت ہے۔ تو ان
چھتیس شاہی خاندانوں میں اگنی بنس۔ سورج بنس۔ چندر بنس یہ کشتری ورن کے راجپوت خاندان ہے۔ جبکہ ان چھتیس
شاہی خاندانوں میں 12 رشی بنس خاندان ہیں۔ تو اس حساب سے کل چھتیس خاندان بنتے ہیں۔
چار اگنی بنس + دس سورج بنس
+ دس چندر بنس + بارہ رشی بنس= چھتیس
راجپوت خاندانوں کا
نکاس اگنی بنس۔ سورج بنس۔ چندربنس کے
خاندانوں میں سے ہے جو اوپر لکھ دیے گئے ہیں۔ تمام مستند راجپوتوں کو چاہیے کہ وہ
خود کو اپنے بنیادی خاندانوں سے جوڑے۔ نا کہ فرضی بنائے گئے فریموں کو ہی حرف آخر
مان کر اندھیرے میں رہے۔
باقی رشی بنس کے خاندانوں
پر ریسرچ جاری ہے بہت جلد اس حوالہ سے بھی معلومات شیئر کرونگا۔
تحریر و تحقیق رانا ذیشان
سرور خاں پنوار راندو راجپوت
راجپوت ہسٹری ریسرچ انٹرنیشنل
راولپنڈی
پنوار راجپوت قبائل کی تفصیل
بالمطابق مستند پیڑھی نامہ اور ذیلی شاخیں:
پنوار راجپوت قبیلہ جسے
پرمار بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تین طرح سے
لکھا اور بولا جاتا ہے۔ پرمار/پنوار/پوار
پنوار میں ن کی بجائے ں کی آواز ہوتی ہے۔ ن کو دبا کر
نہیں بولا جاتا۔ یعنی پ۔ں۔و۔ا۔ر = پںوار۔
یہ کھشتریہ راجپوتوں کا بہت
قدیم اور بہت بڑا خاندان ہے۔ اور سورج بنسیوں کا ابتدائی خاندان ہے۔ اس خاندان کی
ابتداء شری رام چندر جی مہاراج سے پینسٹھ پیڑھیاں پہلے ہوئی۔ اور تقریبا تمام سورج بنسی اپنا سلسلہ نسب رام
چندر جی اور ان کے بھائیوں لکشمن۔ بھرت۔ شتروگھن
سے جوڑتے ہیں۔ جبکہ سورج بنس خاندان تو اس سے بہت پہلے کا ہے۔ یعنی رام چندر جی مہاراج کا جنم سورج بنس
خاندان میں ہوا۔
پنواروں کے مشہور علاقہ
مالوہ۔ مدھیہ پردیش۔ اجین۔ دھارانگر۔ آبو ہوئے۔
پرمار/پنوار خاندان کے بارے اک کبت بہت مشہور ہے:
پرتھی پرمارا تنی پرتھی تنا
پنوار
مفہوم:یعنی یہ دنیا پنواروں
کی ہے۔
اسی طرح اک اور کبت مشہور
ہے:
گڑھ گڑھ تنوار بڑا
ساتے بڑا پنوار
کلی بڑی چوہان کی
باقی لگر پتار
مفہوم: یعنی پنوار قبیلہ سب
سے بڑا ہے ہر لحاظ سے۔
شری کشیپ کی پانچویں پیڑھی
میں راجہ پروردا ہوا جو کہ پنوار راجپوت
خاندان کا مورث اعلی ہے۔
اسی خاندان میں اک راجہ
دھارنگ ہوا۔ جس کے نام کی نسبت سے دھارنگری شہر آباد ہوا۔
اس حوالہ سے اک کبت بہت
مشہور ہے:
جہاں تھاں دھار ہے
وہاں تھاں پنوار ہے
تلوار بنا پنوار نہیں
نہیں دھار بنا پنوار
مفہوم: پنوار دھار کے بنا
نہیں رہ سکتا۔ اس لیے پنوار جہاں کہیں بھی رہتے ہیں وہاں اپنی دھار بساتے ہیں۔
اسی خاندان میں راجہ بھرتہری
ہوئے۔ جو کہ چکرورتی سمراٹ ہوئے۔ لیکن کسی غلطی کے کارن انہوں نے راج پاٹ چھوڑ دیا
اور سنیاس لے لیا اور جوگی بن گئے۔ اور اس سلسلہ میں وہ ٹلہ جوگیاں بھی آئے۔ اور
راج پاٹ ان کے چھوٹے بھائی ویر وکرم سین/بکرماجیت کو منتقل ہوا۔ اور وہ بھی مہان
چکرورتی سمراٹ ہوئے۔ انہوں نے بکرمی سموت جاری کیا۔
اسی خاندان میں اک الگ شاخ
سے راجہ سالواہن/سالباہن ہوئے۔ جن کے بارے میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ انہوں نے
سل واہن/سلباہن پور یا سل کوٹ موجودہ سیالکوٹ کی بنیاد رکھی۔ پر اس پر مذید تحقیق جاری ہے۔
اسی خاندان میں راجہ بھوج
ہوئے۔ جو کہ راجہ مونج/منج کا بھتیجا تھا۔
اسی راجہ کو واک پتی منج بھی کہتے ہیں۔
ان کے بتیجھے راجہ بھوج بہت مشہور ہوئے۔
یاد رہے کہ اس پنوار ڈائنسٹی میں تین
راجہ بھوج نام کے راجہ گزرے ہیں۔ لیکن ان کے زمانہ الگ الگ ہیں۔ انہی میں سے کسی اک راجہ بھوج کے نام سے
بھوجپال شہر آباد ہوا۔ جو کہ آجکل بھوپال کہلاتا ہے۔ اور انہی میں سے کسی اک راجہ
بھوج کے لیے اک مثال بہت مشہور و زبان زد عام ہے کہ:
کہاں مہاراجہ بھوج اور
کہاں گانگے تیلی۔
اسی پنوار ڈائنسٹی میں راجہ
چترنگ موری ہوئے۔ جو کہ پنواروں کی قدیم شاخ موری میں سے تھے۔ انہوں نے ہی
چترکوٹ/چتوڑ گڑھ کی استھاپنا کی۔
اسی پنوار ڈائنسٹی میں راجہ
آشنگ ہوئے۔ جنہوں نے اپنے نو پتروں میں راج بانٹا۔ مثلا دھرنی بارہ۔ سانت۔ اجیونی۔
جگمل۔ بھان دیو۔ جوگ راج۔ ہنسو راج۔ آل پال۔ بھوج راج۔
یاد رہے کہ کہ پنواروں کی
اک شاخ براہ/وراہ کا تعلق بھی اسی سے ہے۔
اسی پنوار ڈائنسٹی میں سے
راجہ سندھوراج ہوئے جن کی پیڑھی میں سے راجہ ادادیپ اور منگل دیو ہوئے۔
ادادیپ کی دو رانیاں تھی ۔
اک رانی بھگیلا راج ونش کی تھی اور دوسری سولنکھی راج ونش کی۔ دونوں ہی چالوکیہ/سولنکھی تھیں۔
جبکہ منگل دیو کا بیٹا
جالوپ اور اس کا مہپ ہوا جس سے مہپاوت گوت چلا۔
ادیادیپ کی نسل میں سےبڑا بیٹا
رندھول ہوا۔ جو وارث تخت و تاج ہوا۔ جبکہ جگدیو جو دوسری رانی میں سے تھا وہ بعد میں
گدی پر بیٹھا۔ یہ ہی وہ راجہ جگدیو ہے جس نے سیس کا دان کیا تھا۔ اور اس واقعہ سے یہ
راجہ بہت مشہور ہوا۔ اور اسی راجہ جگدیو کے سیس دان والا واقعہ نسل در نسل پیڑھی
در پیڑھی تسلسل سے بزرگ سینہ با سینہ سناتے اور بتاتے آ رہے ہیں۔ جو کہ پنوار
راجپوتوں کی سانجھ ہے۔ ادادیپ کے بعد پیڑھی نامہ میں جگدیو کا ہی نام آتا ہے۔ کیونکہ
وہ بہت مشہور ہوئے۔
تیسرا پیل دھول۔ چھوتا مہیپ
دھول۔ پانچواں سنگھ دھول۔ اور چھٹا بیر دھول ہوا۔
رندھول کے پتر پیل دھول سے
دو بیٹے ہوئے۔ بھائل چند اور ڈوڈ۔ بھائل کی
اولاد بھائلہ پرمار مشہور ہوئے۔ اور ڈود کے ڈوڈ نامزد ہوئے۔ جو کہ راولپنڈی و کشمیر
کی طرف ڈھونڈ کہلاتے ہیں۔
مہیپ دھول سے سانکھلا ہوا۔
جسکے سانکھلے راجپوت نامزد ہوئے۔
سنگھ دھول کے دو بیٹے ہوئے۔
سوڈھا اور اومرا۔ امر کوٹ ان کا پایہ تخت
رہا۔
رندھول کے پتر مہیسر کے چار
پتر ہوئے۔ سامنت۔ برڑ۔ سوجان۔ کونتھ۔
سامنٹ کے سامنت مشہور ہوئے۔
برڑ کا برڑ خاندان مشہور ہوا۔ سوجان کے سوجان نامزد ہوئے۔ اور کونتھ کے کونتکا
کہلائے۔
رندھول کے پتر مہدیو کے آٹھ
پتر ہوئے۔ امریس۔ کرمن۔ سال۔ رچھڑ۔ کب۔ تھلپٹ۔ گھل۔ اور دھوندو۔
کرمن کے پتر رہڑیا سے رہڑیا
گوت مشہور ہوا۔ اور ان کے نام پر ہی سندھ کے اک شہر کا نام روہڑی ہے۔ اور اسی نام کی نسبت سے اک علاقہ ہروڑ/اروڑ بسایا۔ اور وہ اروڑا پنوار
نامزد ہوئے۔
سال سے سالاوت نامزد ہوئے۔
رچھڑ سے رچھڑیا نامزد ہوئے۔
کب سے کبا یا کاباوت نامزد
ہوئے۔
تھلپٹ سے تھلو مشہور ہوئے۔
گھل سے گھلڑیا کہلائے۔
دھوند سے دہوندوا مشہور
ہوئے۔
رندھول کے پتر پیتل دیو کے
آٹھ فرزند ہوئے۔ سربڑیا۔ جوابہ۔ نل۔ مدن۔ پوسوا۔ کہرا۔
سربڑیا کے سربڑیا کہلائے۔
جوابہ کے جوابہ کہلائے۔
نل کے نلا کہلائے۔
مدن کے مدنا کہلائے۔
پوسوا کے پوسوا کہلائے۔
کہرا کے کہریہ کہلائے۔
پیتل دیو کے پتر کالم سے
کالمہ کہلائے۔
اور چھٹے کے اولاد گونگلا
کہلائے۔
امریس کے دس بیٹے ہوئے۔ کل
دیو۔ سنگہن۔ کنڈ۔ سرجن۔ کورڈ۔ کنکن۔ اولنک۔ پایل۔ جلن۔ رام۔
رام ان دسوں میں راجہ مشہور
ہوا۔ جو دریائے نربدا کے کنارے تلنگانہ کی حکومت پر قابض تھا۔ یہ راجہ پنواروں میں
بڑا صاحب اقبال تھا۔ پرتھی راج کے زمانہ
کا مشہور کبیشر کب چند لکھتا ہے کہ وہ سلاطین ہند کا سرغنہ تھا۔ یعنی جس وقت راجہ مہیسر کے مندر گیا تو اس نے
چھتیس قوموں کو حکومتیں بخشیں۔ گھٹیار کو کمبہر دیا۔ رائے بہار کر ساحل سندھ۔ تنور
قوم کو دہلی۔ پرہار کو مارودیس۔ جادو کو سورت۔ حاول کو دکن۔ باقی سب راجگان اس کے مطعیع تھے۔ اور اس کے
اقبال کا ڈنکا بجاتے تھے۔ جب یہ راجہ انتقال کر گیا تو اس کے اطاعت پذیروں نے کوسن
الملکی بجانا شروع کر دیا۔ اور ریاست کو ہاتھ سے دھو بیٹھے۔
امریس کے پتر کل دیو کے دو
پتر تھے۔ سل و امان ہوئے۔ سل سے ساہلبان سے نرسنگھ۔ دوسرے پتر امان کل دیو ہوا جو راج کا مالک تھا۔ اس سے جے چند راٹھور
نے اجین چھین لی۔ اور یہ ادیہ پوری چلا گیا۔ اس کے چار پتر ہوئے۔ بھیروں۔ سورت۔ اجین۔
اندر۔
بھیروں کے لڑکے سلہہ اور
منڈن ہوئے۔
سلہہ کا اندر ہوا۔
اندر کا موتیا راج۔
موتیاراج کے پانچ پتر ہوئے۔
دلپت۔ گومان۔ سمان۔ سورج۔ جسراج۔ ہوئے۔
دلپت راج گدی کا مالک
ہوا۔ اس کے تین پتر ہوئے۔ فتح مل۔ لچھمن۔
نرہر۔
فتح مل کے نند ہوا۔ جس کے
دو پتر ہوئے۔ گلند اور امہریس۔ گلند لاولد
گیا۔
امہریس کے چار پتر ہوئے۔ جن
میں چندرسین مشہور راجہ گزرا ہے۔ اس نے بہت سی عمارتیں بنوائی ہیں۔ اور شہر آباد کیے
ہیں۔ اس کی یادگار کے دو شہر مشہور اور
آباد ہیں۔ اول چندر بھاگا زیر دامن کوہ
دافعہ مالوہ جانب شمال۔ دوسرا چندراوتی متصل کوہ آبو زیر دامن کوہ ارولی۔ یہ شہر
اب ویران ہے۔ صرف کھنڈر باقی ہیں۔ اس کا
سال وفات 1491 ہے۔
چندرسین کا سالم ہوا۔
سالم کا رام سنگھ ہوا۔
رام سنگھ کے تین پتر
ہوئے۔ بھوداس۔ مگدھ۔ بہاڑ۔
بھوداس کے تین پتر
ہوئے۔ کلاس۔ لچھمن۔ چندن۔
کلاس کا غریب داس۔
اس کا بینی داس۔
اس کا ماندہاتا۔
اس کا سورج دیو۔
اس کا کرن دیو۔
کرن دیو کے تین پتر ہوئے۔
چندردیو۔ کام دیو۔ لوہ دیو۔ (نوٹ: تمام پنجاب کے جتنے بھی پنوار راجپوت قبائل ہیں
وہ سب راجہ سورج دیو کے پتر کرن دیو کی اولاد ہیں)
یہ ڈائنسٹی نوکوٹ مارواڑ میں
راج کر رہی تھی۔ پوگل گڑھ۔ پھولرا گڑھ۔
موجگڑھ۔ مروٹھ۔ لودروا۔ کرارو۔ راجگڑھ و نرسنگھ گڑہ۔ تھرپارکر۔ نگر پارکر۔ امرکوٹ
وغیرہ۔۔
چندردیو کی ڈائنسٹی پھولرا
سے نقل مکانی کر کے شمالی علاقہ جات وہ مارواڑ کے گرد و نواح میں پھیل گئے۔ اس ڈائنسٹی میں ہون نامی راجہ ہوا جس کے ہون
پنوار نامزد ہوئے۔ اور انہی ہون پنواروں میں سے سہنسر خاں ہوا جس کی اولاد سہنسرال
کہلائی۔ جو جہلم۔ چکوال۔ گوجر خاں راولپنڈی کی طرف آباد ہیں۔ کچھ راجہ ٹائٹل استعمال کرتے
ہیں اور کچھ چوہدری۔ ان کی مذید جغرافیائی
تفصیل اپنی کتاب میں درج کر چکا ہو۔۔
کام دیو کی اولاد میں سے
باجدیو راء۔ ڈھڈی راء۔ میکن راء۔ ۔ سولہن راء۔ انبہ راء۔ جگراء۔ وغیرہ ہوئے۔ باقی
نام یہاں لکھنا ضروری نہیں سمجھتا۔ لیکن اپنی کتاب میں درج کرونگا۔
باجدیو راء کی نسل میں سے
راندو۔ کیران۔ وارن۔ بارن۔ سیال۔ ٹوانہ۔ گھیبہ۔ ہوئے۔
ڈھڈی راء کی اولاد ڈھڈی
کہلائے ۔ اور اس کی شاخیں رتھ۔ ہوتیانہ۔ وسیر وغیرہ ہوئے۔
میکن راء کی اولاد میکن
کہلائی۔
سولہن راء کی اولاد سولہن
کہلائی۔
جگراء کی اولاد جگراء کہلائی۔
انبہ راء کے انبہ رائی
کہلائے جو کہ اکھنور جموں کے حکمران رہے۔
لوہ دیو کی اولاد میں سے جھیڈو۔
پھلروان و گیدرو ہوئے۔
جھیڈو راء کے جھیڈو نامزد
ہوئے۔
پھولراء سے پھلروان نامزد
ہوئے۔
گیدرو کی نسل سے بھٹا ہوا۔
اس کی نسل میں سے کھرل۔ ڈاہا۔ متڑ۔ ہنجراء۔ پتراء۔ بھوہڑ۔ بھدرو۔ متڑ۔ چھینی
روپال۔ ہوئے۔ اس کے علاوہ اور دیگر
خاندان بھی ہوئے لیکن ان ذکر یہاں ضروری نہیں سمجھتا۔ اپنی کتاب میں تفصیلی ذکر کرونگا۔
جالور کے پرمار:
جالور کے قلعہ سے پرماروں
کا اک لکھا ہوا پھتر بکرم 1147 ، 1197ء کا ملا ہے جس میں وہاں پرماروں کے نام ملتے
ہیں۔:۔
1۔واک
پتی منج۔ 2۔چندن۔ 3۔دیوراج۔ 4۔ایراجیت۔ 5۔بجل۔ 6۔دھاراورش۔ 7۔بشل۔ بشل کی رانی نے سندھو راجیشور کے مندر پراکت
سمت میں سونے کا کلش چڑھایا تھا۔ یہ خاندان آبو کے پرماروں کے خاندان سے ہونے چاہیے:۔
کینڈو کے پرمار:
جودھپور راج کے کراڑو نگر
کے اک مندر سے اک بگڑی ہوئی سپتکا بکرم سمت 1298، 1168ء کا پھتر لکھا ہوا ملا ہے۔
جس سے پایا جاتا ہے۔ کہ انل کنڈ کے پیدا ہونے والے پرمار خاندان میں بہت سے راجہ
ہوئے مرودیش (مارواڑ) میں اکت خاندان کا راجہ 1۔ سندھوراج (جالور کا سندھو راج ایشور
کا مندر شاید اسی سندھو راج کا بنایا ہوا ہے)۔
2۔سرتاج۔ 3۔دیوراج۔ 4۔درلبھ راج۔ 5۔سوڈھ راج (شاید مشہور سوڈھا رانا یہ ہی
ہو) جس کے مطلب کے گیت راجپوتانے کی استریاں گاتی ہیں۔ 6۔اددے راج۔ اددے راج گجرات کے سولنکی کمارپال کا سانوت
تھا۔ رجودھا جس سے یہ نام لیا گیا ہے۔ کراڑو کے پرماروں کے خاندان سے ہونے چاہئیں؛۔
مالوے کے پرمار:
مالوہ کے پرمار اپنی پیدائش
آبو پر کے انل اگنی کنڈ سے بتاتے ہیں۔ شاید وہ آبو کی طرف سے مالوے میں گئے ہوں
گے۔ اس وقت پرمار اپنے کو اجین کے پرسدھ مشہور راجہ بکرماجیت کے خاندان سے بتاتے ہیں۔
مگر پہلے پرماروں نے اپنے آپ کو بکرماجیت کے خاندان میں سے ہونا نہیں لکھا۔ ان
کاخانداناس طر سے ملتا ہے:۔
1۔
کرشن راج۔ اس کو آپ اندر بھی کہتے ہیں۔ اس
کے لیے ایسا لکھا ملتا ہے کہ یہ اپنے زور سے بڑا راجہ ہوا تھا۔ جس سے اندازہ لگتا
ہے کہ مالوے کے پرماروں میں یہی خودمختار راجہ ہوا ہے۔ شاید اس نے مالوے کا راج کیا
ہو :۔
2۔
بیری سنگھ پسر کرشن راج۔
3۔
سیک پسر بیری سنگھ
4۔
واکپتی راج پسر سیک۔ اس کے دو لڑکے ویری سنگھ و ڈمبر سنگھ ۔ چھوٹے ڈنبر سنگھ کر
باگڑ کا ملک جاگیر میں ملا ہو۔ ایسے پایا جاتا ہے۔
5۔
بیری سنگھ۔ پسر واکپتی راج اس کو بجرٹ بھی کہتے ہیں:۔
6۔
سری ہرش۔ پسر بیری سنگھ۔ اس کا عام نام سیک تھا۔ اس نے مان کھیٹ کے مشہور راجہ
راٹھور کوڈک پر چڑھائی کی۔ اور بکرم سموت 1669 ، 1176ء میں اس کے دارالخلافہ کو
لوٹا۔ اور ہنوں کو زیر کیا تھا۔ اس کے دو
لڑکے منج اور سندھوراج تھے۔ اس کے وقت میں دھارانگری کے رہنے والے دہن پال شاعر نے
پائیل نامی نے پائیل لچھمی پرکرت کوش رچا تھا
جاری ہے
تحریر و تحقیق: رانا ذیشان سرور خاں پنوار راندو راجپوت
پنوار راجپوت ہسٹری ریسرچ
انٹرنیشنل
راولپنڈی
#Parmar #راجپوت_محکمہ
#dharanagar #پنجاب #panwar
سوشل میڈیا پلیٹ فارموں
بالخصوص فیسبک آئی ڈیز گروپ و پیجوں پر پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ راجپوت صرف ٹائٹل
ہے ناکہ کوئی نسل۔ یہ پروپیگنڈہ کرنے والے
گروہ خود اپنی تاریخ کے حوالہ سے کلیئر نہیں
ہے۔ ان کے پاس کوئی تھیوری نہیں ہے جو خود
کو ایک نسل ثابت کر سکیں۔
جبکہ اس کے برعکس راجپوتوں
کے حوالے سے مستند تھیوریز بھی موجود ہیں جس سے راجپوت اک نسل ثابت ہوتے ہیں۔
راجپوتوں کے تمام مستند خاندانوں کے پیڑھی نامہ ، ونشاولی تمام تر تاریخی حوالات
موجود ہیں۔ ہمارے خطہ کی اقوام و نسلوں کی
تواریخ کو منوسمرتی کے قوانین کے ذریعہ ہی سمجھا جاسکتا ہے۔ کسی بھی کام یا نسخہ کا اک خاص کلیہ/فارمولہ
ہوتا ہے۔ جب تک وہ کلیہ اپلائی نہیں کیا جاتا تب تک آپ وہ کام سر انجام نہیں دے
سکتے تب تک آپ نسخہ نہیں بنا سکتے۔ تب تک اپ سوال کا حل نہیں کر سکتے۔
راجپوت شبدھ/اکھر/لفظ کی
شروعات/استھاپنا اور پرورش یا نشونما راجھستان میں ہوئی۔ ابتداء میں تو یہ لوگ
کھشتریہ ہی کہلاتے تھے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ راجپوت ہی کھشتریہ ہے اور کھشتریہ
ہی داراصل راجپوت ہیں! ویدوں ، پُرانوں ،
اپنشدھ میں کھشتریوں کے لیے راجپترا، راجپتر، راجن پتر، راجنیہ پتر کی اصطلاح
موجود ہے۔ اور راجپتر سے ہی راجپوت اصطلاح اخذ ہوئی۔ جب راجپترا ، راجپتر کا شبدھ/اکھر/لفظ ہمیں ویدوں
اور پرانوں یا اپنشدھ میں ملتا ہے تو پھر راجپوت لفظ جدید کیسے ہوگیا۔ سمجھ سے
بالاتر بات ہے۔ مسٹر ٹوڈ کو جو بتایا گیا یا
جو اس کو معلومات ملی اس نے لکھ دی وہ کوئی حرف آخر نہیں ہے۔ حقیقت اس سے بہت
مختلف ہے۔ کیا راجپوت صرف راجھستان میں
تھے کیا؟ تو پھر راجپوت لفظ راجھستان سے باہر دوسری ریاستوں میں کیسے رائج اور عام
ہوگیا۔ یہ کیا لوچا ہے۔
پراچین دھرم شاستروں میں
کشتری راجاؤں اور ان کی اولاد کے لئے بیشمار جگہوں پر "راج پتر" یا
"راج کُمار" شبد/لفظ/اکھر استعمال کیا گیا ہے۔ جس سے صاف ثابت ہوتا ہے
کہ راج پتر یا راج کُمار شُدھ کشتری ہی تھے جو بعد میں راج پتر سے اخذ ہو کر راج
پوت یو گیا۔ یعنی راجہ کا بیٹا۔
پرش اُپنشد 5- 1 میں لکھا
ہے
भारद्वाज ऋषि कहते हैं कि हरणभ नामक कौशल गोत्री राजपुत्र हमारे पास आये।
مطلب یہ کہ بھاردواج رشی
کہتے ہیں کہ ہرن نابھ نام کا کوشل گوتری راج پُتر ہمارے پاس آیا۔
پادری شیرنگ صاحب بہادر ایم
اے ایل ایل ڈی لنڈن اپنی مرتبہ تاریخ ہندو اقوام جلد اول صفحہ 117 پر یو تحریر
کرتے ہیں کہ:.
ہندوؤں کی بڑی ذاتوں میں یہ
دوسرے درجہ پر ہیں۔ اس کو کشتری یا راجپوت کہتے ہیں۔ مگر بعض وقت دونوں الفاظ میں
فرق کیا جاتا ہے۔ میرے خیال میں یہ فرق برائے نام ہے۔ اصل نہیں۔
کرنیل ٹاڈ صاحب اپنی مشہور
تاریخ ٹاڈ راجھستان کے صفحہ 302 پر اقوام راجپوت کے اعزاز خاندانی کے عنوان سے یوں
گوہر افشانی کرتے ہیں کہ:.
راجپوتوں میں ابتداء سے آج
تک ہیٹھئے پن کی بات دیکھی سنی نہیں جاتی۔ نا ان میں صحیح النسب کے سوائے مخلوط
النسل ملتے ہیں۔ فی زمانہ گو ان کا اوج و عروج باقی نہھں۔ پھر بھی اپنی خاندانی صحیح
النسبی اور قرابت شاہی پر بدستور نازاں ہو کر فخر کرتے ہیں۔ کہ ان کا تعلق اس
خاندان سے ہے جو تخت و تاج کا مالک تھا۔
عہد اسلام کی مشہور کتاب
تذکرہ انصار میں لکھا ہے کہ
چھتری کا دوسرا نام راجپوت
ہے۔
تاریخ ہند مصنفہ پروفیسر
منموہن جی ایم اے میں یوں ورنن ہے کہ:.
راجپوتوں کے معانی ہی
راجاؤں کے بیٹے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ شروع میں کشتری لوگ راجاؤں اور سرداروں کے
خاندان سے ہوتے تھے۔ اور اب بھی ہر راجپوت کو کشتری ہونے کا دعویٰ ہے۔
گولڈن اتہاس بھارت ورش
مصنفہ پنڈت وشواناتھ جی بی اے بی ٹی و
لالہ جگن ناتھ جی گروور بی اے بی ٹی میں راجپوتوں کی نسبت حسب ذیل الفاظ
درج ہیں:.
راجپوت بڑے شوربیر ، گوروپریہاور
درِڑھ پرتگیا تھے۔ وہ چھل اور کپٹ سے رہت تھے۔ اور اپنے شتُروؤں/دشمنوں کے ساتھ بڑی
اُدہارتا کا وہار کرتے تھے۔ یُدھ/جنگ ان کا سبھاوک کاریہ تھا۔ اپنے جاتی سنمان کے
لیے سر کٹا دینا ان کی سادہارن بات تھی۔ وہ یُدھ بھومی/میدان جنگ میں
شتُروؤں/دشمنوں کو پیٹھ نہیں دکھانا چاہتے تھے۔
راجپوت استریاں/عورتیں بھی
بِیرتا میں منُشوں سے پیچھے نہ تھیں۔ وہ بڑی شدھ آچار والی پتی برتا تھیں ویتی کے
سمے وہ ایسے ساہس اور بیرتا کا پرچے دیتی تھیں۔ جس کا ادھارن سنسار کے اتہاس/تاریخ
میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ اپنے سنمان کے لیے وہ سہرش چتا میں جیوت جل جاتی تھیں۔
اس پرتھا کو جوہر کہتے ہیں۔
شری پنڈت گنیش دت جی شرما
شاستری و سنسکرت پروفیسر مشن کالج لاہور نے 1901 میں فیصلہ تحریر فرمایا تھا کہ:.
راجپوت اصل میں کشتریہ ہی
تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
ساتھ ہی اس وقت شری پنڈت
بھانودت جی وائس پریزیڈنٹ سناتن دھرم سبھا لاہور و ہیڈ پنڈت سنٹرل موڈل ہائی سکول
لاہور کی بھی یہی رائے شائع ہوئی تھی کہ:.
کشتریہ اور راجپوت جاتی میں
نام انتر بھید ہے اور کچھ نہیں۔
ہندوستان کے تمام راجپوتوں
کی نمائندہ جماعت کا نام آل انڈیا کشتری مہا سبھا
ہی ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ کشتری یا راجپوت ایک ہی ہیں۔
علاوہ ازیں عموماً تمام
تواریخ کے مطالعہ سے بھی یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ راجپوت داراصل سورج بنسی ، چندر
بنسی ، اور اگنی بنسی راجاؤں کی ہی ہیں۔ اس لیے راجپوتوں کشتریوں میں کوئی بھید
بھاؤ نا سمجھنا چاہیے۔
نوٹ: یہ تمام معلومات و
حوالہ جات راجپوت ونشاولی مصنف شری بابو لال چند جی دھنتا جرنلسٹ و گولڈ میڈلسٹ امرتسر پرکاشک ڈسٹرکٹ
راجپوت سبھا ضلع امرتسر
سے نقل کیے ہیں۔
اگر اب بھی اگر کوئی یہ راگ
الاپے اور پروپیگنڈا کرے کہ راجپوت تو صرف ٹائٹل تھا یا ہے۔ تو اس کو کسی اچھے نفسیاتی
معالج سے اپنے دماغ کا معانہ کروانا چاہیے۔
تحقیق و تخریج: رانا ذیشان
سرور پنوار راندو
فاؤنڈر: کھشتریہ راجپوت مہا
سبھا پاکستان/کھشتریہ راجپوت گریٹ اسمبلی پاکستان
پنوار ہسٹری ریسرچ انٹرنیشنل
فاؤنڈر کنگ آف راندو راجپوت
پرمار
فاؤنڈر پنجابی
راجپوت بیٹھک
ڈوگر & ڈوگرہ:
کیا یہ دونوں شناختیں اک ہی
ہیں؟
کیا ڈوگر کا ڈوگرہ سے کوئی
تعلق ہے؟
ڈوگر اور ڈوگرہ میں تاریخی
لحاظ سے کیا فرق ہے؟
آئیں اس پر تفصیلی بحث کرتے
ہیں۔
ڈوگر اور ڈوگرہ کا آپس میں
کوئی تعلق یا واسطہ نہیں ہے۔ یہ تاریخی لحاظ سے الگ الگ شناختیں ہیں۔ بظاہر لکھنے
اور پڑھنے میں تو اک جیسے ہی ہیں۔ اور شاید معانوی لحاظ سے بھی ان کا اک جیسا ہی
مطلب و معانی ہو۔ لیکن یہ دو الگ الگ شناختیں ہیں۔
ڈوگر اک کمیونٹی/سماج ہے۔
جس کا تعلق پنجاب کے میدانی علاقوں فیروزپور۔ جالندھر۔ پٹیالہ۔ حصار۔ سرسہ۔ ہوشیارپور۔
شیخوپورہ۔ گوجرانوالہ۔ پاکپتن شریف سے ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب کے دیگر میدانی
علاقوں میں بھی موجود ہیں۔ ہریانہ اور
اترپردیش دہلی کے گردونواح میں بھی موجود ہیں۔ یہ مختلف قبائل پر مشتمل سماجی گروپ
ہے جس میں سینکڑوں قبائل موجود ہیں جو نسلی اعتبار سے بالکل الگ الگ ہیں۔ ان میں چند راجپوت قبائل کے لوگ شامل ہیں۔ اور
زیادہ تر غیر راجپوت ہیں۔ ان میں کھتری کیٹگری
اور مغل قبیلہ کے لوگ بھی موجود ہیں۔ جو اپنی الگ الگ شناخت سے جانے جاتے ہیں۔
مثال کے طور پر:
متڑ، چھینی ، روپال یہ پنوار راجپوت ہیں۔ اس کے علاوہ بھی دیگر پنوار خاندان ان میں
موجود ہیں لیکن وہ زیادہ مشہور نہیں ہیں۔
ماہو ، بہلول کے یہ چوہان
راجپوت ہیں۔ کرنل ہاشم ڈوگر والا خاندان
اور ایک خاندان بھٹی
راجپوتوں کا ہے۔
اب ہم ان میں دیگر مختلف
قبائل کے بارے مختصر معلومات کرتے ہیں جو ڈوگر نام کے ساتھ پرسدھ/رائج ہیں۔ اور
پنجاب کے مختلف اضلاع میں مختلف خاندان ڈوگر شناخت کے ساتھ موجود ہیں۔ جو نسلی اور
تاریخی لحاظ سے الگ الگ ہیں۔ ان کی تعداد
926 ہے۔ یہاں سب قبائل کے نام درج کرنا
بہت مشکل ہے۔
مختلف راجپوت ڈائنسٹیز میں
ڈونگر نام کے راجہ ہوئے۔ اس طرح ڈونگر سی
نام کا اک راجہ گزرا ہے ۔ اس کے نام پر ڈونگر پور آباد ہوا۔ جو بانسواڑہ کے پاس
ہے۔ یہ راجھستان کا علاقہ ہے۔ اددھے سنگھ کا بیٹا ماہپ جس نے میواڑ کو چھوڑ دیا ۔
جنوب کی جانب اک علاقہ پر قبضہ کر لیا۔ اور ریاست قائم کی۔
نسب نامہ والیان ڈونگر پور:
ماہپ۔ سہڑدیو۔ دودا جی۔ بیرسنگھ۔
برتنڈ۔ ڈونگر سی۔ کرم سنگھ۔ نڑدیو۔ تپاجی۔گینا جی۔ سوم داس۔ گنگ جی۔ اودھے سنگھ۔
وغیرہ۔
اسی ریاست کی طرف سے کچھ
راجپوت پنجاب کی طرف گئے اور وہاں ڈونگر لفظ بگڑ کر ڈوگر ہوگیا۔ جو کہ بعد میں اک بہت بڑے سماج کی صورت اختیار
کر گیا۔
اب ہم بات کرتے ہیں ڈوگرہ کی:
ڈوگرہ اک علاقائی و جغرافیائی
و نسبی شناخت ہے۔ جو سب سے پہلے سوریاونشی راجہ
"شکتی کرن" کے دور میں شروع ہوئی۔ جموں ریجن کا رہنے والا ہر کوئی شخص بے شک وہ
کسی بھی قبیلہ سے تعلق رکھتا ہو وہ جغرافیائی و علاقائی شناخت کے حوالے سے ڈوگرہ
کہلاتا ہے۔ شروع شروع میں یہ شناخت صرف راجپوتوں کے لیے ہی خاص تھی۔ چاہے وہ کسی
بھی ونش کا راجپوت ہو۔
قصہ مختصر کہ ڈوگرہ کا ڈوگر
سے کسی قسم کا کوئی واسطہ یا تعلق نہیں۔ ان کی تاریخ الگ الگ ہے۔ لہذا ان دونوں
شناختوں کو اک نا سمجھا جائے۔
تحریر و تحقیق:
رانا ذیشان سرور پنوار
راندو راجپوت
فاؤنڈر: کھشتریہ
راجپوت مہا سبھا پاکستان کھشتریہ راجپوت گریٹ اسمبلی پاکستان
تومر/تنور/تنوار/تور راجپوت
قبائل بالمطابق مستند پیڑھی نامہ اور ذیلی خاندان
تون ور یا
تنوار یا تنور
جس کو تور کہتے ہیں۔ یہ راجہ ارجن ولد پانڈو کی اولاد سے ہوا۔ یہ چندرابنسی راجپوت قبیلہ
ہے۔ یہ جنگ مہا بھارت کا خاندان ہے۔ جس میں
کورو اور پانڈو کی آپس میں جنگ ہوئی۔ مہا بھارت کتاب ان پر ہی لکھی گئی ہے۔ جس میں چندرابنسی
راجپوتوں کا تفصیلی ذکر اور جنگ کا تفصیلی احوال موجود ہے۔ سری کرشن جی
مہاراج جو کہ یادوبنسی تھے انہوں نے اس جنگ میں پانڈووں کا ساتھ دیا ۔ پانڈوں بھی
کورووں کی نسل سے ہیں۔
برہما کے پتر اتری جس کے
چندرمان عرف سوما جس کے چندرابنسی یا سوم
بنسی ہوئے۔ ان کا پتر بدھ ہوا۔
بدھ کی شادی/بیاہ سورج ونش
کے مہاراجہ اکشواکو کی بہن الا سے ہوئی۔
اس میں سے پوربا ہوئے۔
اس کے آیو ہوئے۔ اور آیو کا
پتر ہنوکھ ہوا۔ جس کا پتر ییاتی/ججاتی ہوا۔ جس کا پتر پورو/پرو ہوا۔ اور یہ
پوروونش کا بانی ہوا۔ اور اس کا پتر جنمیجہ ہوا۔
جنمیجہ کی ستارہویں پیڑھی میں
ہستی/ہستیہ ہوا۔ جو کہ ہستناپور کا بانی
ہوا۔ اس نے ہی ہستناپور کی بنیاد رکھی۔
مہاراجہ ہستی/ہستیہ کے پتر
اجمیڈ ہوئے۔ جو کہ بہت سے ونشوں کے بانی ہوئے۔ ان میں سے دو ونش جو بہت مشہور
ہوئے۔ اک پنچال ونش جس نے پنجاب کو آباد کیا۔
اور دوسرے کورو یا پانڈو ہوئے۔
اجمیڈ کے دوسرے پتر کا نام
رکش تھا۔ جس سے سورن کا جنم ہوا۔ جس سے کورو پیدا ہوا۔ کروکشیتر
کا نام بھی ان کے نام کی نسبت سے ہے۔ کیونکہ کروکشیتر میں جنگ مہابھارت ہوئی
تھی۔
کورو کا پتر پریکشت/پریچپت
ہوا۔ اس کی کچھ پشتوں بعد وچترویریہ ہوا۔ اور اس کا پتر پانڈو ہوا۔ اس کا پتر ارجن
ہوا۔ اس کا پتر ابھمینوں ہوا۔ اس کا پریکشت ہوا۔ اس کا پتر جنمیجہ ہوا۔ اس کا پتر
شتانیک ہوا۔ اس کا پتر اشومیدہ ہوا۔
شتانیک کی چوبیسویں پیڑھی میں
سین پال ہوا۔ اور اس کا پتر کماؤراج/کیمراج ہوا۔
کماؤراج/کیمراج کے دو پتر ہوئے۔ ستیاکرن اور کھیم کرن۔
ستیا کرن کی اولاد کشمیر کے
راجگان ہوئے۔ ان کا ذکر اپنی الگ تحریر میں تفصیل سے کرونگا۔
کھیم کرن کی نسل سے تومر
راجپوت ہوئے۔ جس کو
تومرا/تومر/تنور/تنوار/تور کہتے ہیں۔
کھیم کرن کا پتر تپیشر ہوا۔
اور اس کے چار پتر ہوئے۔ ابھنگ۔ تونگپال۔
بھرت۔ ترتھ۔ ہوئے۔
اس کی کافی پشتوں بعد راجہ
کنھہ/کہنہ ہوا۔ جو کا بانی کاہنور ہے۔
اس کا پتر اگرسین ہوا۔
اگرسین کا پتر بیرسین عرف
اننگ پال تنور ہوا۔
اس کی ساتویں پیڑھی میں
اننگ پال دوم ہوا۔
اس کی چھ پیڑھی کے بعد
کنورپال ہوا جو کہ جے پال کا پتر تھا۔
کنور پال کے دو پتر
ہوئے۔ اننگپال سوم۔ بجے پال۔
اننگپال سوم کی پانچویں پیڑھی
میں اننگپال چہارم ہوئے۔ اننگپال چہارم کی اولاد میں سے جاٹو۔ سترالو۔
راگھو۔کلیاہ۔ ہوئے۔
بجے پال کے چار پتر ہوئے۔
مدنپال۔ کرپال۔ ہرنپال۔ دہیما۔
مدنپال کا پتر تہن پال اور
اس کا پتر واہگپال ہوا۔ اور اس کے پانچ پتر ہوئے۔ بھراپال۔ تھری پال۔ ساجھر۔
پوندا۔ کچھو۔ کالو
تھری پال کے دو پتر ہوئے۔
کھیروا۔ تھراج
تھری پال کی گیارہویں پیڑھی
میں سکھے راج/سکھراج ہوا۔ اس کو سکھا راؤ بھی کہتے ہیں۔ یہ گولو کا پتر تھا۔ گولو کے تین پتر ہوئے۔ سکھے راج۔ نگراج۔
بھکراج۔ ہندالا۔
تھراج کے دو پتر ہوئے۔ جاتری۔
کوکریہ
کوکریہ کی کوکریہ راجپوت
نامزد ہوئے۔
سوکھے راؤ کے تین پتر ہوئے۔ گنگو۔ جمال۔ جلو
جلو کا پتر ایدل ہوا۔ اور
اس کے چھ پتر ہوئے۔ کامڑی۔ اولیاء۔ مقصود۔ آدت۔ پڑانہ۔ ہمزہ
جمال کا پتر ساؤں ہوا۔ اور
اس کا پتر بھیم ہوا۔ اور بھیم کے گیارہ پتر ہوئے۔ واہگ۔ عاقل۔ گرجا۔ بھلن۔ پھیماں۔
فرید خاں۔ ککو۔ سرجا۔ عزیز خاں۔ دلیل۔ کامل۔
فرید کا پتر مہر فتح خاں
ہوا۔ اس کے تین پتر ہوئے۔ شفیع خاں۔ ساؤں۔
مسب خاں۔
ساؤں کا پتر جیوا۔ جیوا کا
پتر لشکرخاں۔ لشکر کے تین پتر ہوئے۔
ڈہولا۔ عمراؤ علی خاں۔ بھیلا۔
عمراؤ علی خاں کے دس پتر ہوئے۔ حافظ شاہ محمد۔ وریام خاں ۔ سلطان۔
سبحان خاں۔ عیسی۔ عثمان خاں۔ حاجی محمد صدیق خاں۔ اسمعیل خاں۔ رکن الدین خاں۔
لقمان خاں۔ اور ان کی اولاد امرکوٹ کندہوالہ میں آباد رہی۔
ابھی تکمیل باقی ہے۔
تحریر و تحقیق: رانا ذیشان
سرور خاں پنوار المعروف راندو
بانی: کھشتریہ راجپوت مہا
سبھا پاکستان
راجپوت ہسٹری ریسرچ انٹرنیشنل
راجپوت ہسٹری ریسرچ انٹرنیشنل
بحوالہ کتاب:
راجپوت ونشاولی از شری بابو
لال چند جی دھنتا پنوار راجپوت
گلشن راجپوت از مولانا نور
محمد پنوار راندو راجپوت املی موتی
سرتاج التواریخ از منشی
عاشق علی ناطق پنوار راجپوت از کلانور
تاریخ راجپوتاں ملک پنجاب
از ٹھاکر کاہن سنگھ بلاوریہ از بسوہلی
#راجپوت_محکمہ
#Sukhera #rajput #tomar #Toor #tanwar
کھشتریہ راجپوت گریٹ اسمبلی
پاکستان پلیٹ فارم کی بنیاد و اغراض و مقاصد:
تحریر: رانا ذیشان سرور خاں
پنوار راندو راجپوت
فاؤنڈر: کھشتریہ راجپوت گریٹ
اسمبلی پاکستان
میں راجپوت تاریخ اور برادری کی فلاح و بہبود کے
حوالہ سے گزشتہ دس سال سے زائد عرصہ سے
کام کر رہا ہو۔ مجھے شروع سے ہی اپنی
راجپوت برادری سے گہری دلچسپی اور لگاؤ ہے۔
اور میں نے خود چوبیس گھنٹے کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ اور میری ہر ممکن کوشش
ہوتی ہے کہ کوئی بھی راجپوت بھائی مجھ سے رابطہ کرنا چاہ رہا ہو یا معلومات حاصل
کرنا چاہتا ہو تو اس کو کبھی خالی واپس نہیں موڑا۔
راجپوت تاریخ پر تحقیق کے
دوران مختلف کتابیں پڑھنے کا موقع ملا۔ اسی دوران کچھ غیر راجپوت برادری کے لوگ
ہماری تاریخ کو چرا رہے تھے اور راجپوت تاریخ کو بدل کر اپنی برادریوں سے جوڑ رہے
تھے۔ تو اس دوران میں نے اور دوسرے راجپوت بھائیوں نے ان کا رستہ روکا۔ اور ان کو
بے نقاب کیا۔ اور آئینہ دکھایا۔
اسی دوران مجھے راجپوت تاریخ
کی اک بہت اہم اور مستند کتاب
"راجپوت ونشاولی" جس کے
مصنف شری بابو لال چند جی دھنتا صاحب ہیں پڑھے کا موقع ملا۔ اس کتاب میں راجپوت تاریخ کا مقدمہ بہت اچھے
اور احسن انداز میں مستند دلائل و تاریخی حوالہ جات سے موجود ہیں۔
اس کتاب میں اک حوالہ دیکھنے کو ملا کہ ہندوستان کے
راجپوتوں کی مشترکہ نمائندہ جماعت کا نام "آل انڈیا کھشتریا مہا سبھا "
ہے۔ اور اسی کتاب میں یہ بھی حوالہ موجود
تھا کہ کھشتریہ کا ہی دوسرا نام راجپوت ہے۔
تو فورا مجھے تجویز سوجھی
کہ پاکستان میں اس طرز اک پلیٹ فارم ہونا چاہیئے۔ جو تاریخی اعتبار سے اہمیت کا
حامل ہو۔ اور اس پلیٹ فارم سے تمام مستند
راجپوتوں کی نمائندگی کی جائے۔
اس لیے میں "پاکستان
کھشتریہ راجپوت گریٹ اسمبلی" واٹس گروپ اور فیسبک پیج بنایا۔ اور نام کی
مشاورت کے کے حوالہ سے ڈاکٹر رانا مسعود اصدق خاں برسال صاحب سے مشورہ ہوا۔ اور یہ
نام تجویز کیا گیا۔
اب اس پلیٹ فارم سے ہم
راجپوت برادری کی فلاح و بہبود و تاریخ کے حوالہ سے کام کر رہے ہیں۔
تحریر: رانا ذیشان سرور خاں
پنوار راندو راجپوت
فاؤنڈر: کھشتریہ راجپوت گریٹ
اسمبلی پاکستان
راجپوت ہسٹری ریسرچ
انٹرنیشنل
اکھنوریہ و انبہ رائی
اکھنوروالہ:۔
جموں میں پواروں کی اک ریاست جس کا نام اکھنور ہے۔
اس وجہ سے وہ اکھنوروالہ بھی کہلاتے ہیں اور مشہور ہیں۔ وہ خود کو راجہ جگدیو
پرمار کا ونشج بتاتے ہیں۔ روایت کے مطابق ان کا بڑا راجہ جگدیو مدھیہ پردیش سے مارواڑ گیا اور بعد میں کشمیر
جموں کی طرف آیا اور اکھنور آباد کیا۔ اور ڈگر دیش کی وجہ سے یہ لوگ جغرافیائی طور
پر ڈوگرا میں شمار ہوتے ہیں ۔اور علاقہ جموں کی نسب سے جمووال بھی کہلاتے ہیں۔
جبکہ ڈوگرا کی اصطلاح سب سے
پہلے سورج بنسی جموال ڈائنسٹی کے راجہ شکتی کرن کے دور میں شروع ہوئی۔ جبکہ جموال
اصطلاح اسی سورج بنسی جموال ڈائنسٹی کے راجہ جامبولوچن کے نام پر پر پڑی۔ اسی راجہ جامبولوچن کے نام پر ہی
اس خطہ کا نام جموں پڑا۔
اکھنور والے پوار اسی راجہ
جگدیو کو ہی اپنا جدامجد بتاتے ہیں جس نے سیس دان کیا تھا۔ یہ واقعہ تو تمام
پرمار/پنوار/پوار ڈائنسٹیوں میں روایت کے
طور پر۔ موجود ہے اور مشہور ہے۔ ہندوستان و پاکستان بالخصوص پنجاب کے تمام پنوار
خود کو راجہ جگدیو کی نسل یا خاندان سے بتاتے ہیں ۔ کیونکہ راجہ جگدیو اپنے سیس
دان والے واقع سے بہت مشہور ہوا۔ اور تمام پرمار/پنوار/پوار اس راجہ پر فخر کرتے ہیں۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ
پنوار ڈائنسٹی میں راجہ جگدیو نام کے کافی لوگ گزرے اور یہ نام زیادہ رکھا جانے
لگا جو آج تک جاری ہے۔اس وجہ سے محقق و کھوج کار الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ کیسے
ممکن ہے کہ تمام پنوار راجہ جگدیو کی ہی اولاد ہو۔ جبکہ پرمار ڈائنسٹی تو راجہ جگدیو
سے بہت پہلے کی موجود ہے۔
انہی اکھنور والے والے
پواروں میں سے پوار ڈائنسٹی کے لوگ کشمیر کی طرف اور بعد میں سیالکوٹ گجرات شیخوپورہ
کی طرف گئے۔ اور ان کا مشہور راجہ نیل کنٹھ
ہوا ہے۔ اور یہ پوار لکھتے اور۔
کہلاتے ہیں۔
اور اکھنور سے کچھ پوار قبیلہ
کے لوگ پھٹانکوٹ میں جا کر آباد ہوئے اور علاقہ پھٹانکوٹ کی نسبت سے پھٹانیہ مشہور
ہوئے ۔ جبکہ پھٹانیہ دار اصل تومرا ڈائنسٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ تومرا ڈائنسٹی کے
اک راجہ کشتری پال کی نسل میں سے راجہ بھیٹ پال ہوا۔ اس کے نام کی وجہ سے ہی اس کی
نسل بٹانیہ کہلاتی تھی جو بعد میں بگڑ پھٹانیہ مشہور ہوئے ۔ اس نسبت سے ہی اس
علاقہ کا نام پھٹانکوٹ مشہور ہوا۔ اس لیے ہی مورخین بھی مغالطہ کا شکار رہے اور
پھٹانیہ کو پنوار کی شاخ لکھتے رہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہی ہے جو میں نے یہاں بیان کر دی
ہے۔
مذید تحقیق جاری ہے
تحریر و تحقیق:۔
رانا ذیشان سرور خاں پنوار
راندو راجپوت
بانی: کھشتریہ راجپوت مہا
سبھا پاکستان
پنوار ہسٹری ریسرچ انٹرنیشنل
بروز بدھ14 فروری2024
رانا بھیٹ کے بھائی کا نام
جرا تھا۔ جو کہ جرال کہلایا۔ اس کا بیٹا مانک راؤ ہوا۔وہ مسلمان ہو گیا۔اس کی
اولاد راجہ کہلاتی ہے۔ اکبر بادشاہ 👑 کے زمانہ میں
راجور کے راجہ کو راجہ کی بجائے مرزا لقب اختیار کرنے کی تلقین کی۔ چنانچہ جرال قبیلہ
میں سے مرزا مسٹ خاں کی اولاد مرزا کہلاتی ہے۔ لیکن وہ مغل نہیں ہیں۔ ان میں سے
بعض نے آرائیوں سے رشتہ ناطہ کیا اور ڈھڈاہ آرائیں کہلائے۔ ورنہ جرال راجپوتوں کی
اولاد سے مرزا مسٹ خاں کی اولاد سے ہیں۔ جو کہ اکبر کا خیر خواہ تھا۔ اس کی اولاد
منٹگمری میں چلی آئی۔ مہاراجہ گلاب سنگھ نے اس شاہی خاندان کو راجور سے جلا وطن کر
کے نکلوا دیا۔ اور ان میں سے کچھ وزیر آباد اور کچھ رہو ضلع کانگڑہ میں آباد ہو
گئے۔ حکومت برطانیہ نے ان کو جاگیر عطاء فرما کر انکی عزت افزائی کی۔
بعض کشتری پال کی اولاد
کشتواڑیہ۔ کھرڑ۔ کھتری ۔ منگرال راجپوت بھی
کہلاتے ہیں۔ کشتواڑیہ راجپوت مسلمان بھی ہو چکے ہیں۔مگر ابتک ان میں ہندوانی رسمیں
مروج رہی ہیں۔ اور قدیم راجپوتوں کی طرح اپنے نام کے آخر میں سنگھ کا لفظ استعمال
کرتے ہیں۔ مثلا میاں احسان الحق سنگھ۔ میاں
ذوالفقار سنگھ ۔ وغیرہ وغیرہ۔ منگرال راجپوت سب کے سب مسلمان ہیں۔ جو کہ پونچھ۔
راولپنڈی جموں کے علاقہ میں آباد تھے۔
تحریر و تحقیق: رانا ذیشان
سرور خاں پنوار راندو راجپوت
راجپوت ہسٹری ریسرچ انٹرنیشنل
27 جون
2024 بروز جمعرات
#Rajput #history #punjab
جوہیہ راجپوت
بحوالہ کتاب: گلشن
راجپوت جلد چہارم
مصنف/مؤلف/مؤرخ:
مولانا نور محمد خاں
راندو پنوار (املی موتی)
ٹاڈ راجھستان صفحہ ۱۴۴۴
میں درج ہے کہ رائے جنج کی اولاد سے ہوا ہے۔ اور حقیقت میں جادوبنسی خاندان کا ایک
جزو ہے کہ جنجوعہ اور جوہیہ ایک ہی خاندان ہے۔ وہ راجہ اور رانا کہلاتے ہیں۔
یہ قوم اسی سرزمین میں رہتی
تھی جہاں داہیہ تھی۔ اور ہمیشہ اس سے متفق رہی۔ مگر گارا میں ہو کر ہندوستان کے
شمالی جنگل میں پھیلی تھی۔ اور قدیم تاریخ میں جنگل دیس یعنی ہریانہ۔ بھٹنیر۔ اور
ناگور کے راجہ کہلاتے ہیں۔ یہ قوم بھی اب مقدم ہے۔ جوہیہ اوردہیہ جو بیکانیر میں ہیں
کسی زمانے راجپوت تھے۔ اب اہل اسلام ہیں۔ کارنامہ راجپوتاں مولوی نجم الغنی رامپوری
صفحہ ۴۷
حوہیا چھتیس کشتری کلوں میں
ہے۔ بہت مؤرخین نے انکو جنگل دیس پتی کے نام سے پکارا ہے۔ اسی دیس میں ہریانہ۔ بھٹنیر۔ ناگور۔ شامل تھے۔
تین سو برس گزرے کہ ان کو انکے جدی دشمنوں بھٹیوں نے مارواڑ سے نکال دیا۔ کسی وقت
میں یہ دریائے نیلی سے لے کر مہاجن تک کافی ریگستان پر قابض تھے۔ راجپوت گوتیں
چوھدری علی محمد خاں افسر مال بھٹنڈہ صفحہ ۴۰
ایسا ہی کشتری ورتمان کے
صفحہ ۴۷ پر اور کشتری ونش کیرتی کے صفح ۴۷
پر جوہیا کا ذکر موجود ہے۔
سمیجا و یادو
دونوں شخص متھرا سے علاقہ مارواڑ میں آ کر آباد ہوئے۔ یادو کی اولاد سے بھٹی نے
بھٹنیر آباد کیا۔ اور سمیجا نے گڑھ سمیجا آباد کیا۔ بھٹی سے بھٹی خاندان ہؤا۔ اور
سمیجا سے سمیجا گوت اور ان کی لڑکی سے جوہیا کا ظہور پزیر ہوا۔ تاریخ مخزن پنجاب
غلام سرور مفتی لاہوری مندرجہ رسالہ القریش
صفحہ ۳۶ مطبوعہ فروری ۱۹۴۱عیسوی
قوم جوہیا مکرمی پیر علی احمد صاحب قریشی فاروقی فریدی فیروزپور۔ واضح ہو کہ یہ
قوم راجپوت گوت جوہیا مسلمان ہے۔ اور سرسہ۔ حصار۔ بیکانیر۔ کیطرف سے اس طرف آئی
ہے۔ قوم بھٹی راجپوتوں سے اس کا نکاس ہے۔ اور قوم بھٹی راجپوتوں کی نسل جادوبنسی
خاندان سے ہے۔
حال قوم جوہیا ذکر حصول ملکیت
و وجہ تسمیہ سلسلہ اس قوم حضرت ابن سیرین جو ایک اصحاب جناب رسول مقبول صلی اللہ
علیہ وسلم مکہ شریف میں سکونت رکھتے تھے۔ مگر یہ بیان ان کا غلط ہے۔ داراصل یہ لوگ
ہندو تھے۔ بعد مسلمان ہوئے۔ کیونکہ اکثد نام مورثاں اس قوم کے مثل جیسنگھ دیو وغیرہ
مطابق اہل ہنود سے ہیں۔ اس قوم کو بخوبی یاد نہیں کہ کون مسلمان اس قوم کا مورث
ہؤا ہے۔ دیکھو تاریخ منٹگمری کرپا رام افسر مال صاحب جلد دوئم صفحہ ۱۳۷ ٹاد راجھستان جلد دوئم کہ جوہیا کے ذکر میں ایک
فقیر کی دختر موجود ہے۔ صفحہ ۱۴۴۴
اس قوم کے میراثی جو محض پیٹ
پوجا کیلیئے ان کو قریشی عباسی یا اموی کہہ کر اور غلط ملط شجرہ بنا کر پڑہتے ہیں۔
اور صرف انسے نزد و نیاز لینے کی خاطر جھوٹ تراشتے ہیں۔ مگر یہ ان کا گناہ نہیں وہ
بیچارے ماسوائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور کسی کا شجرہ نہیں جانتے۔ وہ بھی
صرف اکاون پیڑیاں شجرہ جانتے ہیں۔ اور جتنا اپنے پرانے پربھوں سے انہوں نے شجرہ
سنا ہوا ہے اس سے آگے بنا ہوا شجرہ ملا کر قریش کیساتھ ہر ایک کو منسلک کر دیتے ہیں۔
کسی مراثی کو کہ وہ راجپوتوں کا مراثی ہے شجرہ ہندوانہ درست نہیں آتا۔ پنوار کے
شجرہ کو بھی قریش سے اور تنور۔ چوہان۔ اگر کوئی درجہ ے کم ہو تو اسے عبدالرحمن ابن
ملجم کے ساتھ جس طرح بھٹیوں کو ابو جہل بن ہشام ڈے ملا دیتے ہیں۔ کیا یہ درست ہے۔
مراثی لوگوں کے موافق سب لوگ قریش سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور وہ خود بھی قریش سے ہونا
ظاہر کرتے ہیں۔ اور قریش کی عزت ہمارے ملک میں باراں قوموں کے مساوی قانوناً سمجھی
گئی ہے۔ اسلئے انہوں نے اپنے سرکاری کاغذات میں اپنے آپ کو راجپوت لکھایا ہوا ہے۔
باقی دیگر ادارہ کے باشندے سمجھا جاتا ہے۔ انکو حق نہیں کہ وہ راجپوتوں کی زمین
فرقہ میں لے سکیں۔
مشہور سلطان مراثی جو کہ
سلدیرہ قوم کا میراثی تھا۔ اس نے میرے ساتھ بمقام لالیکا جہاں میاں محمد علی اور
اسکے فرزند غلام فرید خاں نے بذریعہ دعوت ہمکو بلایا تھا۔ ۱۱جیٹھ
۱۹۹۴ بکرم مطابق ۱۹۳۷عیسوی
میں جلسہ بڑی رونق کے ساتھ ہؤا۔ سلطان میراثی نے جوہیا کو بقول لکھے خاں مہار الیاس
اصحابی نںی ص کا فرزند قرار دیا۔ اور شجرہ یو لکھوایا کہ جوہیا بن الیاس ںن یعقوب
بن اسماعیل بن محمود غزنوی بن الف اللہ بن محمود اللہ مگر محمود غزنوی امیر سبکتگین کا فرزند الپتگین
کا غلام تھا۔ اور اسماعیلی کا فرزند نہیں تھا۔ بلکل ںڑا بھائی تھا۔ جسکی اولاد نہیں
ہوئی۔ اور محمود غزنوی کے دو فرزند مسعود اور محمد تھے۔ اور پوتا سلطان ابراہیم
تھا۔ تو معلوم ہوا کہ شجرہ بالکل فرضی اور بناوٹی ہے۔ نیچے اور اوپر دنوں طرف سے
نہیں ملتا۔ اور عجب کہ محمود غزنوی کی اولاد سے ہوا اور صحبت نبی ص میں رہا ہو۔ تو
شاید وہ نںی کس جگہ ہوا ہے۔ ہمارے جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو محمود سے صدیوں
پہلے ہو چکے ہیں۔ اور دوسرے الیاس ابن سیرین صحابی نہیں ہے تابعی ہے۔ اور وہ عبرانی
تھا۔ جوئیہ قدیم قوم ہے۔ سکندر اعظم کے ساتھ معرکہ آرا ہوئے ہیں۔
داراصل جوہیا راجپوت اور سمیجا
سے تعلق نہیں رکھتے ہیں۔ واقعی جوہیا کا والد غیر معتبر اور نا معلوم تھا۔ جس طرح
ایڈورڈ ہفتم کا والد معمولی اور اس کی والدہ ملکہ معظمہ تاجدارِ تھی۔ اس طرح جوہیا
کی والدہ راجکماری نہل دختر چوڑھ سین والئ گڑھ سمیجا مشہور ہے۔ اور جوہیا کی پیدائش
بقول ٹھاکر مادہوسنگھ رئیس سوہن گڈھ قلعہ بھٹنیر میں ہوئی۔
جوہیا کی شادی رانی شکروتی
دختر بھان چند آف جنجیاں سے قرار پائی۔ جس سے تین فرزند ویگو۔ سہنپال۔ جسپال ہوئے۔
ویگو جوہیا کے زمانہ میں ہی فوت ہوا۔ اور جوہیا کے انتقال کے وقت فرزندانِ ویگو ای سنگھ۔ نی سنگھ کمسن تھے۔ کہ وہ کاروبار ریاست
کا سمبھال نہیں سکتے تھے۔ اسلئے سہنپال کو متںنّٰے قرار دیکر بچوں کو اس کے زیر
سرپرستی میں رکھا۔ شجرہ نسب کافی رہ گیا ہے جو کہ را نا سہنپال دوئم سے لے کر تو
شجرہ بیان کرتے ہیں۔ اول کو نہیں جانتے۔
رانا سہنپال تقریباً مطابق ۵۳۱
قبل مسیح گدی بھٹنیر پر رونق پزیر ہوا۔ جب فرزندان ویگو بالغ ہوئے تو انہوں نے حق
طلب کیا۔ مگر رانا سہنپال نے گدی سونپنے سے انکار کر دیا۔ جس پر فرزندانِ ویگو تیش
میں آ کر جنگ کے لیے تیار ہوئے۔ کہ مرد وہ ہے یا وہ تخت پر یا تختہ موت ہر ہو۔ اگر
ایک دفعہ مرنا ہے تو پھر موت ڈے کیا ڈرنا یہ کہہ کر تکواریں سونت لیں۔
دوہا
ای سنگھ آکھے نی سنگھا چل
دھرتی مَل لئے
ویگو پگ نہ بدھیا پیو نانے
سنگھ بھنگ
ہم بھی را سدا وساں جے
بھاوے دہیے
بھئ چار دیہاڑے جیوناں جگ
ٹِکہ لئے
کہ ہمارے نانا چوڑھ سین کی
گدی اس کے نواسہ جوہیا کو حاصل ہوئی۔ وہ دستار ہمارے والد ویگو کے سر پر نی بندھی۔
اس کے باپ اور نانا شیر ببر کی دستار۔ اگر ہم کو راج مل گیا تو ہم راؤ اور رانا بن
جائیں گے ورنہ زندگی ایک پتاشہ کی مانند ہے۔ اگر مرگئے تو تاریخ میں نام رہیجائے
گا۔ ورنہ ماتھے پر ٹیکا ہوگا۔ اور سر پر کاخی چیرا۔ یہ کہہ کر تلوار سونت لی۔ اور
بہت لوگوں کو مار کر زندگی کے آسمان پر روپہری دونوں میں لکھوا کر ہمیشہ کے لئے
راہی ہوئے۔
۶۳۸بکرم مطابق
۱۵۸۱ میں جبکہ منگل راؤ بھٹی کی اولاد بھٹی پور میں چھپی ہوئی تھی۔ تو سنی داس
بھومیہ جوہیا نے شکایت کی۔ اور بریاہوں نے تلاش کر کے قتل کر دیا۔ تو اس سے ثابت
ہوا کہ جوہیا بھومیہ راج تھے۔ اور ملک مارواڑ کے جدی وارث تھے۔
ٹاڈ راجھستان میں رقم ہے کہ
کتاب جوہیا جو کہ وزیر اعظم جیسلمیر نے میرے پاس بیجھی تھی۔ جو رائل ایشیا ٹک
سوسائٹی کی خدمت میں بیجھی گئی۔ صورت گڑھ کے قریب جوہیا کا رنگ محل ریت کے ٹیلوں میں
دبا ہوا ہے۔ جوہیا قوم کی قدیم تاریخ اور اسکی قدامت کی گواہی دیتا ہے۔
رانا سہنپال کے مراثی اکیس
فرزند قرار دیتے ہیں۔ مگر کوئی تصدیق نہیں۔ رانا سہنپال کے فرزند جوگ پال عرف جوگنی
پسرال سے سانوت سنگھ۔ نبھے سنگھ۔ ابھے
سنگھ پشت با پشت ہوتے اور پھر سِنگھ ہؤا۔
پاہو قوم نے ۱۱۰۰بکرم
مطابق ۱۰۴۳عیسوی بھیکم پور سے نقل مقام کر کے دیبی جال تک جوہیا
کی حکومت قبضہ میں کی اور پوگل کو دارالحکومت بنایا۔
رانا سِنگھ بل نے ایک قلعہ
معروف مورنگ جو اب بیکانیر میں شامل ہے۔ تعمیر کروا کر دارالریاست بنایا۔ اس سے
پہلے مروٹ میں تھے۔ مگر یہ غلط ہے۔ بعد جوہیا پھولڑا مروٹ پر قابض ہوئے۔ جس کا ذکر
درج ہو گا۔
ہاں واقعی جوہیا سرسہ کی
جگہ اس تمام علاقہ پر قابض و منصرف تھے۔ ٹاڈ راجھستان میں درج ہے۔ کہ خلجیوں کے
عہد میں ندی ہاکڑا کے کنارے پر تین قومیں جو قدیم سے حکمران چلی آتی تھیں۔ پنوار۔
جوہیا۔ بھٹی۔ اقوام عالمگیر تھیں۔ جس ندی کے کنارے آج بھی کھنڈرات ہی کھنڈرات نظر
آتے ہیں۔ اور کھنڈرات ثابت کرتے ہیں کہ واقعی یہ شہر ۲۰۰ برس قبل مسیح
سے کافی صدیوں تک آباد رہ کر اپنی زیب و زینت کو آغوش میں لے کر نیست و نابود ہو
چکے ہیں۔
رانا سنگھ بل کے تین فرزند
ہنس راؤ۔ ہول راؤ۔ اور ہوا سنگھ ہوئے۔ ہنس راؤ کا فرزند سامنت سنگھ ہؤا۔ جسکے سات
فرزند
جیسنگھ دیو۔ دھنت۔ وِجھل۔
پھتورا۔ ہربند۔ بکو راؤ۔ بیگھرا۔ ہوئے۔ ان سے بے شمار خاندان جوہیا کے مارواڑ میں
پھیل گئے۔ وجھل سے چاوا جوہیا ہوئے۔ اور دھنت سے بھیڈے جوئیے ہوئے۔ اور جلواتے
مشہور ریاست بیکانیر میں تھے۔
تحریر: رانا ذیشان سرور
پنوار راندو
راولپنڈی
بانی: کھشتریہ راجپوت مہا
سبھا پاکستان/کھشتریہ راجپوت گریٹ اسمبلی پاکستان
راجپوت ہسٹری ریسرچ
انٹرنیشنل
ذکر حکومت بکرماجیت اعظم:
مہاراجہ بکرم قبل از ۷۴
مسیح قلعہ اُجین میں بما بھادوں کرشن پکش ستمی کو پیدا ہوا۔ اور پیدائش سے آپ یونہار
معلوم ہوتے تھے۔ پندرہ سال کی عمر تک تعلیم حاصل کی۔ عین جوانی میں رام جہرو کانگری
کے راجہ کی لڑکی سے شادی ہوئی۔ دیواس کے راجہ کے پر فتح پائی۔ سنگھاسن پر بیٹھے۔
ہر طرف یہ ہی خیال کیا جانے لگا کہ راجہ بکرم پورے ہندوستان کو اپنے قبضہ میں کر لیگا۔
راجہ بکرم کو مارنے کی تجویز ہوئی۔ لیکن دشمن اس میں ناکام رہے۔ شمالی ایشیا کی
وحشی قومیں یونان کو لوٹتی ہوئی اشیاء کو تاراج کر کے سندھ کے کناروں تک پہنچیں۔
اس عرصہ میں مگدھ کی سلطنت کو زوال پہنچا۔ قوم ستھن کو ترقی ہوئی اور یہاں تک بڑھے
کہ کابل پر قابض ہو کر کشمیر تک آ پہنچے۔ آگرہ و گجرات تک ان کی سلطنت جم گئی۔ چین
کی ریاستیں بھی اس قوم کی باجگزار بن گئیں۔ اس قوم کی ابتداء تاتار سے تھی اور یہ
اپنے آپ کو سری کرشن جی کی اولاد بتاتے تھے۔ ہند میں بعض ریاستوں پر یہ قوم قابض
ہے۔ اور اپنے آپ کو جاٹ کہتی ہے۔
عہد ابتدا تسلط بکرم کے کچھ
عرصہ بعد قوم ستھن نے تمام ہند میں لوٹ مار شروع کر دی اور یہاں تک نوبت گزری کہ
اُجین پر چڑھائی کر دی۔ مہاراجہ بکرم نے اس محاصرہ کو روکا اور ایک بے تعداد فوج
کے مقابلہ میں اپنی تھوڑی سی جمیعت سے وہ جوانمردی دکھلائی کہ ساری فوج لوہے کے
چنے چابنے پڑے۔ اور مہاراجہ بکرم کی تھوڑی
سی فوج نے ملکی و قومی خدمت کا وہ حق نمک ادا کیا کہ آخر دشمن کو شکست دی۔ مہاراجہ
بکرم کی ہمت اور بڑھ گئی۔ اور دارالسلطنت اُجین کا انتظام کر کے ملک گیری پر کمر
باندھی اور ایک ہزار فوج کے ساتھ قوم ستھن پر حملے کرنے شروع کر دیئے۔ اس زمانہ میں
اور بھی وحشی قومیں جابجا سرکشی کرتی تھیں۔ مگر مہاراجہ بکرم کی بہادری نے سب کے
دانت کھٹے کر دیے۔ آہستہ آہستہ ملک ہند پر تسلط ہو گیا۔ فوج بھی ترقی پکڑتی گئی۔
اور اس ملک گیری کی شہرت کی وجہ سے ہر ایک صوبہ کو خراجگزار بننا پڑا۔
پھر تو مہاراجہ بکرم کی
سلطنت نے وہ وسعت اختیار کی کہ
پرتھی تنا پنوار پرماراں تنی
پرتھوی
کا مقولہ دوبارہ زبان زد
خلائق ہوا۔ کچھ عرصہ بعد دشمن قوموں نے ایک
تجویز کی کہ مہاراجہ کے ساتھ پھر جنگ کی جائے۔
اس تجویز پر اپنے گروہ میں سنتا
نامی کو سردار پیشوا مقرر کیا۔ اور
معملات طے کرنے کے بعد شبخون مارنے شروع کئے۔ سنتا کے پاس پچاس ہزار جوان ہتھیار
بند قوم ستھن سے تھے۔ جب بکرم پر چرھائی کی
تو مہاراجہ موصوف بھی لڑائی کے لیے آمادہ ہوئے۔ مہاراجہ بکرم کی فوج ایسے جان توڑ
کر لڑی کہ دشمن کو بھاگنا پڑا۔ ماتر سنیاپتی
اور مہاراجہ بکرم نے تعاقب کیا۔ اس وقت ماتری کے ساتھ تیس ہزار فوج کی جمیعت تھی۔ یہ
اپنی فوج کو لے کر سنتا کے پیچھے چلا۔ اور حوصلہ کے ساتھ قوم ستھن کو گھیرا۔ اگرچہ
دن رات کی بھاگ دوڑ سے پریشان تھے مگر ملتان تک جم گئے۔ مہاراجہ اور انہوں ستھن
قوم کو میدان سے بھگا دیا۔ اور قوم ستھن نے کشمیر قلعہ میں جا کر پناہ لی۔ وہاں بھی
مہاراجہ بکرم کی فوج پر حملے کیے۔ جس پر مہاراجہ بکرم کی فوج نے یکدم حملہ کر کے
دشمن کی فوج کو کاٹ دیا۔ اُدھر ماتری کی فوج کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں گھس کر قوم
ستھن کو ہلاک کیا۔ آخرکار سنتا نامی سردار مارا گیا۔ کل علاقہ کشمیر ماترگپت کو دیا
اور اس کو وہاں کا صوبہ دار بنایا۔ اس فتح کی خوشی میں مہاراجہ بکرم نے اپنا سمت
قائم کرنے کی تجویز کی۔ ( بحوالہ کتاب: سرتاج التواریخ)
تحریر و انتخاب: رانا ذیشان
سرور پنوار راندو
فاؤنڈر: کھشتریہ راجپوت مہا
سبھا پاکستان
راجپوت ہسٹری ریسرچ
انٹرنیشنل
بحوالہ کتاب: نور التواریخ
بھٹی راجپوت
مصنف/مؤلف/محقق/مؤرخ:
مولا نور محمد پنوار راندو
(املی موتی)
»»»»»»»»»» شالباہن پور۔ «««««««««««««
گج کے بیٹے شالیواہن نے ۱۶
عیسوی مطابق ۷۲ بکرمی میں شالباہن پور جہاں اب سیالکوٹ
ہے کی بنیاد رکھی۔ جسکے سولہ فرزند تھے۔ پورن بھگت تو فقیر ہوگیا۔ اس کے بعد گدی
کا مالک رام جیپال تنور کا ؟؟ راجہ بل
اندر یا بل بند یا بلونت ولی عہد تھا۔ اور تیسری رانی لوناں سے رسالو سیاہ رنگ کا
پیدا ہوا۔ جو پیدا ہوتے ہی مدت زمین دوز
پرورش پاتا ریا۔ پنڈتوں نے سوچا کہ شاید زمین کے اندر پرورش پانے کے بعد اس
کا رنگ اچھا ہوجائیگا۔ اور اسکی گردش ٹھیک ہو جائے گی۔ باہر نکال کر پہلے دریائے ستلج جو کہ اس وقت قریب
سات کوس جاری تھا۔ چڑیون دریا کا دیدار کرایا کہ شاید اس کے کرم ٹھیک ہو جائیں۔
پھر بعد باپ کے شالباہن پور پیش کیا۔ راجہ دیکھ کر حیران و ششد رہ گیا۔ چںد دنوں
بعد جنگ اوجین میں مارا گیا۔ اور سلطنت خراب ہوئی۔
۷۲ بکرمی مطابق
۱۶ عیسوی شالباہن کی مسند نشین کا ہے۔ ٹاڈ راجھستان میں بھی یہ سنہ ہی درج ہے۔ اس
وقت دریاؤں کے نام یہ تھے۔ دریائے شتدر
ستلج رکھا گیا۔ یعنی سار ندیاں ایک جا ملنے پر شتدر بنتا تھا۔ اور سات ندیاں
ستلج۔ ویاس۔ ایراوتی کا نام راوی۔ اور چندر بھاگا کا نام چناب۔ برسن کا نام جہلم
ہے۔ سندھ کا نام سندھ جس کی وجہ تسمیہ جلد اول میں بیان ہو چکی ہے۔ اور اس میں بھی
ہے۔
راجہ شالیواہن جس کا
دارالخلافہ شالباہن پور موجود (سیالکوٹ) تھا۔ اسکی حدود سلطنت میں کاشغر اور مروتک
کے علاقہ تھے۔ جنوب میں اس کی آخری حد اوجین تھی۔
سرتاج التواریخ اور تاریخ گیانی
گیان گہ پنجاب میں ہے کہ راجہ بکرماجیت/وکرمادتیہ اور شالیواہن کی جنگ لونی پربت
موجود کوہستان نمک کے پاس ہوئی۔ جس سے راجہ شالباہن راجہ بکرماجیت کا خراجگزار
ہوا۔ اور مدت راجہ بکرماجیت کا صوبہ دار رہا۔ اس وقت کاشغر کا کاشرا کہتے تھے۔
اسی طرح کشمیر کا راجہ سادتیہ
کے زیر نگیںن پورا موجود افغانستان اور ایران کا صوبہ خراسان تھا۔ گجرات کاٹھیاواڑ
کے راجاؤں کے ماتحت پورا مکران کا علاقہ تھا۔ جس کا نصف حصہ آج ایران میں شمار
ہوتا ہے۔ کسی وقت میں راجہ۔ بکرماجیت کے قبضہ میں یہ تمام راجگان ۶۵
کی تعداد میں باجگزار تھے۔
ایران کا قدیم مذہب کئی
فرقوں میں منقسم تھا۔ پہلے صابی۔ پھر زرتشتتی۔ پھر یہودی۔ پھر عیسائی۔ موجودہ
افغانستان کا نام واہیک پور تھا۔ اور موجودہ بلوچستان کا نام (یون) تھا۔ اور موجودہ پنجاب کا شمالی حصہ منجملہ جموں کا
نام اتراپت تھا۔
راجہ شالیواہن نے ۳۳
برس نو ماہ حکومت کی۔ ۶۵ بکرمی مطابق ۳۶
عیسوی میں راجہ بکرماجیت کا صوبہ دار تھا۔ راجہ سالباہن کو معلوم ہوا کہ راجہ
بکرماجیت بوڑھا ہو گیا ہے اس نے خراج دینا بند کر دیا۔ راجہ بکرماجیت نے شمالی
مغربی علاقوں موجود کشمیر مغربی پنجاب اور افغانستان کی طرف توجہ دی۔ اس علاقہ پر
راجہ شالیواہن نے قبضہ کر کے شالباہن پور کو دارالخلافہ بنا کر سات ہی سال بعد یعنی
۴۳ عیسوی میں راجہ بکرماجیت پر حملہ
کر دیا۔ راجہ شالیواہن خاندان پنوار کو ختم کرنے کے لیے اوجین پر حملہ آور ہوا
تھا۔ اور دریائے نربدا تک پہنچ گیا۔ فتوحات اور ملک گیری کی ہوس میں راجہ شالیواہن
دیوانہ وار بڑھتا گیا۔ اور اس نے انجام کو بغیر سوچے سمجھے دریائے نربدا میں گھوڑے
ڈال دیئے۔ دریا اس وقت طغیانی پر تھا۔ دوسرے کنارے پنوار فوج بھی زری بکتر تلوار
زن تیار کھڑی تھی۔ رام چندرسین پنوار نے صلح کا پیغام راجہ شالیواہن کو بیجھا۔ جس
پیغام یعنی اس چھٹی کو شالیواہن نے حقارت کی نگاہ سے ٹھکرا کر پھینک دیا۔ اس پر
پنوار فوج غضب ناک ہوئی۔ جو حملہ آور یادوونشی
دریائے نربدا سے پار ہوتےتھے تہ تیغ بیدریغ کئے جاتے تھے۔ آخر راجہ شالیواہن دریائے
نربدا میں ڈوب کر مر گیا۔ اور اس کی فوج وہیں لڑتے بھڑتے ختم ہو گئی۔ ۱۰۰بکرمج
مطابق ۴۳ عیسوی میں راہی عدم ہوا۔ 10 عیسوی
سے 43 عیسوی تک اسکی کل معیاد 33 برس نو ماہ پوری ہوتی ہے۔
راجگان ہند میں مولوی نجم
الغنی رامپوری رقم طراز ہے کہ راجہ شالیواہن نے بھادوں کی اشٹی کو شالباہن کی بنیاد
رکھی صفحہ 373 تاریخ راجھستان صفحہ 8 راجہ بل اند کو شالباہن پور۔ رسالو کو لاہور۔
بھوپتی کو غزنی دیا گیا
تحریر و انتخاب: رانا ذیشان
سرور پنوار راندو
بانی: کھشتریہ راجپوت مہا
سبھا پاکستان
راجپوت ہسٹری ریسرچ انٹرنیشنل
راولپنڈی
--------------------------
چہینی ڈوگر پنوار
بحوالہ کتاب: گلشن راجپوت
مصنف: مولانا نور محمد
پنوار(راندو راجپوت ) املی موتی
راجہ نیل پنوار کے چار
فرزند تھے۔ راجہ دھنپال۔ حنجرا۔ سپرا۔ لویرا۔ یہ سب ڈوگر مشہور ہوئے۔ راجہ دھنپال
کی رانی روہل کے بطن سے چاند کی چاندنی میں رات کو راجہ چن پیدا ہوا۔ جس کی اولاد
چینی مشہور ہوئی۔ اب زبان کے بدل جانے سے چھینی بولتے ہیں۔ اسکی اولاد سے صابو مسلمان
ہوا۔ معلوم ہوتا ہے کہ تنیسر اور صابو کو سید صادق حسین سندھی نے مسلمان کیا۔ صابو
کا فرزند آیا تنیسر عرف کمال الدین کے فرزند سردار رنی کے ہاں چلا آیا۔ اور وہ اس وقت موضع ڈوگرانہ کا
مالک تھا۔ آخر رنیاں نے آیا کو اپنی دختر فتح بانو کا عقد دیدیا۔ سید صادق حسین
سندھی نے آیا کو نقارہ اور دعادی کہ تیری
اولاد کو نیلی کا آر پار کا علاقہ دیدیا ہے۔ آیا بمعہ زوجہ کسی سبب کے علاقہ
پاکپتن موضع ماکیاں آباد ہوا۔ رنیاں کی
اولاد لاہور کو چلی گئی۔ آیا کے آبااجداد
اور قبیلہ علاقہ پاکپتن میں آباد تھا۔ آیا کے تین فرزند ہوئے ۔ عیسی۔ باغ علی عرف بکھا۔ ؟ موخرالذکر کی اولاد سرسہ میں
آباد ہے۔ سیدا چینی ان میں مشہور گزرا ہے۔
عیسی کی اولاد سے بے شمار
خاندان ہوئے۔ کھگی کے ۔ نظام کے ۔ مبو کے ۔ مباریکے۔ پنجیکے۔ ابدال کے۔ جمال کے۔
باجیکے۔ بہادر کے۔ سید کے ۔ پیریکے۔ سلیم صاحب کے وغیرہ۔
سنہ 1830 بکرم اورنگ زیب کے
زمانہ بگھا موضع باگیاں سے اٹھ کر دریائے ستلج کے کنارے با اجازت حاکم اس علاقہ کے
آباد ہوا۔ جس جگہ تھینہ جونتریوالہ پڑا تھا شہر آباد کیا۔ بگھیکا نام اس کا مشہور
ہوا۔ سنہ1839بکرم تک برابر آباد رہا۔ بڑی بھاری آبادی تھی۔ پھر بسبب قحط سالی کے ویران
ہوگیا ۔
سنہ1730عیسوی میں بہلول کے
پاکپتن سے آ کر قریب فیروزپور آباد ہوگئے۔ اس علاقہ میں مہر بہادر چینی ہوئے ۔مہر
بہادر اور نواب سبیل نیپال تلونڈی کھائی میں بیٹھ کر پاسا کھیلتے تھے۔نواب سبیل
خاں کی ہمشیرہ کلغے خاں میواتی حاکم قصور جو کہ محمد شاہ رنگیلا کیطرف ریزیڈنت یعنی
جنگل کا فوجدار تھا کو بیاہی۔ بہادر اور سبیل میں اک روز تکرار پڑی جس پر مہر
بہادر نے طعنہ دیا کہ تو کونسا راجپوت ہے کہ تونے میواتی بادشاہ کو اپنی ہمشیرہ دیدی
ہے۔جس پر نواب مذکور نے کلغے خاں حاکم فوجدار جنگل کو کہا کہ بہادر ڈوگر سردار کی
ہمشیرہ کندس رانی حسن میں شہرہ آفاق ہے۔ آپ ان سے بھی رشتہ طلب کریں۔وہ ضرور تمہیں
دیدیں گے۔ اس پر حاکم مذکور نے کسی قاصد کو مہر بہادر کی طرف بیجھا ۔اس نے صلح و
مشورہ کی بابت اجازت طلب کی۔ جس پر ٹول مٹول معلوم ہوئی۔ تو حکم حاکم مذکور ایک
دستہ فوج نے کندس رانی کو اٹھا کر اس کے حضور پہنچا دیا۔ جس پر کندس رانی نے کہا
کہ بے شک میرے بھائی اجازت نا دیں میں آپ کو قبول نہیں کر سکتی۔بروئے شرط اجازت ولی
ضروری امر ہے۔اس پر ایک دستہ فوج کو حکم دیا کہ انکو گرفتار کر کے لاویں۔اس پر مہر
بہادر۔ گہوکھہ۔ وغیرہ گرفتار ہو کر حاضر ہوئے ۔ لالہ پسر بہلن سردار والی کوٹ
کپورا انکی سفارش کے لیے گیا۔کہ ڈوگر بغیر اپنی قوم کے کسی کو ناطہ نہیں دیتے نا ہی
کسی غیر سے ناطہ لیتے ہیں۔ اسپر اول اس کو چیر ڈالا۔ اس بات پر سات شخص چیر ڈالے۔
مہر بہادر نے مرتے دم اپنے
مراثی بہراج کو کہا کہ نظام میرے بھائی کو کہہ دیں کہ اگر مجھے تلاش کرے تو میں سبیل
خاں نیپال کی داہنی طرف شکم میں ہونگا۔ اس پر کندس رانی شلم کٹار کھا کر مر گئی۔
مہر نظام نے جسکی آبادی اسی
جگہ تھی جس جگہ اب کھگی کے گاؤں ہے۔ تمام ڈوگروں کو اکھٹا کر کے نواب سبیل خاں پر
چڑھائی کر دی۔ مہر نظام و حسین پھیمیکا نے ایک لکیر کھینچ دی۔ کہ جو شجص اس لکیر
سے گزر کر ہمارے ساتھ مرنے مارنے کا تہیہ کریگا وہ ہمارا بھائی ڈوگر ہے۔ اگرچہ اس
کی کوئی گوت ہو وہ ہمارا ہم اس کے ہوئے۔ اس پر دیوان چوپڑے۔ جلوکے ۔بہلول کے۔ چینی۔
متڑ۔ بھٹ۔ روپال۔ یعنی اک سو پچاس گوت کے آدمی لکیر سے گزر کر یعنی سوگندیں کھا کر مصمم ارادے باندھ کر کھائی میں جمع
ہوئے۔ آخر انہوں نے نواب سبیل خاں نیپال کو مار دیا۔اور کلغے خاں کو موت کے گھاٹ
اتار دیا۔ اور 1740 عیسوی میں اس تمام علاقہ پر قابض ہوئے۔حسین خاں یا اس کے فرزند
کو تمام ڈوگروں نے گدی پر بھٹایا۔ اور فیروزپور کو صدر مقام بنایا ۔
اسجگہ اک بستی بھٹی قوم کی
تھی۔ راجپوت گوتیں میں لکھا ہے۔ کہ ڈوگروں نے نیپالوں کو اوپر تلونڈی کو بھگادیا
اور نیپالوں نے گوجروں کو بھگا کر اسجگہ راجھدانی بنالی۔ڈوگروں نے فیروزپور کی جگہ
شہر آباد کیا۔ اور اس کو راجھدانی قرار دیا۔سنہ1740عیسوی سے سنہ1763عیسوی تک
ڈوگروں نے فیروزپور پر حکومت کی۔۔
بحوالہ: تاریخ گلشن راجپوت
مصنف/مورخ/محقق: مولانا نور
محمد پنوار (راندو راجپوت ) املی موتی
تحریر و انتخاب: رانا ذیشان
سرور پنوار راندو راجپوت
19/جنوری/جمعرات
فاونڈر:
کھشتریہ راجپوت
مہا سبھا پاکستان پنوار ہسٹری ریسرچ انٹرنیشنل
نیپال بھٹی راجپوت
بحوالہ کتاب: گلشن راجپوت
مصنف/مورخ/محقق: مولانا نور
محمد پنوار (راندو راجپوت)۔
نیپال بڑے بھٹیوں کا گوت
ہے۔ ستارہویں صدی عیسوی کے ابتداء میں فیروزپور کے پرے دریائے ستلج کے محاذ میں
آباد تھے ۔ڈوگر قوم نے انکو 1740 عیسوی سنہ میں حملہ کر کے فیروزپور سے اوپر بھگا
دیا ۔جسکے عوض میں نیپالوں کے حکمرانوں نے گوجروں کو جو کہ کپور تھلہ کی جگہ برسر
اقتدار قابض تھے۔ انکو اس علاقہ سے نکال دیا۔
اور خود قابض ہوگئے۔اور اس جگہ انہوں نے تلونڈی
نیپالاں آباد کی۔ ان میں رائے منصور۔ ابراہیم خاں ۔مانک خاں ۔ رئیس ہوتے ہیں۔
جن کا ذکر مسٹر ایچ اے روز نے تاریخ گلاسری آف دی ٹرائبس میں کیا ہے۔ جو کہ
اہلووالہ حکام کے ماتحت تھے۔ اور کسی قدر مالیہ بھی ادا کرتے تھے۔مگر وہ بھی جبکہ
کاروار کافی طاقت کے زور سے انکو پسپا کرنے پر مجبور کرتے تھے۔
اب تلونڈی کے نیپال بھٹی
کپورتھلہ ریاست میں تھے۔بڑے حسین جوان اور لطیف ڈیل ڈول والے مگر پوست پینے کے زیادہ
عادی تھے۔ان ک بزرگوں کو حجرہ شاہ مقیم کے پیروں نے مسلمان کیا۔جکپجبکہ وہ گل
قوقوم کے ساتھ لڑ رہےتھے پر پیر صاحب نے درمیان میمیں اپنی چدر امان رکھ دی۔ چادر
کو دیکھ کر نیپال پیچھے ہٹ گئے۔اور گل جاٹوں نے چادر کو پھاڑ دیا۔ تو پیر صاحب نے
جوش میں آ کر فرمایا گل گاہ ۔ نیپال داتری ۔ نیپال قوم نے گل جاٹوں کو علاقہ
سےنکال دیا اور کافی قتل عام ہوئے۔
نیپال بھٹی ۔ فیروزپور ۔ کپورتھلہ ۔ وغیرہ میں آباد تھے ۔جو سب اہل
اسلام تھے۔ تلونڈی میں چوہدری مہندی خاں ذیلدار اچھا با رسوخ آدمی تھا۔سب انقلاب
1947 میں پاکستان چلے آئے۔
تحریر و انتخاب:رانا ذیشان سرور پنوار راندو راجپوت
بانی:
کھشتریہ راجپوت مہا سبھا
پاکستان
پنجابی راجپوت بیٹھک
20/Jan/2024
رائے ہرپال کے بھٹی
مصنف/مؤرخ/مؤلف/تاریخ دان:
مولانا نور محمد خاں راندو (املی موتی)
۱۲۶۵عیسوی کے قریب
ہرپال فیروزپور کی جگہ آباد ہو کر قابض ہونا ہؤا۔ اس کا فرزند رائے مانک ہؤا۔ اس
کا فرزند رائے پانڈو کسی وجہ سے فیروزپور سے موضع بیبڑی شمال کی طرف جا کر قیام پذیر
ہوا۔ اسکے بعد ڈھڈیانوالی بعدازاں شیخوپورہ کو دارالریاست بنا کر اپنی راجدھانی قائم
کی۔ لیکن جٹ اقوام پَڈا نے جو کہ اس علاقہ میں برسر اقتدار تھی مقابلہ کیا۔ بمقام
ڈڈوِنڈی جو کہ اسٹیشن سلطان پور سے جانب شمال ہے۔ وہاں بڑی گھمسان کی لڑائی ہوئی۔
جس سے جٹ قوم کوشکست ہوئی۔ اس خون سے ابتک وہ زمین کا رقبہ سرخ ہے۔ اسکے بعد پانڈو
کے لڑکے رائے کپور خاں نے کپورتھلہ کی بنیاد رکھی۔ اور اسی کو اپنا راج گھرانہ
قائم کیا۔ رائے کپورچند کی بنائی ہوئی عمارتیں ابتک شہر کپورتھلہ میں موجود ہیں۔
اس زمانہ میں اسکے چھوٹے بھائی روپ چند نے علاقہ بیٹ پر کر لیا۔ اور اسکی نسل سے
چالیس گاؤں آباد ہوئے۔ روپ چند کے بڑے بیٹے کا رائے سانڈ تھا۔ جس نے سنڈالہ گاؤں کی
بنیاد رکھی۔ جس کا نڈالہ نام مشہور ہے۔ اور انیس گاؤں نڈالہ سے اٹھ کر ملحقہ تا
حال آباد ہیں۔
دوسرا فرزند رائے ابراہیم خاں
جس نے ابراہیم والی کی بنیاد رکھی۔ اور اس موضوع سے اکیس گاؤں آباد ہوئے۔ تا حال
آباد تھے۔ رائے کپورچند کی اولاد سے سکھوں نے حملہ کر کے رات شبخون مار کر چپکے
بھگادیا جو اسکی چھوتی پشت میں تھا۔ بھاگ کر موضع پگھالا تحصیل وسوہہ چلا گیا۔ جسکی
کی اولاد سے راؤ خورشید خاں اب موجود ہے۔
رائے سانڈ کا فرزند خان چند
پیر شاہ سلیم قریشی ملتانی کے ہاتھوں شرف اسلام سے مالامال ہؤا۔ اور نام خان محمد
ہؤا۔ خان محمد کے تین فرزند ہوئے۔ رائے دادو خاں۔ نورنگ خاں۔ رائے فتح خاں۔ لالد
مر گیا۔ رائے دادو خاں کے تین فرزند ہوئے۔
ہیبت خاں۔ غلام نبی۔ رائے ابراہیم خاں۔ رائے داد خاں نے دادو پور آباد کیا۔ جسکی
اولاد دادوپور۔ نہال گڈھ میں رہی۔ ہیبت خاں نے ہیبت پور گاؤں آباد کیا۔ جس پر بعد
غلام نبی نے قبضہ کر لیا۔ شیر جنگ اس کا فرزند مالک بنا۔ شیر جنگ کے پرپوتے جموں
خاں۔ بُسے خاں۔ کے وقت میں نڈالہ پر سکھوں نے قبضہ کرلیا۔ اور راجپوت بھٹی قوم کو
سخت شکست ہوئی۔ پانی پت کی تیسری جنگ کے وقت جموں خاں کی عمر باراں برس کی تھی۔
نڈالہ میں ابتدائی قلعہ مغلیہ کے وقت سے
بنا ہؤا تھا۔ اس نے اپنی جمیعت قائم کر کے قلعے کے مقابلہ اٹاری قیام کیا۔ اور
اٹاری بنا کر سکھ منگل سنگھ سے مقابلہ کیا۔ جس میں اکبر خاں جو کہ جمو خاں کا رشتہ
وار ماموں تھا شہید ہوا۔ لیکن مقابلہ نڈالہ سے لے کر کرتارپور گیارہ میل ہوتا گیا۔
وہاں جا کر سردار منگل سنگھ جو کہ سکھ جرگہ کا سردار تھا زخمی ہو گیا۔ اس کو اپنے
جرگہ کے ایک مسمی عظیم خاں کے کندھے پر رکھ کر واپس نڈالہ لایا گیا۔ لیکن عظیم خاں
نے آتے ہی نڈالہ میں اسکو زمین پر دے مارا اور سکھ قوم کا قلع قمع ہو گیا۔ بعد میں
اکثر سکھ حملہ اور ہوتے رہے۔ لیکن راجپوتوں نے جان توڑ کر مقابلہ کیا جسکی مثال میں
آجتک راجپوتوں کی آبادی گاؤں کے چاروں طرف باہر باہر ہے۔ جموں خاں کی اولاد اکثر
انقلاب سے اٹھ کر موضع قصوکی تحصیل حافظ آباد میں آباد ہوئی۔ اور باقی نورنگ خاں کی
اولاد صلع منٹگمری چک۶/۱۲ایل میں اور ضلع
لائلپور کے چک ۲۰۷/ایف میں بطور مہاجر آباد ہیں۔ رائے
فتح خاں مذکورہ بالا کی بستی دریا میں غرق ہوئی۔ اور اس میں رائے فتح محمد خاں
بمعہ اہل و اطفال کے غرق ہوئے۔
رائے کپورچند کے تیسرے
فرزند فیروز خاں نے قلعہ فیروزپور پر قبضہ جما لیا۔ جسکو فیروز شاہ تغلق نے حملہ
آوروں کی گزرگاہ روکنے کے لیے دریا کی اوٹ میں تعمیر کروایا تھا جسکے تین دروازہ
تھے۔ جس کا مفصل ذکر تاریخ مخزن پنجاب میں ہے۔ نیپال بھٹیوں نے فیروز کے فرزند سلطان
خاں کو بھگادیا۔ اور وہ علاقہ لاہور کو چلا گیا۔ جہاں اس نے اپنے نام پرستو کے
گاؤں بسایا۔ اور اس کے فرزند میر محمد خاں نے گاؤں میر محمد آباد کیا۔ دونوں بستیوں
میں آج تک انکی اولاد برسر اقتدار قابض ہے۔
تحریر: رانا ذیشان خاں
راندو راجپوت پنوار
بانی: کھشتریہ راجپوت مہا
سبھا پاکستان
راولپنڈی
#rajputana #the_king_of_randu_rajput_parmar
#Bhatti
تاونی یا تراونی بھٹی:
بحوالہ کتاب: نور التواریخ
بھٹی راجپوت
مصنف و محقق: مولانا نور
محمد پنوار (ذات راندو راجپوت ) املی موتی دیپالپور
چوہدری علی محمد خاں افسر
مال صاحب اپنی کتاب راجپوت گوتیں میں اس کے متعلق لکھتے ہیں کہ راجہ سالباہن کے تین
پوتے بھان۔ مان۔ تان تھے۔ بھان سے بھٹی
مان سے منج اور تان سے تاونی ہوئے۔ اگر یہ شجرہ درست ہے تو بھان کے علاوہ سب جادو
بنسی ہیں بھٹی ہونے کا دعوی نہ کریں۔
اور درحقیقت انقلابات
زمانہ کے بعد قوم نام تبدیل کرتی ہے۔ پہلا راجہ بھاٹی تھا۔ کیوں کہ باوجہ باگڑ کے اور پھر راجہ جگپال کے
دو فرزند دھنپال سے بھٹی پنجاب بھٹیانہ۔
مان یا منجپال سے منج
راجپوت مگر تاونی بھٹی ان سے الگ ہیں۔
راجہ تنو جب شکیت کھا کر
راہوں میں چلا آیا تو اپنے فرزند سلہے راج کو راہوں میں چھوڑ گیا۔ اس کی اولاد سے راجہ تان ہوا جس کی اولاد تاونی
کہلاتی ہے۔
اور راجہ تان کا فرزند
راجہ انبہ ہوا جس نے انبالہ شہر کی بنیاد ڈالی۔
جہاں کسی زمانے میں آٹے دانے کا ایک بھاؤ تھا۔ اور تاونی راجپوت امبالہ کے کرب و جوار اور ریاست
پٹیالہ میں پائے جاتے تھے۔ جن میں ہندو
اور مسلمان بھی تھے۔
ریاست سرمور ناہن اور بعض دیگر
پہاڑی ریاستوں کے حکمران اسی قوم سے ہیں۔
انبالہ ڈویژن میں تاونی اور بیکانیر فیروزپور وغیرہ میں تراونی کہلاتے تھے
موضع کوٹھ ریاست بیکانیر کے تراونی رشید خان کی اولاد سے ہیں جو مسلمان ہوا۔ چوہدری علی محمد خاں بھی اسی خاندان سے تعلق
رکھتے تھے
تحریر و انتخاب: رانا ذیشان
سرور خاں پنوار راندو راجپوت
راجپوت ہسٹری ریسر
بانی: کھشتریہ راجپوت مہا
سبھا پاکستان
راجپوت ہسٹری ریسرچ انٹرنیشنل
21/مئی/بروز
منگل 2024
#راجپوت_محکمہ
#Rajput #پنجاب_پنجابی_پنجابیت
وجہ تسمیہ گوت:
بحوالہ گلشن راجپوت
مصنف و محقق و مورخ: مولانا
نور محمد پنوار (ذات راندو) راجپوت از املی
موتی
پہلے پہل تو اولاد کو بنش یا
ونش کہہ کر پکارتے تھے۔ کہ سورج بنس۔ چندر بنس۔ پنوار بنس۔ تنوار بنس۔ وغیرہ وغیرہ مشہور ہوئے۔
اس کے بعد جبکہ بے شمار چھتری ہند پنجاب میں بڑھے۔ تو انہوں نے اپنے مورث
اعلی کے نام سے گوتر مشہور کیا۔
راجپوت گوتیں کا مصنف صفحہ
9 پف تحریر کرتا ہے کہ پرانے لوگ مکان نہیں بناتے تھے ۔ بلکہ جھاڑیاں اور درخت کاٹ
کر اک بہت بڑے گھر کا باڑہ بنا لیا کرتے تھے۔ وہ دشمنوں اور جنگل کے درندوں سے
بچانے میں گویا قلعہ کا کام دیتا تھا۔ مویشی اور ملازم اور دیگر لوگ جو زیر حفاظت رہنا چاہتے تھے۔ اس اک ہی باڑہ میں
زندگی بسر کرتے تھے۔ اس باڑہ کا اک ہی سردار ہوتا تھا۔ جس کے نام پر باڑہ مشہور
ہوتا تھا۔ ہر شخص کو اپنا پتہ بتانے میں ظاہر کرنا پڑتا تھا کہ میں فلاں شخص کے باڑہ سے
ہوں۔
باڑہ کو سنسکرت میں گوت (گوتر) کہتے ہیں۔ ان سب لوگوں کا جو اس
باڑہ میں رہتے تھے۔ اس سردار باڑہ کا نام ہی گوت مشہور ہو جاتا تھا۔
مگر یہ غلط بات ہے ۔ کیونکہ
باڑہ یا گاؤں میں اک قوم یا قبیلہ کے لوگ
نہیں رہتے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ مختلف قبائل کے لوگ اک ہی سردار کی اولاد مشہور ہو جائیں۔ ایسے تو آجکل بھی جو لوگ گاؤں
میں بستے ہیں۔ تو کیا وہ اک ہی شخص کی اولاد قرار پائیں گے ؟۔
تحریر: رانا ذیشان سرور
راندو پنوار راجپوت
بانی: کھشتریہ راجپوت مہا
سبھا پاکستان
راجپوت ہسٹری ریسرچ انٹرنیشنل
راولپنڈی
#Parmar #Panwar #راجپوت_محکمہ
وَٹو راجپوت:
بحوالہ کتاب: گلشن
راجپوت و نور التواریخ بھٹی راجپوت:
مؤلف و مصنف: مولانا
نور محمد خاں پنوار (راندو) املی موتی
وٹو قوم کا ذکر تاریخ حصار
میں ڈپٹی امین نے کیا ہے۔ کہ وٹو کی پیدائش قلعہ حصار میں ہوئی۔ جس کا نام دھم
تھا۔ پنوار قوم سے لڑ کر اِس نے رنج نکالا جسکی وجہ سے وَٹ نکالنے والا وٹو نامزد
ہوا۔ اور میراثی لوگ بھی یہی دعا دیتے ہیں کہ الہی وٹو کا وٹ قائم۔ دھم عرف وٹو کے
تین فرزند تھے۔ برہم۔ ورٹ۔ جوپو۔ اور برہم کے دو فرزند سدھر اور بھیم ہوئے۔ سدھر
کے چار فرزند ہوئے۔ لَور۔ جاگو۔ مہوا۔ رَودَا۔ دھم عرف وٹو کی حکومت حصار پر رہی۔
اور وہ زمانہ تقریباً ١٢٤٠ء کا تھا۔ جاگو کے فرزند یہی سے یہی وٹو مشہور ہیں۔ اور
مہوا کا پوتا لالہ کے فرزندوں میہنہ و گنڈ سے ابھی تک میہنہ و گنڈ مذہبی سکھ تھے۔
جو کوٹ کپورا کے علاقہ میں بستے تھے۔ بھیم کی اولاد بِھیں کے اور اسکے فرزند ساہو
کی اولاد ساہو کے وٹو راوی پر آباد ہیں۔ اور کچھ ان میں سے وٹو گاؤں تحصیل مکتسر میں
آباد تھا۔ وہ بھی انقلاب میں راوی کے آر پار آباد ہوئے۔
لَور بن سدھر کی اولاد سے
باہو اک راجہ نامور گزرا ہؤا ہے۔ جسکے گیت مراثی لوگ گایا کرتے ہیں۔
کہ
پنج باہو چھ کھیو گاواں
میں جدی ہاں میر سبھنا دا
یعنی باہو کے پانچ فرزند
ہوئے۔ جس سے وٹو قوم کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ ان کی ہمیشہ پنوار کھرل قوم سے جنگ و
جدل رہتی تھی۔ اور یہ بھی دھوکہ کیے بغیر نہیں رہتے تھے۔ اِسلئے بجائے بھٹی کے
انکو وٹو کہنے لگے۔ کہ دل میں رنج یعنی وَٹ رکھتے تھے۔ اور مخالف راجپوتوں کے میراثیوں
نے انکو وٹو کا خطاب دیا۔ وہ زمانہ انتہائی ذات پات کا تھا۔ ہر ایک راجپوت اپنے آپ
کو دوسرے سے افضل جانتا تھا۔ اور یہی وجہ اسکی ترقی اور پیچیدگی کی قائم ہے۔ جس
طرح مذہبی فرقے اک دوسرے پر فوقیت رکھتے ہیں۔ اور ہر فرقہ اپنے آپ کو اصل اور ناجی
جانتا ہے۔ مسلمان تو کجا با وریہ وٹو قوم بھی یقیناً اپنے آپ کو تم فرقوں سے افضل
جانتے ہیں۔ کہ ان کو انکے بھگوان نے مسلمان نہیں پیدا کیا۔
راجہ باہو عنبر بھٹی کا
ہمعصر گزرا ہے۔ اور تقریباً بارہویں صدی کے اختتام میں ہؤا ہے۔ باہو مکتسر کی جگہ
آباد تھا۔ اور عنبر ابھور سے بھٹنیر تک۔ وٹو آہستہ آہستہ حصار سے مغرب کی طرف پھیلتے
آئے۔ باہو کے پانچ فرزند رائے روپ چند عرف روپو۔ جسویا جیسنگھ۔ چکو۔ ڈہکو۔ چوچک۔
رائے روپ چند نے عین وسط علاقہ میں اپنے نام پر حاکم وقت کی اجازت سے روپانہ آباد
کیا۔ جو آجتک موجود ہے۔ راجہ باہو اس وقت زندہ تھا۔ اور اسی زمانہ میں بیرسی بھٹی
نے ١٣٠٤ء میں بھٹنیر پر حملہ کیا۔ اور بھٹنیر کو فتح کر کے اس پر قبضہ کر لیا۔ جیسنگھ
عرف جسو کی اولاد بعد مدت کوٹ کپورا کی طرف چلی گئی۔ اور مسمیان چوچک۔ ڈہکو۔ چکو علاقہ بہاولپور کی طرف چلے گئے۔ رائے چکو کی
اولاد سے مسمیان قطب و سوہنا۔ حاصل نے موضوع قطب ساڑو علاقہ بہاولپور میں آباد کیا۔
انکی گوت بنام ساڑو مشہور ہوئ۔ وجہ تسمیہ ساڑو کی یہ ہے۔ کہ ان کے کسی بزرگ نے چند
دیہات علاقہ بہاولپور میں جلا دئیے تھے۔ اسلئے ان کی قوم کا لقب ساڑو مشہور ہوا۔
باقی اولاد چوچک کے ہی کہلاتی ہے۔
رائے چکو کے چار فرزندوں سے چار خاندان وٹوؤوں کے مشہور ہوئے۔ ملکانے۔
ملکوکے۔ شیخیکے۔ گگڑ کے وٹو کہلائے۔ کھوئیاں ملکانیاں تحصیل سرسہ ضلع حصار میں
ملکانے وٹوؤوں کا بہت بڑا گاؤں تھا۔ جس کا رقبہ چودہ ہزار بیگھہ کا تھا۔ اور اس
جگہ کے دو نمبردار دونوں ہی ملکانے وٹو تھے۔ اور تمام گاؤں برادری کا تھا۔ اعلیٰ
نمبردار سردایخاں۔ دوسرا نمبردار شاہ محمد جو کھیڑے کا تھا۔ توگیکے وٹو جو ان کے
رشتہ دار تھے۔ اس علاقہ میں آباد تھے۔
رائے روپ چند روپانہ میں حکمرانی کرتا رہا۔ منجملہ اولاد چکوکے۔ کچھ دیہات
علاقہ پاکپتن میں سے ملکیت اولاد چکوکے ہیں۔ جو انہوں نے دریا کے اس پار سے اٹھ کر
آباد کیے ہیں۔ مگر رائے روپ چند نے ابتداء سے عادت زمینداری کی پیدا کی۔ اور وہ بھی
اس علاقہ میں باتمیز و نامی ہوا۔ اور بلحاظ ہندو ہونیکے خطاب اس قوم کا رائے تھا۔
رفتہ رفتہ جب وہ مالدار بن گئے۔ تو ان کو کسی ایسے مقام کی تلاش ہوئی۔ جہاں دریا
قریب ہو۔ اور مویشیوں کے لیئے گھاس اور پانی دستیاب ہوسکے۔ دریائے ستلج عرف نیلی
کے کنارے پر جہاں اب ہیڈ سلیمان ہے۔ سے جنوب کی طرف اک بہت بڑا اونچا کھنڈر پڑا
تھا۔ کسی زمانہ میں وہ بڑا بھارا قلعہ تھا۔ جسکو نول راجہ پھولرون پنوار نے تعمیر
کرایا تھا۔ اور اس کا نام پِنے وَل تھا۔ یعنی پِنے کی طرح گھوم کر قلعہ کے اندر
داخل ہونا پڑتا تھا۔ اور وہ اس لحاظ سے نہایت مضبوط قلعہ تھا۔ جسکو دریائے ستلج نے
ویران کر دیا۔ اس سے پہلے دریائے ستلج کوٹ قبولہ کے نیچے بہتا تھا۔ دیپالپور سے
مشرق کی طرف ملکہ ہانس کی سرزمین سے گزرتا ہوا کوٹ قبولہ کے نیچے بہتا تھا۔ اک ندی
اس سے پھٹ کر فیروزپور کی سرزمین میں چلتی تھی۔ یہ دریا راتو رات کسی بزرگ کی دعا
سے اسی ندی میں منتقل ہو گیا۔ اور برابر کافی مدت تک اسی جگہ بہتا رہا۔ دریا جبکہ
ابن بطوطہ فیروز شاہ کے زمانہ میں دوبارہ ہندوستان میں آیا۔ تو دریائے ستلج ابھور
موجودہ کے مغرب کی طرف بالکل مل کر بہتا تھا۔ جسنے ابھور کو بھی نیچے اوپر کر کے
مغرب کا راہ لیا۔ کہ جہاں اب بہہ رہا۔ چلا گیا۔
تقریباً ١٢٥٠ء میں دریائے
ستلج نے پِنے وَل قلعہ کو زیر و زبر کیا۔ اور اس کھنڈر پر رائے روپ چند نے آبادی کی۔
اب بھی دریا میں قلعہ کی دیوار قائم کھڑی ہے۔ جسکے نشانات ملتے ہیں۔ دریائے ستلج
کے پار پھولرون پنوار آباد تھے۔ رائے روپ چند کا ان سے مقابلہ ہؤا۔ اس وقت پھولرون
قوم کا دارالریاست بپروال تھا۔ رائے روپ چند کے پانچ فرزند تھے۔ رائے کھیوا۔
بھوجا۔ اودہو۔ کالو۔ باسی۔ سارنگ۔ غریب۔
بھوجا کے تین فرزند مسمیان مالا۔ کموں۔ تاجا علاقہ سرسہ کو چلے گئے۔ اور اب
انکی سرسہ سے اٹھ کر پاکستان چلی آئی۔ رائے روپ چند کے فرزند اکبر کھیوا پِنے وَل
آباد ہوگیا۔ کچھ مدت ہی گزری تھی۔ کہ وہ بھی صدمہ دریا سے ڈوب گیا۔ موضع ہلو سیکھو
کی حد میں اسکے نشانات ملتے ہیں۔ پنجاب میں نیلی کی بھینس مشہور ہے۔ کیونکہ دریا
کا پانی سردیوں میں نیل جیسا صاف ستھرا بہتا ہے۔ کہ تلے تک ہر چیز نظر آتی ہے۔ اور
بھینس کے لیے باریک اور صاف ستھرے پانی اور اچھے سبز گھاس کی اشد ضرورت ہے۔ بھینس
کو خداوند کریم نے ایک دودھ کی بہشتی نہر بنائی ہے۔ جو فی الواقعہ اوپر سے نیچے کو
بہتی ہے۔ مگر بغیر ازن کے اک قطرہ بھی نقصان نہیں ہوتا۔ اور بھینس بڑی امیر اور رئیس
ہے۔ ذرا سے دکھ میں اس کا دودھ کم ہو جاتا
ہے۔ چرواہے انکو اندھیری رات میں چرا کر دن نکلنے پر ٹھنڈی جگہ دریا میں بٹھاتے ہیں۔
اور پھر ٹھنڈے وقت میں ٹہلا کر دودھ دوہتے ہیں۔ نیلی کی اصل بھینس رنگ سیاہ جسم نیلگوں۔
ویل لمبی۔ دم زمین تک۔ سر چھوٹا۔ گردن لمبی اور گلے میں ہنس روپہری قدرتی ہو۔ یعنی
قدرتی لکیر۔ درجہ دوئم نیچے کان۔ آنکھ مانکی۔
حاجی ساگر مراثی وٹواں کے نے کھیوا
کی بابت سویا کہا ہے۔
حاجی ساگر سہوالی منہ اکھ
سنائے گل
کھیوے کیا میاں جندیاں کسیاں
مریندے جمدے تک
جونہر دھار سکھ جویں ملک
بھٹی تھر تھل
خصم کھیوا تے جنگل بہت
وٹواں برابر کونہاں برابر کے جھل
تحریر: رانا ذیشان خاں
پنوار (راندو)
راولپنڈی
بانی: کھشتریہ راجپوت مہا
سبھا پاکستان
راجپوت ہسٹری ریسرچ
انٹرنیشنل
تُنور رَاجپُوت٘
بحوالہ کتاب: تواریخ گلشن
راجپوت جلد چہارم
مصنف و مورخ: مولانا نور
محمد پنوار (راندو) املی موتی
تُون ور یا تُنوار یا تُنور
جسکو تُور کہتے ہیں ۔ راجہ ارجن ولد پانڈو دہلی کی اولاد سے ہؤا۔ راجہ کماؤں پال
کو اس کے وزیر نے ۶۷۵ برس قبل مسیح قتل کر کے دہلی کا
راج چھین لیا۔ کماؤںراج کے دو فرزند ہوئے۔ کیمک عرف تپشیر اور ستیا کرن۔ راجہ تپشیر
کماؤں میں راج کرتا رہا۔ جس کا دوسرا بھائی ستیا کرن کشمیر کے ایک حصہ پر قابض
ہوا۔ جسکی اولاد بلاوریہ کے حکمران ہیں۔
راجہ تپشیر کے دو فرزند
تومر پال اور ابھنگ ہوئے۔ تومر پال کو تونگپال بھی کہتے ہیں۔ اس سے خاندان تومر۔
تومار۔ تُنوار۔ تُنور۔ تُور۔ مشہور ہوا۔ تومر پال کی کافی پشتوں بعد موہبہ ہوا۔ جس
نے موہبہ شہر کی بنیاد رکھی۔ اور اس کو اپنا دارالریاست قائم کیا۔ اسکے مدت بعد
راجہ کُہنہ ولد کالو کے آٹھ فرزند ہوئے۔ جن سے آٹھ ہی تومار کے قبیلے مشہور ہوئے۔
اگر سین۔ کلانہ۔ باگھور۔ اگور۔ چت۔ موہن۔ سِنگھا۔ کاہنا۔
ادردہ اگرسین کا فرزند
ارجمند تھا۔ اور اس نے تخت حکومت پر اس زمانے قدم رکھا۔ جبکہ اندرپربت تباہ و
برباد ہو چکا تھا۔ کیونکہ مہاراجہ شہنشاہ ادتیہ بکرماجیت پنوار نے راجہ بھگونت سے
دہلی کا راج ۶۲ برس قبل مسیح چھین لیا تھا۔ اور
دارالخلافہ دہلی سے منتقل کر کے اوجین میں قائم کیا تھا۔ اس روز سے تین سو ساٹھ
برس راج پنوار قوم کے قبضہ و قدرت میں رہا۔ اور پھر اس طرح آٹھ سو برس دھلی ویران
پڑی رہی۔ اور آخر راجہ رام پرمار والئ تلنگانہ نے دہلی اور مارواڑا وغیرہ علاقے
فتح کر کے راجپوت قوموں کو پھر دوبارہ قائم کیا۔ کیونکہ دوسری صدی بکرمی کے بعد
جاٹ قوم جو شاکا تھی۔ انہوں نے براستہ کشمیر تمام ملک پر قبضہ کر لیا تھا۔ جنکی
بقایا ریاستیں دھولپور اور بھرتپور ہیں۔ انکے پنجہ ظلم سے دوبارہ راجہ رام پنوار
نے انجمن قائم کی۔ جس تحریک میں تمام ۳۶ اقوام شاہی
راجپوت شامل ہوئے۔ اور کامیابی حاصل کرنے پر اس طرح ہر ایک فرقہ راجپوت اپنی پرانی
جدی وراثت پر قائم ہؤا۔
ٹھاکر بیلن دیو تُنور نے ۷۱۳
بکرم مطابق ۶۰۶عیسوی میں دھلی کے تخت پر قدم رکھا۔
اس سے پہلے یہ دکن میں راج
کرتے رہے۔ ٹاڈ راجھستان صفحہ ۴۴۶ دارالحکومت دہلی
کے ٹھاکر بیلن دیو نے تخت تخت دہلی پر قدم رکھ کر پنڈتوں کے فرمان کے مطابق اننگ
پال نام رکھا۔ اور شہر کو خوبصورت عمارتوں سے رونق دی۔ اور ایک لاٹھ جگ کرنے پر
گڑوائی پنڈتوں نے کہا کہ تیری اولاد میں ہمیشہ دہلی کا راج رہے گا۔ کہ ہم نے اس
آہنی لاٹھ کو شیش ناگ جو زمین کو تھامے ہوئے ہے کے پھن میں ٹھونک دی ہے۔ جس پر
راجہ اور امراء کو یقین کامل نا آیا۔ جس پر لاٹھ نکلوا کر دیکھی تو دوبارہ لاٹ
گڑوائی پنڈتوں نے کہا کہ اکیس پشت راج دہلی میں رہے گا۔ مگر یہ برہمنوں کی بنائی
ہوئی باتیں ہیں۔ اسی طرح ہمارے علماء اسلام نے جو پشین گوئیاں تراشی ہیں وہ سب بعد
میں تراش کر عوام کو یقین دلایا ہے۔
راجہ کنور پال جو کہ ۹۵۷بکرم
مطابق ۹۰۱عیسوی میں دہلی کا تاجدار تھا۔ اسکے
دو فرزند ارجمند ہوئے۔ اننگ پال۔ بجے پال۔
اننگ پال ۹۹۳بکرم میں دھلی پر جلوہ افروز ہؤا
اور اس کے بھائی کو دھلی کے نواح میں جاگیر عطاء ہوئی۔ تاریخ حصار کے صفح ۲۳
پر امین چند افسر مال صاحب تحریر کرتے ہیں کہ اننگ پال کے بھائی بجیپال نے اس ضلع
میں پہنچ کر موضع بہوٹہ کو اپنی ریاست گاہ بنایا۔ راجہ اننگ پال کے مرنے پر چونکہ
اس کی اولاد کمسن تھی۔ اسلئے ۱۰۰۰بکرم میں بجے
پال والئی بہوٹہ کو تخت دھلی پر بٹھایا۔ راجہ بجے پال نے ۲۹
برس راج کر کے کوچ کیا۔ اور اس کے بعد اننگ پال کے اکبر فرزند مہی پال کو تخت دہلی
کا ملا۔ آخر مدت بعد پرتھی پال تُنور سے بیسل دیو چوہان نے فتح پائی اور
دارالخلافہ اجمیر قائم ہؤا۔ پرتھی پال کے بعد راجہ اننگ پال نے آخری راج سنبھال لیا۔ پرتھی پال نے۳۴ برس راج کیا
تھا۔ کہ بیسل دیو نے دہلی پر فتح پائی۔ تین سو برس بغیر کسی تنازعہ کے تُوروں نے
دہلی پر راج کیا۔ اسکے بعد پرتھی پال بیسل دیو چوہان کا ۳۸
برس خراج گزار رہا۔ پھر اس کا فرزند فرخ خال راجہ اننگ پال ۱۱۴۵بکرم
میں دہلی کے تخت پر جلوہ افروز ہؤا۔ اسوقت اجمیر میں سومیشوردیو راج کر رہا تھا۔
راجہ اننگپال کی دو راجکماریاں تھیں۔ بڑی راجکماری کی شادی راجہ بجے پال والئی
قنوج سے کر دی جس سے راجہ جیچند ہؤا۔ اور دوسری راجکماری راجہ سومیشور دیو چوہان
کو بیاہی۔ جس سے پرتھوی راج ہؤا۔ جن کا ذکر ہو چکا ہے۔
راجہ اننگپال کے نرینہ
اولاد نہ تھی۔ آخری عمر میں خداوند کریم نے پانچ فرزند عطا کئے۔ سلونپال۔ ہونپال۔
جگپال۔ مدنپال۔ ابھے پال۔
دیکھو پرتھوی راج۔ سرتاج
التواریخ۔ تاریخ حصار۔
راجہ اننگ پال کے والد
پرتھوی پال نے لال کوٹ ۱۱۰۹بکرم مطابق ۱۰۵۲عیسوی میں بشوق
اننگپال بنایا تھا۔ چنانچہ لوہے کی لاٹ پر بھی یہی تاریخ درج ہے۔ پرتھوی راج نے ۱۳۳۷بکرم اور زیادہ
فراخ کروایا۔ راجہ اننگپال کا راج شمال میں ہانسی سے اور مشرق میں دریائے گنگ تک
اور مغرب میں اجمیر اور جنوب میں آگرہ تک پھیلا ہوا تھا۔ شہر دہلی کے ارد گرد فصیل
تھی۔ کچھ بند اور تالاب جنوب و مشرق میں دھلی سے کوئی آٹھ میل کے فاصلہ پر موجود ہیں۔
دیکھو دارالحکومت دہلی۔ اس راجہ نے پچیس عمدہ اور نفیس سنگ سرخ اور سفید سے مندر
بنوائے۔ جس کے مال مصالحہ سے دیڑھ صدی بعد قوۃ الاسلام کی مسجد قطب الدین ایبک نے
بنوائی۔
راجہ اننگپال نے ۱۱۵۱بکرم
میں حکومت دھلی قائم کی۔ اور اجمیر وغیرہ ریاستوں کو خراجگزار بنایا۔ مگر چوہانوں
نے ماتحتی کو لفافہ ہی بنائے رکھا۔ راجہ اننگپال نے فیروز شاہ کوٹلہ سے راجہ اشوک
کے مینار تک کتبے لکھوائے۔ جو ظاہر کرتے ہیں کہ راجہ اننگپال تنور نے ۱۱۶۴بکرم
میں اس کی سلطنت کوہ ہمالیہ سے لے کر بندھیاچل کے پہاڑوں تک اور دریائے نربدا تک
پھیلی ہوئی تھی۔
راجہ اننگپال کے پانچ فرزند
تھے۔ گو مورخین نے اسکو لاولد لکھا ہے۔ مگر بچوں کی صغیر سنی کے لیے راجہ اننگپال
نے اپنے نواسے پرتھوی راج چوہان راجہ اجمیر کو دھلی کے تخت پر بطور متبنّٰے بٹھایا۔
پرتھوی راج میں درج ہے۔ کہ اننگپال نے آخری عمر میں بدری نارائن پہاڑ پر جاتے وقت
پرتھوی راج اپنے نواسہ کو دھلی کا تخت سونپ دیا۔ آخر جب اس سے طلب کیا تو اس نے
انکار کردیا۔ جس پر
مراثیوں کا دوہا بھی ہے
پہلے دِلّی تُوراں پھر لئی
چوہان
مامیں کولوں بھانجے کیتا
زور دھگاناں
اس دوہا سے ثابت ہوا کہ
اننگپال کی اولاد تھی۔ جسکو پرتھوی راج چوہان کا ماموں کہا گیا ہے۔ اننگپال آخری
نے۱۲۲۷بکرم مطابق ۱۱۷۰عیسوی
میں انتقال کیا۔ اننگپال اول سے آخری تک توُروں نے ۵۱۴ برس راج کیا
تحریر: رانا ذیشان سرور خاں
پنوار (راندو)
بانی: کھشتریہ راجپوت مہا
سبھا پاکستان
راجپوت ہسٹری ریسرچ انٹرنیشنل
#rajputana
#the_king_of_randu_rajput_parmar
ذکر کاٹھیہ بانی کاٹھیاواڑ
بحوالہ کتاب: گلشن راجپوت
مصنف/مؤرخ/مؤلف/محقق:
مولانا نور محمد پنوار راندو راجپوت
تحریر: رانا ذیشان سرور خاں
پنوار راندو راجپوت
بانی:کھشتریہ راجپوت مہا
سبھا
راجپوت ہسٹری ریسرچ انٹرنیشنل
راجہ کاٹھی یا کاتی نے اپنے
نام پر کاٹھیاواڑ شہر آباد کیا۔ جس کے نام
نامی کی یادگار ابتک کاٹھیاواڑ مشہور ہے۔
راجہ کاتی بڑا پرانا نام ہے۔ سکندر جس وقت ہندوستان پر حملہ آور ہوا تو
کاٹھیہ قوم یہاں پر قابض تھی۔ یہ قوم جسوال کی اک شاخ ہے۔ انکا مورث اعلی بھوم چند
ہے۔ روایت ہے کہ یہ پہلے گجرات کاٹھیاواڑ میں آباد تھی۔ گزشتہ دواپریگ میں وہاں سے
ملتان کے رستہ کانگڑہ آئی۔ یہ قوم اپنا نام کٹوچ بھی وہاں سے اپنے ساتھ لائی۔ کیونکہ
کے اس سے پیشتر علاقہ گجرات قوم کاٹی کے قبضہ و اقتدار میں تھا۔ جس کے نام سے ملک
کا نام کاٹھیاواڑ ہوا۔
بھوم چند کی اولاد سے سسرم
چند کانگڑہ کی گدی پر رونق افروز تھا۔ مہابھارت کی جنگ عظیم دریودھن کی طرف سے اس
نے فن حرب کے وہ جوہر دکھلائے کہ ارجن جیسے اپنے زمانہ کے مشہور بیر کو بھی اس نے
لاچار کر دیا۔ آخر مقتول ہوا۔ اس کی اولاد سے مہاراجہ لچھمن چند کے دو فرزند پدم
چند۔ سنسار چند ہوئے۔ آخری لڑکا نگرکوٹ کی گدی پر رونق افروز ہوا۔ اس کی اولاد کے
کٹوچ سہیہ۔ سروچ۔ اور ڈڈوال راجپوت ہیں۔ جنکی آبادی زیادہ تر کانگڑہ و ہوشیارپور میں
ہے۔ پدم چند کے چھوٹے بھائی پورب چند نے علاقہ جسوال میں اپنی علیحدہ ریاست قائم
کر لی۔ اس کی اولاد جسوال کے نام سے مشہور ہوئی۔
2/FeB/2025 Sunday
منج راجپوت:
بحوالہ: گلشن راجپوت
نور التواریخ بھٹی راجپوت
مصنف/محقق/مولف:
مولانا نور محمد پنوار راندو راجپوت آف
املی موتی
چوہدری غلام قادر صاحب اپنی
کتاب تاریخ راجپوتاں پنجاب میں منج کو سالباہن اول کی اولاد قرار دیتے ہیں۔ مگر
شجرہ نسب بالکل غلط ہے۔ جس میں منج کا نام ہی نہیں آتا۔
ہاں چودھری عبدالعزیز خاں
نے اک مضمون منج راجپوت یکم نومبر 1944 میں مقابلتہ دیا تھا۔ کہ منج بھٹی ہیں۔ اور
راجہ اچل کے فرزند جگپال کے فرزند میں سے چھن پال کا فرزند منج ہوا۔ اور دھن اول کی
اولاد بھٹیانہ بھٹنیر کے بھٹی ہوئے۔ اور یہ
شجرہ نہایت درست ہے ۔
چودھری علی محمد خاں افسر
مال صاحب رئیس مانک پور نے اپنی کتاب میں اک دوہا کی مثال دیکر سالباہن کا پوتا
قرار دیا ہے۔
کہ
منج۔ بھٹی۔ تاؤنی اکو
خانوادہ
راجکمار کے بیٹے سالباہن
دادا
مگر بالکل درست شجرہ چودھری
عبدالعزیز خاں ساکن میلسیاں کا ہے۔ جس میں کوئی خالی نہیں۔ کیونکہ اچل جوندھر کا
فرزند ہے۔ اور جوندھر کو سالباہن سے کچھ واسطہ نہیں ہے۔
منج کا پوتا موکل سین جس نے
اپنے نام پر ندی کنارے "موکل سر" قلعہ تیار کیا۔ جو اب فرید کوٹ ہے۔
مگر چودھری عبدالعزیز خاں
نے موکل سین کو اچل کی نانویں پشت میں ہونا قرار دیا ہے۔ اور تاریخ میں دیکھا ہے
موکل سین نے ندی کنارے قلعہ بنوایا۔ اس وقت دریا
فرید کوٹ کے مغربی طرف سے شمال کی طرف جنوب کو بہتا تھا۔
موکل سین کے فرزند جگدھیر
کے چار فرزند ہوئے۔ ویرسی۔ جیرسی۔ میلسی۔ اودے سی۔ مواخرالذکر لاولد گزرا۔
ویرسی کا فرزند تلسی رام
1323ء میں حضرت مخدوم جہانیاں رحمتہ اللہ
کے دست مبارک پر اسلام لایا۔ اور شیخ چاچو کے نام سے مشہور ہوا۔ اس وقت غیاث
الدین تغلق دہلی کا بادشاہ تھا۔ اس نے شیخ چاچو صاحب کو تیاڑہ کا ویران علاقہ بطور
انعام مرحمت فرمایا۔ اور اس کے لڑکے بھرو کو اختیار حکمرانی کے دربار سے عطاء
ہوئے۔ اور رائے صاحب کا خطاب ملا۔
چودھری غلام قادر صاحب نے
رائے تلسی رام عرف شیخ چاچو کی دو بیویاں درج کی ہیں۔ کہ زوجہ اول حسان بی بی سے
راجہ رائے بھرو۔ ڈلا رائے ۔ رائے روپو۔ اٹل دیو۔ کھوس دیو۔ مہراج۔ شیورام۔ جنکی اولاد کا نہیں پتا۔ رائے بھرو کے
دو فرزند رائے ڈلہ اور رائے چکو دہلی میں شاہی ملازم تھے۔ اس زمانہ میں تغلق
بادشاہ تھا۔ چونکہ بادشاہ بھی حضرت مخدوم صاحب کا مرید تھا۔ اسلئے بادشاہ کو ان
دونوں کی خاطف زیادہ تر منظور تھی۔ بادشاہ نے ان ہر دو کو خطاب رائے عطا فرمایا۔
اور تہاڑا کا علاقہ برائے آبادی دے دیا۔ اور کچھ خراج شاہی بابت اس علاقہ کے مقرر
کر دیا تھا۔ ان ایام میں تہاڑہ جو سرحد ہرسہ جاگیروں کے مقرر تھا۔ 13600 دیہات
تھے۔ جنگی تفصیل اس میں درج ہوگی۔
رائے جگدھیر کے تین فرزندوں
میں سے تین فرزند بااولاد ہوئے۔ 1 ویرسی۔
2 جیرسی۔ 3 میلسی۔
1:اولاد
رائے ویرسی تلونڈی رائے ڈلہ وغیرہ۔
2:اولاد جیرسی
ضلع لدھیانہ کوٹ عیسی خاں ضلع فیروزپور۔
3: اور
اولاد میلسی قصبہ ملسیاں ضلع جالندھر۔ ان ہرسہ کی حدود کا کا نشان سرحدہ تھا۔ جس
علاقہ کو بعد تہاڑا کے نام سے موسوم کیا گیا۔ چنانچہ اصل ملسیاں ضلع جالندھر میں
تھیں۔ مگر اس کی اولاد نے دوسرا موضع ملسیاں لدھیانہ میں اور تیسرا موضع ملسیاں
تحصیل زیرہ ضلع فیروزپور میں آباد کیا۔
تمام منجکی علاقہ حدود مشرق
کی طرف ماچھیوڑہ تک اور جانب شمال
کپورتھلہ اور دکن کی طرف فیروزپور۔ کوٹ کپورا تک تھی۔ نیز کچھ دیہات دریائے ستلج کے پار تھے۔ اس
علاقہ کی بابت پانچ لاکھ روپیہ نذرانہ شاہی مقرر تھا۔
ستلج کے اس پار سرحد پر
رائے ڈلہ نے اک موضع ڈلہ متصل قصبہ سلطان پور علاقہ کپور تھلہ میں آباد کیا تھا۔
جو آجتک آباد ہے۔ اور وہاں تک حد رائے ڈلہ کی تھی۔ رائے ڈلہ نہایت شجاع دلیر اور غیور
تھا۔ اس زمانہ میں کوئی اس کا ہمسر نہیں تھا۔ 1393ء میں ان کا والد رائے بھرو اس
دار فانی سے راہی عدم ہوا۔ رائے ڈلہ نے ریاست جدی پر جو ان دنوں دن بدن بڑھتی چلی
جاتی تھی۔ قابض ہو کر اپنا دارالریاست موضع ڈلہ مقرر کیا۔ اور کل علاقہ کا مالک
رائے ڈلہ ہوا۔
چودھری عبدالعزیز خاں کے
مضمون کے مطابق کہ شیخ چاچو کے 9 لڑکے تھے۔ رائے کلہا۔ جس نے تلونڈی اور رائے کوٹ
آباد کیا۔ دوسرا رائے جیت۔ تیسرا جگراؤ جس نے اپنے نام پر جگراؤں قصبہ آباد کیا۔
جسکے چار فرزند ہوئے۔ شندیو جس نے دوسری جگہ جگراؤں علاول پور کے قریب آباد کی۔
دوسرا محمود رائے پور بگوٹہ جالندھر۔ تیسرا
احمد "خاں پور " اپرہ کے نزدیک آباد کیا۔ چھوتا کامراج نے "کھڑکا" بسایا۔ جسکی کی چوتھی پشت میں رستم خاں ہوا۔ جس کی دو
بیویوں سے سات فرزند ہوئے۔ جیویخاں۔ محمود خاں۔ رسول خاں۔ بہرام خاں۔ دوسری بیوی سے لکہو۔ سکندر خاں۔ علاءالدین۔
پتاول خاں۔ دوسری پتی لکہو کو موسوم ہوئی۔
شیخ چاچو کا چوتھا فرزند
جلال خاں جسکے بیٹے مبازہ خاں نے جلال آباد
قصبہ بسایا۔ جو دھرم کوٹ کی
سڑک پر واقعہ ہے۔ اور جلال آباد شرقی مشہور ہے۔
پانچواں تلون۔
چھٹا ہمیر دیو۔
ان کے علاوہ تین اور تھے۔
مگر چودھری غلام قادر صاحب اسکے خلاف لکھتے ہیں۔ کہ رائے چکو فرزند رائے بھرو کا
فرزند ملک ہوا۔ جس کے چار فرزند رائے بدرالدین۔
رائے قطب الدین۔ کلیان چند۔ حکم چند ہوئے۔ رائے بدرالدین کا فرزند رائے تگو ہوا۔ جس نے 1463ء میں طفل پرگنہ
اکال گڈھ میں آباد کیا۔ اسکی اولاد حسب ذیل ہے۔
1۔
بڈھا۔ اسکی اولاد اٹھارہ کسی تھے۔ دیہات
منال۔ باید۔ مٹے وال آباد تھیں۔
2۔
کالیخاں اسکی اولاد لوبٹ بدی۔ کلیان پروری۔ دہلیز میں آباد تھے۔
3۔
رائے کلہا نے رائے کوٹ آباد کیا۔
4۔
رائے داؤد موضع طفل میں آباد ہوا۔
5۔
رائے روپو نے موضع سدھار آباد کیا۔ جس نے
موضع برج حکیم میں سکونت اختیار کی۔
صاحبو بی بی زوجہ شیخ چاچو
سے الپال لڑکا ہوا۔ جسکی اولاد حسب درج ہے۔
الپال کے چار لڑکے ہوئے۔ اسیج
خاں موضع شاہجہاں پور پرگنہ بسیاں میں آباد کیا۔
دوسرے جلال خاں جس نے موضع جلالوال آباد کیا۔ نیز اسکی اولاد
سلطان خانوالہ اور ضلع راولپنڈی میں ہیں۔ شروع شروع میں خوشاب اور تلہ گنگ کے
علاقوں میں پھرتے رہے۔ اب تحصیل فتح جنگ کے شمالی حصہ میں آباد ہیں۔
تیسرے جپر خاں جو کہ موضع
ستوال آباد ہوا۔
چوتھا بڈھے خاں کی اولاد
مختلف جگہ آباد ہے۔
جاری ہے
تحریر و انتخاب:
رانا ذیشان سرور پنوار
راندو راجپوت
بانی: کھشتریہ راجپوت مہا
سبھا پاکستان
راجپوت ہسٹری ریسرچ انٹرنیشنل
16/July/Tue/2024
#rajput #history #punjab
دیوراج بھٹی صدر مقام دیراول
گڑھ
بحوالہ کتاب: تواریخ گلشن
راجپوت و نور التواریخ بھٹی راجپوت*
مصنف: مولانا نور محمد
خاں پنوار راندو (املی موتی)
راجہ بجے راج کے فرزند کو
راجہ بنے پال صدر مقام بٹھنڈہ نے اپنی لڑکی کا ناطہ دینا منظور کیا۔ مہورت پر راجہ
بجے راج بھٹی صدر مقام بجنوت اک بڑی دھوم دھام تیرہ سو بھٹی کی بارات لے کر اپنے
فرزند دیواراج کو بیاہنے کیلئے بٹھنڈہ گیا۔ راجہ بنے پال بریاہ نے رات کو بمعہ تیرہ سو بھٹیوں کے راجہ بجے راج
کو تہ تیغ بی دریغ کردیا۔دیوراج بھاگ کر بابا رُت پنڈت کے ہاں جا چھپا۔ پنڈت رتن
نے اسے اپنا مہمان بنا کر اسے تلک دے دیا۔اور اس کے ساتھ کھانا کھا کر اسکی جان
بچائی ۔ گیروے کپڑے دے کر رات کو اسے راستہ لگا دیا ۔ کیونکہ نینوٹ اور بجنوت پر
بریاہوں کا قبضہ ہو چکا تھا ۔ اور اطلاع عام ہو چکی تھی ۔ کہ تیری والدہ گڑھ بھٹا
میں ہے۔ دیوراج گڑھ بھٹا گیا۔ والدہ نے نمک کے کر اپنے فرزند کے سر پر وار پانی میں
ڈالدیا۔ کہ خدا نمک کی طرح میرے لخت جگر کے دشمنوں کو ملیا میٹکردے۔
اب دیوراج نے اپنے ماموں
راجہ جیسل بھٹہ سے درخواست کی کہ چرسہ بھرز میں مجھے عطا کی جاوے یعنی کچھ زمین یا
علاقہ ۔ تاکہ میں گزر اوقات کر سکوں۔ راجہ نے وزیر سے دریافت کیا ۔ وزیر نے کہا اس
سے زیادہ نہ دی جاوے۔ ورنہ حملہ کر کے تمام اپنے ملک کو کسی دن تاخت و تاراج کریگا
۔ راجہ نے چرسہ بھر زمین منظور فرمائ۔ دیواراج نے بھینسے کی کھال کا باریک تسمہ کھینچ
کر ستلج تک تمام علاقہ شمالی ریگستان کا لے گیا۔ اور جس ککیا نامی معمار نے بھٹنڈہ
کا قلعہ تعمیر کیا تھا ۔ اور اپنے راجہ بنے پال بریاہ نے اسکے دونوں ہاتھ مورچوں
سے کٹوا دیئے تھے ۔ تاکہ یہ ایسا قلعہ دشمن کا تیار نہ کر دے۔ راجہ دیوراج نے اسی
ککیا معمار کو بلایا ۔ اور اس کی اچھی خدمت کی ۔ اس نے پانچ ماگھ بروز سوموار لکھ
نچھتر 909بکرم 852عیسوی کو دیوراج کے نام پر دیوراول گڑھ تیار کیا ۔ تاریخ سے ثابت
ہے کہ جب قلعہ تیار ہو رہا تھا تو دیوراج جنگل میں شکار کو گیا تو کیا دیکھتا ہے
اک ٹیلہ کے سہارے بابا رُت کا خیمہ لگ رہا ہے گیا اور گرو کے قدموں میں گرا۔گوروں
نے پشت پر ہاتھ پھیر کر دلاسا دیا۔ تو صبح شام گورو کی روٹی لا کر خدمت میں حاضر
ہوتا تھا۔ معلوم ہوا کہ گوروجی جنگل میں سے بوٹیاں تلاش کر کے کیمیا بناتے ہیں ۔ دیوراج
نے بھی عرض کی۔ اور طریقہ استعمال دیکھتا رہا۔ موقع تاڑ کر گورو صاحب کا تھیلا ہی
اڑا کر لے گیا۔ اور سونا بنا کر قلعہ کو نہایت مستحکم تیار کیا۔ گورو صاحب قلعہ میں
تشریف لائے اور فرمایا کہ گیروے کپڑے پہنکر کانوں میں مندریں ڈال کر اپنے ہی شہر
سے بھیک مانگ کر برے پیش کر حکم کی تعمیل کیمطابق دیوراج اشرفیوں کا تھیلا بھر کر
لایا۔ اور گورو کے پیش کیا۔اور بحکم گورو صاحب گیروا لباس زیب تن کرکے دیراول گڑھ
کی گدی پر زینت بخشی۔ اور فرمایا کہ ہر گدی نشین کے نام کے ساتھ راجہ کی جگہ مہاراول
رکھا کریں.اور گیروا لباس زیب تن کریں گے۔ کبھی بھی تمہاری یہ گدی چھن نا سکے گی۔
ابتک جیسلمیر کے راجگان مہاراول کے خطاب سے یاد کئے جاتے ہیں ۔اور بوقت تاجپوشی گیروا
لباس کیا جاتا ہے ۔ اور پگڑی میں تمام راجگان بھٹی گیروا رنگ کی نشانی رکھتے ہیں ۔
وزیر نے راجہ گڑھ بھٹا کو
اطلاع دی ۔کہ دیوراج نے ستلج کے جنوب کی طرف اک بڑا مضبوط قلعہ تیار کر لیا ہے۔ وہ
گزر اوقات نہیں کرنا چاہتا ۔ راجہ نے حکم دیا کہ قلعہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی
جائے۔ جب گڑھ بھٹا کی سپاہ دیوراج نے دیکھی کہ اس سپاہ سے لڑ نہیں سکتا تو حکمت
عملی کے سے کام لیا ۔ چابیاں اپنی والدہ کو دیں اور خط لکھ کر ماموں کو دیا کہ میں
قلعہ حوالے کرتا ہوں ۔ وزراء کو اندر بیجھ دیجئے۔ راجہ نے وزراء کو قلعہ دیراول میں
بیجھ دیا۔ دیوراج نے سب کو تلوار کے زور گھاٹ اتار دیا۔ اور لنگاہ قوم کی مدد سے
گڑھ بھٹہ پر فوجکشی کی ۔ اور راجہ جیسل پنوار سے صلح ہوئی ۔ لودردا کے راجہ لودردا
پنوار نے دیوراج کو اپنی بیٹی کا عقد کر دیا ۔راجہ نربھان رئیس لودردا پر بھی مدت
بعد دیوراج بارہ ہزار سوار لے کر لودردا پر معرکہ آراء ہؤا ۔ بارات کی بارات اور
جب قلعہ کے دروازہ میں داخل ہؤا۔ تو دیوراج نے تلوار سونت لی اور ملک لودردا پنواروں
سے چھین لیا ۔ یہ طریقہ دیوراج نے بریاہوں سے سیکھا۔ اب گڑھ بھٹا اور لودردا تمام
ریگستان دریائے ستلج تک قبضہ کر کے بے کھٹکے راج کرنے لگا۔ اور کافی سپاہ کے ساتھ
بریاہ نگر/بھٹنڈہ پر شبخون مارا بریاہوں سے ایسا بدلہ لیا کہ عورتوں کی چادریں تک
ننگی کر دیں۔ معلوم ہوا کہ بریاہ نگر راوی کنارے پر تھا۔اسجگہ چادر باندھنے کا
رواج ہے۔ اور لنگاہوں کی برات علی پور جا رہی تھی ۔ دیوراج نے حملہ کردیا ایک ہزار
لنگاہ قتل ہوا ۔ دیوراج نے دشمن اور دوست کی تمیز نہ کی ۔ اسلئے قائم نا رہ سکا۔اس
زمانے نے میں نربھان رئیس کابھائی بھائی برج بھان پنوار دھارنگری کا راجہ تھا ۔
تاجر جسکرن دیراول گڑھ سے دھار تجارت کےلئے گیا۔ برج بھان پنوار نے سب مال و دولت
چھین کر قید و بند میں بند کر دیا کہ تیرا راجہ تجھے میری قید سے چھڑائے گا۔ بڑی
منت سماجت سے جسکرن نے معافی چاہی۔ اور دیوراج کے نشان دکھلائے ۔ راجہ دیکھ کر اور
برج بھان پنوار کا طعنہ سن کر آگ بگولا ہؤا ۔ اور قسم کھائی کہ جب تک دھار کو فتح
نا کر لوں ۔ اس وقت تک دائیں ہاتھ سے کھانا نہ کھاؤنگا۔ اور جب مسافت دریافت تو
پنڈت سے حیلہ دریافت کیا ۔ پنڈت نے کہا کہ باہر جنگل میں ایک کاغذوں کی مصنوعی
دھار بنائی جاوے۔ اور اس پر قسم پوری کر کے کھانا کھاؤ بعد فوجکشی کریں ۔ حسب
معمول کاغذوں کی دھار بنائی گئی ۔ اور دیوراج نے ہاتھی پر سوار ہو کر بمعہ سپاہ
نقارہ بجا دیا۔ اس بات کی اطلاع پنواروں میں ہوگئی۔ راجہ سارنگ سی اور تیجسی پنواروں نے پانچسوں
سواروں کا دستہ لے لیا اور دھار کی حفاظت پر قائم ہوئے۔ اور جب دیوراج نے فوج آتی
دیکھی تو یہ دوہا کہہ کر سارنگ سی نے تلوار میان سے نکالی ۔
جہاں پنوار تھاں دھار
ہے
دھار جہاں ہو پنوار
دھار بناں پنوار نہیں
نہیں پنوار بن دھار
اس میدان کارزارِ میں بہادری
اور شجاعت سے دو سو پنوار کٹ مرے۔ مگر دھار پر آنچ نا آنے دی۔ اس بات کی بنا پر
کہتے ہیں کہ کاغذوں کی دھار دھات کی بن گئی تھی۔ دوسری طرف سے لنگاہوں نے فوجکشی
کر دی۔ اور دیوراج کو وہیں قتل کر دیا ۔ جنہوں نے اسکی سب سے پہلے اطاعتِ منظور کر
لی تھی۔ مگر دیوراج نے انکو بڑا تنگ کر رکھا تھا۔ بقایا بھی دیوراج سے ناخوش تھی اور ہمیشہ کے لیے دیوراج کی حکومت ختم ہوئی ۔
اور دیوراول گڑھ لنگاہوں کے قبضہ میں رہا اور باقی پنوار قابض ہوئے۔
وقائعہ راجھستان صفحہ
5 و ٹاڈ راجھستان
اسی جگہ کرنل ٹاڈ کی کتاب میں
دیوراج کے فرزند مونڈ کی اولاد قابض ہوئی۔ مگر یہ غلط ہے ۔ تاریخ ہندوستان کے صفحہ
39 پر ہے کہ 888بکرم مطابق 831عیسوی میں شمال مغرب سے آ کر جیسل نے بنیاد ڈالی ۔
سالباہن پور سے ستلج اور
گاڑھا ندیوں کو تاننوت دیراول اور جیسلمیر آباد کیا ۔ وقائعہ راجھستان صفحہ 30
اس کا مطلب یہ ہے کہ
مہاراول جیسل کے بزرگ شمال مغربی حصہ یعنی سالباہن پور سے 1831 میں اس لاکھی جنگل
میں آئے اور آہستہ آہستہ 1212بکرم مطابق 1155ء میں مہاراول جیسل نے جیسلمیر کی بنیاد
ڈالی.
بحوالہ کتاب: تواریخ
گلشن راجپوت و نور التواریخ بھٹی راجپوت
مصنف: مولانا نور محمد
خاں پنوار راندو (املی موتی)
تحریر: رانا ذیشان خاں
پنوار راندو
*فاونڈر: کھشتریہ
راجپوت مہا سبھا پاکستان
راجپوت ہسٹری ریسرچ انٹرنیشنل
بانی: پنجابی راجپوت بیٹھک
بانی: پنوار راجپوت
اتحاد انٹرنیشنل
سینئر ممبر: پنوار
راجپوت یونین انٹرنیشنل
#samrat #jaymaharanapratap
#haldighati_rajsthan
#the_king_of_randu_rajput_parmar #دیرراول_گڑھ
#دیوراج_بھٹی #jaisalmer #rajputana #rajputanaculture
Masha Allah great work
ReplyDelete